1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

بھارت: ’غیر شادی شدہ خواتین بھی اسقاط حمل کروا سکیں گی‘

بھارتی حکومت نے اسقاط حمل قانون میں ایک اہم ترمیم کی تجویز پیش کی ہے، جس کے تحت ان چاہے حمل کی صورت میں اب غیر شادی شدہ خواتین بھی اسقاط حمل کروا سکیں گی۔

یہ تجویز بھارتی وزارت صحت کی جانب سے پیش کی گئی ہے، جسے عنقریب ہی وزیر اعظم مودی کی کابینہ اور پارلیمان سے ضروری منظوری مل جانے کی امید ہے۔ بھارت میں موجودہ میڈیکل ٹرمینیشن آف پریگنینسی(ایم ٹی پی) قانون صرف ایسی خواتین کو اسقاط حمل کروانے کی اجازت دیتا ہے، جو شادی شدہ ہوں اور یہ کسی تسلیم شدہ ڈاکٹر کی طرف سے باضابطہ اور پختہ تصدیق کے بعد ہی کروایا جا سکتا ہے۔1971ء  کے مذکورہ قانون کے تحت کوئی حاملہ خاتون جنین میں کسی سنگین بیماری کی صورت میں ہی اسقاط حمل کروا سکتی ہے تاہم اس کے لئے بیس ہفتے (تقریباً پانچ ماہ )کا حمل ہونا ضروری ہے۔ نئے قانون میں اس مدت کو بڑھا کر 24 ہفتے کرنے کی تجویز  دی گئی ہے۔

وزارت صحت کے ایک اعلیٰ افسر کا مجوزہ قانون کے حوالے سے کہنا تھا کہ ’بھارت میں نا مناسب طریقوں سے اور غیر تربیت یافتہ افراد کے ذریعے اسقاط حمل کروانے کے سبب بڑی تعداد میں خواتین موت کے منہ میں چلی جاتی ہیں۔ وزارت صحت کے افسر کا مزید کہنا تھا کہ’’ہم ان ترامیم کو جلد از جلد نافذ کرنا چاہتے ہیں۔ ہم نے اس معاملے سے وابستہ مختلف فریقین کے ساتھ صلاح و مشورے کیے ہیں اور ہمارا خیال ہے کہ کوئی عورت خواہ وہ شادی شدہ ہو یا غیر شادی شدہ اسے اسقاط حمل کرانے کا فیصلہ خود کرنے کا اختیار حاصل ہونا چاہئے۔‘‘

اسقاط حمل: عورت کو انتخاب کا حق، لیکن کب؟

ان بیاہی ماؤں کی غیر قانونی ’بچہ مارکیٹ‘ میں بڑھتی مانگ
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق بھارت میں ہر سال تقریباﹰ ستر لاکھ خواتین اسقاط حمل کرواتی ہیں اور ان میں سے صرف پچاس فیصد ہی محفوظ طریقے سے ہوتے ہیں۔ اسقاط کے دوران غیر محفوظ طریقوں کے استعمال کے سبب کئی طرح کی پیچیدگیاں پیدا ہو جاتی ہیں اور ہر سال ان میں سے تقریباً آٹھ فیصد خواتین موت کے منہ میں چلی جاتی ہیں۔
خواتین کے حقوق کے لئے سرگرم تنظیموں کا کہنا ہے کہ ماں بننے یا نہ بننے کا فیصلہ کرنے کا اختیار عورتوں کو حاصل ہونا چاہیے۔ اس کے علاوہ اسقاط حمل پر پابندی کی وجہ سے عورتوں کو اسقاط کے لئے غیر قانونی طریقے اپنانے پڑتے ہیں، جس سے ان کی جان خطرے میں رہتی ہے۔ طبی قوانین کے ماہرین کا بھی خیال ہے کہ اسقاط حمل کے لئے قانونی مدت میں توسیع کرنا ضروری ہے کیوں کہ جنین میں کسی نقص کا پتہ اٹھارہ ہفتے کے اواخر میں ہی چل پاتا ہے۔ ممکنہ والدین کو کوئی فیصلہ کرنے کے لئے صرف دو ہفتے کا وقت مل پاتا ہے اور اتنی کم مدت میں ان کے لئے نیز ڈاکٹروں کے لئے بھی حاملہ خاتون کی مدد کرنے کا فیصلہ کرنا مشکل ہوتا ہے۔
خواتین کے جنسی اور تولیدی حقوق کے لئے سرگرم بین الاقوامی غیر سرکاری تنظیم آئی پی اے ایس ڈیولپمنٹ فاونڈیشن کے بھارت میں سربراہ ونوج ماننگ نے مجوزہ قانون کو بھارت کی بھارتیہ جنتا پارٹی حکومت کا ایک انقلابی قدم قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے خواتین کو اسقاط حمل کا قانونی اور محفوظ متبادل فراہم ہوجائے گا۔ اس سے غیر شادی شدہ خواتین یا عصمت دری کی شکار یا ان عورتوں کو، جو کسی وجہ سے بچے کو جنم نہیں دینا چاہتی ہیں، ذہنی طور پر راحت ملی گی۔ وہ طعنہ زنی سے بچ جائیں گی اور سماج میں عزت کے ساتھ رہ سکیں گی۔ ونوج ماننگ نے امید ظاہر کی کہ حکومت اس بل کو جلد ہی پارلیمنٹ سے منظور کروا لے گی۔

DW.COM