1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

بھارت: فیس بک کا ’فری بیسکس‘ پروگرام بند

بھارت کے ٹیلی کام ریگولیٹر کے ایک فیصلے کے بعد فیس بک کو بھارت میں اربوں افراد کو مفت انٹرنیٹ کنکشن دینے کا اپنا متنازع پروگرام بند کرنا پڑا ہے۔ اسے فیس بک کے لیے بڑا دھچکا قرار دیا جا رہا ہے۔

یوں تو’فری بیسکس (free basics)کا بند ہونا گزشتہ پیر کو اُسی وقت طے ہوگیا تھا جب ٹیلی کام ریگولیٹری اتھارٹی آف انڈیا (ٹی آر اے آئی) نے کئی ماہ سے جاری اس تنازعے میں نیٹ نیوٹریلٹی کے حق میں فیصلہ سنایا تھا۔ تاہم فیس بک نے اپنے فیصلے کا باضابطہ اعلان آج جمعرات کو کیا۔ فیس بک کے ترجمان نے ایک بیان میں کہا کہ ’فری بیسکس‘ اب بھارت کے لوگوں کے لئے دستیاب نہیں ہے‘۔ بھارت میں یہ سروس ریلائنس کمیونیکیشن (آر کام)کے ذریعے دستیاب تھی لیکن حکومتی ہدایت پر آرکوم نے دسمبر میں ہی یہ سروس عارضی طور پر بند کردی تھی۔

اس معاملے نے کل اس وقت ایک نئے تنازعے کی صورت اختیار کر لی، جب حکومتی فیصلے پر تنقید کرتے ہوئے فیس بک کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کے ایک رکن مارک اینڈریسین نے ٹوئٹ کیا کہ بھارت کا یہ فیصلہ درست نہیں ہے اور اگر وہ برطانوی حکومت کی ماتحتی میں رہتا تو اس کی حالت کہیں زیادہ بہتر ہوتی۔ مارک نے مزید لکھا کہ نوآبادیات کی مخالفت کے سبب بھارتی شہریوں کو دہائیوں تک اقتصادی نقصان ہوا لیکن اب بھی اسے کیوں روکا جارہا ہے۔

اس ٹوئٹ پرب ھارت میں سخت ردعمل ہوا۔ گوکہ مارک نے اپنا ٹوئٹ ڈیلیٹ کر دیا اور ایک دیگر ٹوئٹ میں معذرت طلب کرتے ہوئے لکھا کہ میں بھارت ہی نہیں بلکہ کسی بھی ملک میں نوآبادیات کے خلاف ہوں۔ لیکن معاملہ اس وقت تک ہاتھ سے نکل چکا تھا اور مارک کے پہلے ٹوئٹ کے اسکرین شاٹ کو ری ٹوئٹ کرنے کا سلسلہ جاری رہا۔ سوشل میڈیا پر فیس بک کے خلاف غصہ اور ناراضی کا لامتناہی سلسلہ شروع ہوگیا جسے دیکھتے ہوئے فیس بک کے سی ای او مارک زوکر برگ نے دیر رات ٹوئٹ کر کے معافی مانگی اور لکھا ’’میں بھارت کے سلسلے میں اینڈریسین کے ٹوئٹ کے لئے معافی مانگتا ہوں، میں اور فیس بک کوئی بھی اس کی تائید نہیں کرتے۔ میں بھارت کو پسند کرتا ہوں اور فیس بک کی بھی یہی سوچ ہے۔ بھارت آکر ہی میں انسپائر ہوا تھا، مجھے جمہوریت نے کافی متاثر کیا۔ میں بھارت سے مضبوط رشتوں کی دعا کرتا ہوں۔‘‘

فیس بک نے ’فری بیسکس اسکیم‘ کو نافذ کرنے کے لئے ریگولیٹری اتھارٹی آف انڈیا پر کافی دباو ڈالا تھا اور اپنی اس اسکیم کے حق میں پٹیشن پر دستخط کی ایک مہم بھی چلائی تھی۔ اس کے لئے اخبارات اور ٹیلی ویژن پر بڑے بڑے اشتہارات بھی دیے گئے تھے، جس پر تقریباﹰ تین سو کروڑ روپے خرچ کیے گئے۔ فیس بک کی دلیل تھی کہ وہ ’فری بیسکس‘ کے ذریعے عام بھارتی شہریوں تک کسی چارج کے بغیر انٹرنیٹ کی سہولت پہنچانا چاہتے ہیں۔ لیکن اس کے ناقدین کا کہنا تھاکہ یہ غیر جانبداری کے اصولوں کی نفی کرتی ہے کیوں کہ انٹرنیٹ فراہم کرنے والی کمپنیوں کو مخصوص سائٹس تک رسائی کے بجائے تمام سائٹس تک رسائی فراہم کرنی چاہئے۔
ٹرائی نے اپنے فیصلے میں فیس بک کے دلائل کو مسترد کردیا اور انٹرنیٹ کی آزادی کو مقدم رکھتے ہوئے تفریق پر مبنی ڈیٹا سروس پر پابندی عائد کرنے کا اعلان کرتے ہوئے اس ضابطہ کی خلاف ورزی کرنے والی کمپنی پر پچاس ہزار روپے سے لے کر پچاس لاکھ روپے تک کا جرمانہ عائد کرنے کا حکم دیا۔ انٹرنیٹ کی غیر جانبداری کی لڑائی لڑنیوالوں نے اس فیصلے کو اپنی جیت قرار دیا۔ ٹیلی کام کمپنیاں صرف ڈیٹا کے لئے چارج وصول کرسکیں گی۔ دراصل فیس بک اور ایر ٹیل جیسی کمپنیاں دو طرح کی انٹرنیٹ سروس دینے کی کوشش ک ررہی تھیں۔ ایک مفت اور دوسرا قیمتاﹰ۔ جسے صارفین کے ساتھ امتیازی سلوک قرار دیا جارہا تھا اور انٹرنیٹ کی آزادی پر ہی سوالات اٹھائے جانے لگے تھے۔

بھارت کی حکمراں جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی اور اپوزیشن کانگریس دونوں نے ہی ٹرائی کے فیصلے کا خیرمقدم کیا۔ دریں اثناء بھارتی پارلیمان میں نیٹ نیوٹریلیٹی کا معاملہ اٹھانے والے اپوزیشن ترنمول کانگریس کے رکن پارلیمان ڈیرک اوبرائن کا کہنا ہے کہ ٹرائی نے گوکہ فیس بک کی اسکیم کو باضابطہ بند کردیا لیکن کسی کو اس خوش فہمی کا شکار نہیں ہونا چاہئے کہ مسئلہ حل ہوگیا ہے یا جنگ ختم ہوگئی ہے۔کیوں کہ یہ معاملہ صرف فری بیسکس یا فیس بک کا نہیں بلکہ انٹرنیٹ کی آزادی سے جڑا ہوا ہے۔ یہ لڑائی بڑی ٹیلی کام کمپنیوں کی طرف سے صارفین کے لئے امکانات کو محدود کر دینے کے ممکنہ خطرات کے خلاف بھی ہے۔ انہوں نے متنبہ کیا کہ اس شور شرابے میں اصل نکتہ گم نہ ہونے پائے کیوں کہ خطرہ صرف کیلفورنیا میں واقع فیس بک سے ہی نہیں بلکہ بھارت میں موجود اور بھارتی شہریوں کی ملکیت والی بڑی ٹیلی کام کمپنیوں سے بھی ہے۔
خیال رہے کہ بھارت میں انٹرنیٹ استعمال کرنے والوں کی تعدادتقریباﹰ 500 ملین ہے۔ ستر فیصد افراد موبائل فون کے ذریعے انٹرنیٹ استعمال کرتے ہیں اور 1.25 بلین کی آبادی میں ایک بلین افراد کے پاس موبائل فون ہے، جس میں ہر ماہ دو تا تین ملین کا اضافہ ہو رہا ہے۔