1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

فن و ثقافت

بھارت: قبرستانوں کے لئے مختص زمین کی عدم دستیابی

بھارتی شہروں میں دن بہ دن آبادی بڑھتی جارہی ہے، جس کی وجہ سے لوگوں کے لئے مختلف مقاصد کے لئے زمین کا حصول مشکل ہوگیا ہے۔

default

ملک کے 185 ملین مسلمانوں اور مسحییوں کو یہ خدشہ ہے کہ وہ اپنے عزیزواقارب کو دفنانے کے لئے نئے قبرستان نہیں بنا سکیں گے کیونکہ شہروں میں اس مقصد کے لئے قطعہ اراضی حاصل کرنا انتہائی دشوار ہوگیا ہے۔

آل انڈیا امام ایسوسی ایشن کے چیئرمین عمر احمد الیاسی کا کہنا ہے کہ بھارت میں آپ کہیں بھی چلے جائیں آپ کوقبرستان بھرے ہوئے نظر آئیں گے۔ اُن کے مطابق یہ صورتِ حال صرف ممبئی، نئی دہلی اور کولکتہ جیسے بڑے شہروں کی ہی نہیں ہے بلکہ چھوٹے قصبوں میں بھی یہ مسئلہ اب شدت اختیار کرتا جارہا ہے۔ اِس مسلم رہنما کا کہنا ہےکہ بھارتی حکومت اِس مسئلے کو کئی عشروں سے نظر انداز کر رہی ہے۔

Indien, Mumbai, Frauen waschen Wäsche im Slum

بھارت میں 'وقف' کی پچاس فیصد زمین پر تجاوزات قائم ہیں

بھارت کے اکثر شہروں میں قبرستانوں کے لئے سرکاری طور پر مختص کی جانے والی زمینیں کم پڑتی جارہی ہیں اور اب لوگ اپنی مدد آپ کے تحت غیرآباد علاقوں میں قطعہ اراضی خرید کر اُسے قبرستان کے طور پر استعمال کر رہے ہیں۔

نئی دہلی کے ایک مسلمان رہائشی محمد عارف نے 2008ء میں اپنے بہن بھائیوں کے ساتھ مل کر ایسا ہی ایک قطعہ اراضی خریدا، جسے اب قبرستان کے طور پر استعمال کیا جارہا ہے۔ عارف کا کہنا ہے کہ کچھ عرصے پہلے جب ان کا ایک بھتیجا ایک حادثے میں جاں بحق ہوا، تو انہیں اپنے بھتیجے کی لاش کو ایک مقامی قبرستان میں دفنانے میں بہت مشکل کا سامنا کرنا پڑا تھا کیونکہ قبرستان میں خالی جگہ نہ ہونے کے برابرتھی۔ عارف کا کہنا ہے کہ مستقبل میں ایسی صورتِ حال سے نمٹنے کے لئے اُس نے یہ قطعہ اراضی خریدی۔

مسلم کمیونٹی کے لئے دی جانے والی جائیداد جسے 'وقف' کہا جاتا ہے پر کئی علاقوں میں غیر قانونی قبضہ ہے یا ان پر تجاوزات قائم ہیں۔ 2008ء میں 'وقف' پر ایک سرکاری رپورٹ جاری ہوئی، جس کے مطابق 'وقف' کی پچاس فیصد زمین پر تجاوزات قائم ہیں۔

بھارتی پارلیمنٹ کے ایک مسلمان رکن رحمان خان کے مطابق 'وقف' کی اِن زمینوں پر اسکول، حکومتی دفاتر اور ہوٹل قائم کر لئے گئے ہیں۔ اُن کا کہنا ہے کہ اگر حکومت مسلمانوں کو قبرستانوں کے لئے نئی زمین نہیں دے سکتی، تو کم از کم 'وقف' کی یہ زمینیں ہی واپس کر دے تاکہ مسلمان کمیونٹی اِن پر قبرستان قائم کر لے۔

دنیا بھر کے مسیحییوں کی طرح بھارتی مسیحی بھی اب مردے کو دفنانے کی بجائے ہندوؤں کی طرح جلانے پر ترجیح دے رہے ہیں۔ تاہم دہلی کی قبرستان کمیٹی کے چیئرمین فادر رابیلو کا کہنا ہے کہ بہت سے مسیحی دفنانے کی رسم کو ترک کرنا نہیں چاہتے۔فادر رابیلو کا کہنا ہے کہ بہت سے مسیحی ایک ہی قبرکو اپنے گھرانے کے دوسرے افراد کے لئے بھی استعمال کر رہے ہیں۔ ایک قبر میں زیادہ سے زیادہ چار افراد کو دفنایا جا سکتا ہے۔

رابیلو کے مطابق مسیحی رہنما ِچتا جلانے کی رسم کو فروغ دینے میں کوشاں ہیں۔ حال ہی میں ایک مذہبی رہنما کی بھی چتا جلائی گئی تاکہ لوگوں کو اس عمل کی طرف راغب کیا جاسکے، تاہم اس سلسلے میں مسیحی رہنما لوگوں کو مجبور نہیں کر سکتے۔

رپورٹ: عبدالستار

ادارت: افسر اعوان