1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

بھارت: قلی کی پانچ نوکریاں اور سینکڑوں گریجویٹ امیدوار

بھارت کے مغربی صوبہ مہاراشٹر میں قلی (حمّال) کی ملازمت کے لیے تقریباً ایک ہزار گریجویٹس نے بھی درخواستیں دی ہیں حالانکہ اس کے لیے صرف چوتھا درجہ پاس ہونا ضروری ہے۔

مہاراشٹر پبلک سروس کمیشن (ایم پی ایس سی) کے سیکرٹری راجندر مانگرولکر کا کہنا ہے، ’’ہم نے حمّال کی پانچ پوسٹوں کے لیے درخواستیں طلب کی تھیں، جس کے جواب میں ہمیں 2424 درخواستیں موصول ہوئیں، جن میں 984 گریجویٹس، 253 پوسٹ گریجویٹس، 109 ڈپلوما ہولڈرز، 9 پوسٹ گریجویٹ ڈپلوما ہولڈر اور پانچ ایم فل (ماسٹر آف فلاسفی) شامل ہیں جب کہ اس پوسٹ کے لیے امیدوار کا محض چوتھا درجہ پاس ہونا ضروری ہے۔‘‘

DW.COM



ایم پی ایس سی نے گزشتہ برس دسمبر میں پانچ قلیوں کے لیے اخبارات میں اشتہارات دیے تھے، جس کے جواب مبینہ درخواستیں موصول ہوئی ہیں۔ 18 تا33 برس عمر کے ان امیدواروں کا تحریری امتحان اگست میں ہوگا اور پانچ کامیاب امیدواروں کو ماہانہ تیرہ، چودہ ہزار روپے (تقریباً207 ڈالر) تنخواہ پر ملازمت پر رکھا جائے گا۔ مانگرولکر کی پریشانی یہ ہے کہ تقریباً ڈھائی ہزار امیدواروں میں سے پانچ ' سب سے اہل‘ امیدواروں کا انتخاب کیسے کیا جائے۔

مانگرولکر کے بقول، ’’بالعموم اس پوسٹ کے لیے معمولی انٹرویو اور جسمانی فٹنس کا ٹیسٹ لیا جاتا ہے لیکن اتنے زیادہ امیدواروں کا انٹرویو لینا واقعی مشکل کام ہے اور یہ کہ اتنے ڈھیر سارے بہت زیادہ تعلیم یافتہ امیدواروں کا درخواست دینا اس بات کا مظہر ہے کہ نوجوانوں میں محفوظ ملازمت کے تئیں بے چینی کی کیا کیفیت ہے۔‘‘

یہ پہلا موقع نہیں ہے جب بھارت میں کسی معمولی ملازمت کے لیے اتنی زیادہ تعداد میں اعلی تعلیم یافتہ لوگوں نے درخواستیں دی ہوں۔ گزشتہ برس ملک کی سب سے بڑی ریاست اتر پردیش میں سیکرٹریٹ میں چپڑاسی کے 368 پوسٹوں کے لیے تیئس لاکھ سے زیادہ امیدواروں نے درخواستیں دی تھیں۔ ان میں تقریبا دو لاکھ انجینئرز اور255 پی ایچ ڈی بھی شامل تھے، جب کہ کامرس، ہیومنٹیز اور سائنس میں ماسٹر ڈگری رکھنے والوں کی تعداد ہزاروں میں تھی۔

Indien Weltfrauentag

بھارت میں قلی کو ماہانہ چودہ تا پندرہ ہزار روپے تک تنخواہ ملتی ہے

اترپردیش کی آبادی 21.5 کروڑ ہے، گویا ہر 93 ویں فرد نے چپڑاسی کے پوسٹ کے لیے درخواست دی تھی ، جس کے لیے ماہانہ تنخواہ بیس ہزار روپے ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اس پوسٹ کے لیے کم از کم تعلیمی لیاقت پانچویں پاس ہے۔

بھارتیہ جنتا پارٹی کی حکومت والی وسطی ریاست چھتیس گڑھ میں بھی جب چپڑاسی کی 30 پوسٹوں کے لیے درخواستیں طلب کی گئیں تو پچھتر ہزار سے زیادہ امیدواروں کی درخواستیں موصول ہوئیں، جن میں سائنس اور انجینئرنگ کے گریجویٹ اور ماسٹر ڈگری کے حامل افراد بھی تھے۔

اسی طرح اتر پردیش کے امروہہ قصبہ میں خاکروب (صفائی ملازم) کی 114 پوسٹوں کے لیے ایم بی اے اور بی ٹیک کی ڈگری رکھنے والوں نے بھی درخواستیں دی تھیں حالانکہ اس کے لیے کسی تعلیمی صلاحیت کی ضرورت نہیں ہے۔ صفائی ملازمین کو ماہانہ سترہ ہزار روپے تنخواہ ملتی ہے۔

صوبہ پنجاب کے بھٹنڈہ ضلع عدالت میں چپڑاسی کی 19پوسٹوں کے لیے ساڑھے آٹھ ہزار درخواستیں آئیں، ان میں بھی ایم فل، ایم ایس سی اور بی ٹیک کی ڈگری رکھنے والوں کی تعداد خاصی تھی۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یوں تو بھارت دنیا کی تیز ترین ابھرتی ہوئی معیشت ہے، جہاں مالی سال2016 میں ترقی کی شرح 7.6 فیصد رہی، جو چین کے مقابلے زیادہ ہے تاہم اتنے اعلی تعلیم یافتہ افراد کی طرف سے بھی معمولی پوسٹوں پر ملازمت کی خواہش بھارت میں بے روزگاری کی سنگینی کا پتہ دیتی ہے۔

سن 2011 کی مردم شماری کے مطابق ملک میں بے روزگار افراد کی تعداد 85 ملین تھی جو 2019ء میں 100ملین تک پہنچ جانے کا خدشہ ہے۔

نارتھ ایسٹرن ہل یونیورسٹی میں پروفیسر پرسنجیت بسواس کہتے ہیں کہ اعلی ڈگریاں جاب مارکیٹ میں بے معنی ثابت ہو رہی ہیں کیوں کہ حکومت ملک میں اعلی اور جدید ترین سائنسی اور پیشہ ورانہ انفرااسٹرکچر قائم کرنے میں ناکام رہی ہے۔

Narendra Modi

مودی کی حکومت ملک میں اعلی اور جدید ترین سائنسی اور پیشہ ورانہ انفرااسٹرکچر قائم کرنے میں ابھی تک ناکام رہی ہے

لکھنئو میں ’انڈین انسٹی ٹیوٹ آف مینجمنٹ‘ کے معاشیات کے پروفیسر سنجے سنگھ کہتے ہیں کہ آج کی اقتصادی دنیا میں ’اسکل نالج‘ کے بغیر ملازمت کا حصول بہت مشکل ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ یوں تو بھارت میں پرائیوٹ سیکٹر میں ملازمت کی کوئی کمی نہیں ہے لیکن یونیورسٹیوں کے ڈگری یافتہ افراد کو اس لیے ملازمت نہیں مل پاتی کیوں کہ رسمی تعلیمی کے باوجود ان کے اندر ’اسکل‘ کی کمی ہے اور پریشانی کی اصل وجہ یہی ہے۔

سن دو ہزار چودہ اور پندرہ کے اکنامک سروے کی رپورٹ کے مطابق بھارت میں ہنرمند افرادی قوت کی تعداد صرف دو فیصد ہے، جو بہت سے ترقی پذیر ملکوں کے مقابلے میں انتہائی کم ہےجب کہ چین میں یہ تناسب 47 فیصد، جاپان میں 80 فیصد اور جنوبی کوریا میں 96 فیصد ہے۔