بھارت: عام بجٹ میں کسانوں اور دیہی علاقوں پر خاص نظر عنایت | حالات حاضرہ | DW | 29.02.2016
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

بھارت: عام بجٹ میں کسانوں اور دیہی علاقوں پر خاص نظر عنایت

بھارتی وزیر خزانہ ارون جیٹلی نے نریندر مودی حکومت کا تیسرا عام بجٹ آج انتیس فروری کو پیش کیا جس میں کئی ریاستوں کے آئندہ اسمبلی انتخابات کے مدنظر رکھتے ہوئے کسانوں اور دیہی علاقوں کی ترقی پر خصوصی توجہ دی گئی ہے۔

ارون جیٹلی نے عام بجٹ میں کسانوں اور دیہی علاقوں پر خاص نظر عنایت کی ہے۔ انہوں نے اپنی بجٹ تقریر میں بھارت کے ایک سو بیس ملین کسانوں کو ملک کی معیشت کے لئے ریڑھ کی ہڈی قرار دیتے ہوئے کہا کہ حکومت نے دیہی ترقی کے لئے بجٹ میں 12.7بلین ڈالر اور خط افلاس سے نیچے زندگی گزارنے والے خاندانوں کی خواتین کو ایل پی جی کنکشن فراہم کرنے کے لئے بیس بلین روپے مختص کئے ہیں، جس سے دیہی علاقوں میں لاکھوں گھروں میں کھانا پکانے کی گیس فراہم کی جائے گی۔

اس کے علاوہ پسماندہ طبقات سے تعلق رکھنے والی خواتین کے کاروبار کے لئے خصوصی فنڈز کا بھی اعلان کیا گیا ہے۔ حکومت نے دیہی روزگار اسکیم، فصلوں کے لئے بیمہ پروگرام، دیہی علاقوں میں سڑکوں کی تعمیر اور انٹرنیٹ کی رسائی کو بڑھانے کے لئے بھی کافی فنڈز مختص کئے ہیں۔ مسٹر جیٹلی نے اگلے پانچ برسوں میں کسانوں کی آمدنی کو دوگنا کر دینے کا بھی وعدہ کیا، جب کہ اگلے دو سال میں ملک بھر کے تمام دیہات میں بجلی پہنچانے کا وعدہ بھی کیا گیا۔ خیال رہے کہ بھارت کو آزادی ملنے کے انہتر سال گزر جانے کے بعد بھی ملک کے تقریباََ اٹھارہ ہزار گاوں بجلی سے محروم ہیں۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ زرعی سیکٹر اور دیہی علاقوں پر حکومت نے یہ نظر کرم اس لئے نہیں کی ہے کہ ملک کی دو تہائی آبادی دیہی علاقوں میں رہتی ہے اور گزشتہ دو برسوں کے دوران کم بارش ہونے کی وجہ سے کسانوں کو کافی نقصان ہوا ہے، جس کے سبب ملک بھر میں سینکڑوں کسانوں کو خودکشی کرنے کے لئے مجبور ہونا پڑا بلکہ اس کی وجہ یہ ہے کہ اگلے برس تک چار صوبوں میں اسمبلی انتخابات ہونے والے ہیں، جن میں سیاسی لحاظ سے انتہائی اہمیت کا حامل صوبہ اترپردیش اور مغربی بنگال شامل ہیں اور دیہی علاقوں کے ووٹر ان انتخابات میں اہم رول ادا کرتے ہیں۔ حکومت کے ناقدین کا کہنا ہے کہ اگر تمام دیہات تک بجلی پہنچ بھی جاتی ہے تب بھی یہ یقینی نہیں ہے کہ گاؤں والے عملاََ اس سے فائدہ اٹھا بھی سکیں گے ۔


ارون جیٹلی نے بجٹ پیش کرتے ہوئے کہا کہ عالمی معیشت سنگین بحران سے دوچار ہے اور گزشتہ ایک سال کے دوران مالیاتی منڈی کی حالت خراب رہی ہے۔ تاہم بھارت پورے استحکام کے ساتھ اقتصادی ترقی کی شاہراہ پر آگے بڑھ رہا ہے اور اس نے مشکلات اور چیلنجز کو مواقع میں تبدیل کرنے میں کامیابی حاصل کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ تیزی سے ترقی کرنے والی معیشت کے میدان میں چین کو پیچھے چھوڑنے والے بھارت کو اب عالمی معیشت میں روشن امکانات والے ملک کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
اس بار کے عام بجٹ کی ایک اہم بات یہ ہے کہ اس میں دفاع کی مد میں مختص کی جانے والی رقم کا کوئی ذکر نہیں ہے جب کہ بھارت میں عام بجٹ میں فوج اور دفاع کی مد بھی شامل رہتا ہے۔ وزیر خزانہ کے اس قدم پر سوال اٹھائے جارہے ہیں کہ آخر اس کے پیچھے کیا راز ہے ؟ اسٹریٹیجک امور کے ماہر بریگیڈیر(ریٹائرڈ) گرمیت کنول کا کہنا ہے کہ ’’میں گزشتہ سترہ برسوں سے زیادہ مدت سے بجٹ پر نگاہ رکھتا آرہا ہوں لیکن یہ پہلا موقع ہے جب دفاع کی مد میں مختص کی جانے والی رقم کا کوئی ذکر نہیں ہے۔‘‘

بہر حال تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ فوج کی جدید کاری کے لئے اس سال دفاع کے مد میں مختص کی جانے والی رقم سال گزشتہ کے مقابلے نسبتاََکم ہوگی کیوں کہ اس رقم کا بڑا حصہ سابق فوجیوں کے بقایہ پنشن کی ادائیگی پر خرچ کیا جائے گا۔ جنہوں نے ’ ایک رینک ایک پنشن‘ کے مسئلے پر ایک عرصے سے حکومت کے خلاف محاذ کھول رکھا ہے۔ دفاعی امور کے ماہرین کا خیال ہے کہ بھارت اپنے پڑوسی اور حریف چین کی بڑھتی ہوئی فوجی قوت کا مقابلہ کرنے کے لئے اپنی مجموعی گھریلو پیداوار (جی ڈی پی ) کا تین فیصد دفاع پر خرچ کرے گا۔

واضح رہے کہ نریندر مودی حکومت سرمایہ کاری اور باالخصوص غیر ملکی سرمایہ کاروں کو راغب کرنے کے لئے ہر ممکن کوشش کررہی ہے تاہم اسے خاطر خواہ کامیابی نہیں مل سکی ہے۔ جن غیر ملکی کمپنیوں نے بھارت میں سرمایہ کاری کے لئے وعدے کئے تھے ان میں سے صرف چند ایک ہی نے قدم آگے بڑھائے ہیں۔ اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ اقتدار میں آنے کے بعد مودی حکومت نے سرمایہ کاروں کے لئے ساز گار ماحول اور ٹیکس اصلاحات کا جو وعدہ کیا تھا، وہ حکومت او ر اپوزیشن کے درمیان رسہ کشی کی وجہ سے پورا نہیں ہوسکا ہے۔ اس مسئلے پر قابو پانے کے لئے بجٹ میں تیرہ مختلف ٹیکسوں کو ختم کرنے کا اعلان کیا گیا ہے۔

بلیک منی پر قابو پانا مودی حکومت کے اہم انتخابی وعدوں میں سے ایک ہے لیکن دو سال گزر جانے کے باوجود اسے کوئی قابل ذکر کامیابی نہیں ملی ہے۔ وزیر خزانہ نے ایک بار پھر نئی کوشش کرتے ہوئے لوگوں سے چار ماہ کے اندر اپنی غیر اعلانیہ رقم کا 45 فیصد بطور جرمانہ ادا کر کے قانونی کارروائی سے بچنے کی پیش کش کی ہے تاہم تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ حکومت کی اس پیش کش پر شاید ہی کوئی کان دھرے۔

حکمراں بھارتیہ جنتا پارٹی نے ارون جیٹلی کی اس بجٹ کو مثالی اور تعمیری قرار دیا ہے۔ کارپوریٹ سیکٹر نے محتاط ردعمل کا اظہار کیا ہے۔ دوسری طرف اپوزیشن نے اسے غیر سمتی کا شکار بجٹ بتایا ہے۔ لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر کانگریس رہنما ملک ارجن کھڑگے نے کہا کہ حکومت نے ثابت کردیا کہ وہ کارپوریٹ سیکٹر اور کالا دھن رکھنے والوں کو فائدہ پہنچانا چاہتی ہے۔ صرف پرانے منصوبوں کی ری پیکجنگ کی گئی ہے اور اس میں غریبوں کے لئے کچھ نہیں ہے۔