1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

بھارت فرانسیسی لڑاکا طیارے خریدے گا، ڈیل پر دستخط ہو گئے

بھارت نے فرانس سے رفائیل طرز کے چھتیس جنگی طیارے خریدنے کی ڈیل پر باضابطہ طور پر دستخط کر دیے ہیں۔ 8.8 بلین ڈالر کا یہ معاہدہ بھارت میں عشروں بعد عسکری نوعیت کا سب سے بڑا سودا قرار دیا جا رہا ہے۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی نے بتایا ہے کہ بھارتی اور فرانسیسی وزرائے دفاع نے تئیس ستمبر بروز جعمہ اس اہم ڈیل پر اپنے دستخط ثبت کیے۔ کئی برسوں کے مذاکرات کے بعد یہ ڈیل ممکن ہو سکے ہے۔ اس سلسلے میں آج بروز جمعہ نئی دہلی میں ایک تقریب کا اہتمام کیا گیا، جس میں شرکت کے لیے فرانسیسی وزیر دفاع ژاں ایو لے دریاں خصوصی طور پر بھارت گئے تھے۔

اس تقریب کے بعد لے دریاں نے صحافیوں سے گفتگو کے دوران کہا، ’’آپ اسی وقت سو فیصد تیقن کے ساتھ کچھ کہہ سکتے ہیں جب (ایسی ڈیل پر) دستخط کر دیے جائیں۔ اور آج یہی ہوا ہے۔‘‘ فرانسیسی صدر فرانسوا اولانڈ نے اس ڈیل کو فرانسیسی ایوی ایشن صنعت کی ترقی کا ایک منہ بولتا ثبوت قرار دیا ہے۔

اولانڈ نے کہا کہ دراصل اس ڈیل کو حتمی شکل دیتے ہوئے ایک اہم عسکری طاقت (بھارت) نے فرانسیسی ایوی ایشن صنعت کی آپریشنل پرفارمنس، تیکنیکی معیار اور ہنر مندی کا اعتراف کیا ہے۔

فرانسیسی کمپنی داسو ایوی ایشن اور نئی دہلی حکومت کے مابین ابتدائی طور پر 126 رفائیل لڑاکا طیاروں کی فروخت کا ایک منصوبہ زیر بحث آیا تھا تاہم تین سالوں کے مذاکرات کے بعد ان جنگی طیاروں کی تعداد کم کر دی گئی تھی۔ تاہم پھر بھی گزشتہ کئی دہائیوں کے دوران بھارت نے عسکری نوعیت کی یہ سب سے بڑی ڈیل طے کی ہے۔

دفاعی تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ ان جدید طرز کے جنگی طیاروں کے باعث بھارت کی فضائیہ میں بہتری آئے گی، جو ابھی تک روسی ساخت کے MiG-21 طیارے استعمال کر رہی ہے۔ ان روسی طیاروں کو ان کے سیفٹی ریکارڈ کے باعث ’اڑتے تابوت‘ بھی کہا جاتا ہے۔

تاہم دوسری طرف رفائیل لڑاکا طیارے انتہائی جدید طرز کے ہیں، جو آج کل شام اور عراق میں اتحادی افواج اسلامک اسٹیٹ کے جہادیوں کے خلاف بھی استعمال کر رہے ہیں۔

Flugzeug Dassault Rafale

فائیل لڑاکا طیارے انتہائی جدید طرز کے ہیں، جو آج کل شام اور عراق میں اتحادی افواج اسلامک اسٹیٹ کے جہادیوں کے خلاف بھی استعمال کر رہے ہیں

بھارتی سیاسی و دفاعی تجزیہ نگاروں کے مطابق بھارت کو ہمسایہ ملک چین کی طرف سے دفاعی صلاحیتوں میں اضافے کے جواب کے طور پر اور اپنے روایتی حریف ملک پاکستان سے بڑھتی کوئی کشیدگی کے باعث اپنی دفاعی صلاحیتوں کو بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔

دوسری طرف کچھ ناقدین کے مطابق اس ڈیل کے باعث خطے میں ہتھیاروں کے حصول کی دوڑ میں تیزی آ جائے گی۔