1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

فن و ثقافت

بھارت: فلمی دنیا میں حکومتی مداخلت بڑھتی ہوئی

بھارت میں بین الاقوامی فلمی میلے ( آئی ایف ایف آئی ) کی جیوری کے سربراہ اپنی ذمہ داریوں سے الگ ہو گئے ہیں۔ انہوں نے یہ فیصلہ نئی دہلی حکومت کی جانب سے فلم فیسٹیول میں شامل دو فلموں کو خارج کرنے کے بعد کیا۔

بھارتی فلموں کے ڈائریکٹر سجوئے گھوش نے تصدیق کر دی ہے کہ وہ آئی ایف ایف آئی فلمی میلے کی جیوری کی سربراہی سے مستعفی ہو گئے ہیں۔ گھوش نے اپنے اس فیصلے پر کسی قسم کا تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا ہے۔ اطلاعات و نشریات کی وزارت کی جانب سے اس میلے میں شامل فلموں کے حوالے سے نو نومبر کو ایک فہرست جاری کی گئی تھی، جس میں دو فلموں کو مقابلے کی دوڑ سے باہر نکال دیا گیا تھا۔

ان میں سے ایک ڈائریکٹر ایس کے ساسیدھرن کی ’ ایس دُرگا‘ اور روی یادیو کی ’نیوڈ‘ شامل ہیں۔ ساسیدھرن نے اپنے فیس بک پیج پر لکھا فلم کو فہرست سے نکال دینا ایک ظالمانہ اقدام ہے اور یہ آزادی اظہار کے خلاف ہے۔  اس فلم کی کہانی ایک ایسے جوڑے کے تجربے  کے گرد گھومتی ہے، جنہوں نے در مردوں سے لفٹ لی تھی۔ یہ فلم اس سے قبل کئی ایوارڈز جیت بھی چکی ہے۔

بھارتی فلموں کو نمائش کے لیے اجازت یا سند جاری کرنے والے بورڈ نے بھی اس فلم کے کچھ مناظر ہٹانے کے بعد اسے سرٹیفیکیٹ جاری کر دیا تھا۔ اس وجہ سے اس فلم کا نام سیکسی درگا سے بدل کر ایس درگا رکھا گیا۔

نیا سنسر بورڈ، ’پی کے‘ جیسی فلموں کے لیے خطرے کی گھنٹی

لپ اسٹک انڈر مائی برقعہ ، عورت کے جنسی انحراف کی کہانی

متنازعہ بھارتی فلم پر تین ریاستوں میں پابندی عائد

یادیو کی فلم کی کہانی ایک ایسی خاتون سے متعلق ہے، جو فنکاروں کے لیے ماڈل کا کام کرتی ہے۔ اس فیصلے پر انہوں نے کہا، ’’مجھے کم از کم کوئی وجہ تو بتائی جائے۔ میری فلم سے تو اس میلے کا افتتاح ہونا تھا،جو میرے لیے اعزاز کی بات ہے‘‘۔ انہوں نے مزید کہا کہ انہیں اس فیصلے پر بہت ہی افسوس ہوا ہے۔

بھارتی فلم سرٹیفیکیشن بورڈ کے ایک رکن ونی تراپاتی نے کہا، ’’حکومت کے پاس انڈین پینوراما کے لیے فلموں کو نمائش کے لیے پیش کرنے یا انہیں مسترد کرنے کا اختیار ہے۔‘‘

آئی ایف ایف آئی میلے کے پینوراما حصے میں چھبیس فلمیں شامل ہیں۔ یہ فلمی میلہ بیس نومبر سے گوا میں شروع ہو رہا ہے اور اس موقع پر جیوری کے سربراہ کے مستعفی ہونے سے انتظامیہ کے لیے پریشانیاں بڑھ گئی ہیں۔ ذرائع کے مطابق بھارتی حکومت کی سنسر شپ پالیسی کے حوالے سے فلمی حلقوں میں شدید غصہ پایا جاتا ہے۔

DW.COM