1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

’بھارت سے کپاس کی درآمد بند کی جائے‘

پاکستان کے ایوانِ بالا کی ایک کمیٹی نے حکومت کو خبردار کیا ہے کہ اگر اِس نے بھارت سے کپاس کی درآمد کو نہیں روکا تو ملکی زراعت تباہی کے دھانے پر پہنچ جائے گی۔

ایوان بالا کی کمیٹی برائے غذائی تحفظ وتحیقیق نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ زراعت کے شعبے کو زوال پزیری سے بچانے کے لئے کپاس کی درآمد بند کرے۔

کمیٹی نے کہا کہ واہگہ بارڈ کے ذریعے بھارت سے درآمد کی جانے والی کپاس ملکی پیداوار کے لئے خطرناک ہے، لہذا اس پر فورا پابندی لگائی جائے۔ کمیٹی کے سربراہ سینیٹر سید مظفر حسین شاہ نے کہا کہ اگر بھارت سے ’0.5 ملین بیلز آف کاٹن‘ نہ روکی گئی تو ملکی پیداوار خطرے سے دوچار ہوجائے گی۔

DW.COM

کمیٹی کے ارا کین کا کہنا تھا کہ گزشتہ سال کپاس کی پیدوار میں تیس فیصد کمی ہوئی ہے اور اگر حکومت نے مناسب اقدامات نہیں کیے تو اس سال اس پیداوار میں مزید کمی آسکتی ہے۔کمیٹی نے کہا کہ ٹریڈنگ کارپوریشن آف پاکستان کے پاس کپاس کی وافر مقدار موجود ہے اور اس کی درآمد کا کوئی جواز نہیں ہے۔کمیٹی نے وزارت تجارت سے اس سلسلے میں ترجیحی بنیادوں پر رپورٹ طلب کی ہے۔

ایک دور میں پاکستان بڑے پیمانے پر کپاس پیداکرنے والے ممالک کی فہرست میں تھا لیکن اب اس کی پیداوار میں مسلسل کمی ہورہی ہے، جس سے کسانوں کی مشکلات میں دن بہ دن اضافہ ہوتا جارہاے۔

پاکستانی صوبہ پنجاب کی تحصیل ٹوبہ ٹیک سنگھ سے تعلق رکھنے والے چوہدری نعیم فاتح نے ڈی ڈبلیو سے بات چیت کرتے ہوئے کہا، ’’گزشتہ دس سال میں زرعی inputsکی قیمتوں میں خاصہ اضافہ ہوا ہے۔ مثال کے طور پر دس سال پہلے یوریا کی پچاس کلو والی بوری چار سو پچاس روپے کی تھی، اب وہ تقریباﹰ 1950 روپے کی ہے۔ اسی طرح پانچ کلو کے بیج کی تھیلی چار سو سے پانچ سو روپے کی تھی، اب وہ تین ہزار سے پانچ ہزار تک کی ہے۔ دوسو ملی لیٹر کی کیڑے مار دوائی دو سو روپے کی تھی اور اب وہ آٹھ سو روپے کی ہے۔ اس کے علاوہ پانی کی بھی کمی ہے۔ اس صورتِ حال میں کپاس کی پیداوار میں اضافہ کیسے ہوسکتا ہے۔‘‘

نعیم فتح، جو خود بھی پچیس ایکڑ زمین کے مالک ہیں، کا مزید کہنا تھا، ’’جب inputs اتنی مہنگی ہوں گی تو ہماری کپاس کون خریدے گا؟ ڈیرہ غازی خان، ملتان، خانیوال، بھاولپور، رحیم یار خان اور کپاس پیداکرنے والے دیگر علاقوں میں کسان بے حال اور معاشی طور پر تباہ ہوگیا ہے۔ وہ قرض لے کپاس کاشت کرتا ہے لیکن گرتی ہوئی قیمتوں کی وجہ سے اسے بھاری نقصان اٹھانا پڑتا ہے۔ حکومت نے کپاس کی چالیس کلو کی بوری کی قیمت پچیس سو رکھی ہے۔ زمیندار کوکپاس کی چنائی کے لئے دس سے بارہ روپے فی کلو مزدور کو دینے پڑتے ہیں، تو اس کے پاس بمشکل دوہزار روپے آتے ہیں۔ ایسے حالات میں وہ کیا کرے؟‘‘

Bildergallarie Baumwolle in Afghanistan

پاکستان میں کپاس کی پیداوار میں مسلسل کمی ہورہی ہے، جس سے کسانوں کی مشکلات میں دن بہ دن اضافہ ہوتا جارہاے

’پاکستان کاٹن اینڈ گینرز ایسوسی ایشن‘ کی رواں برس جنوری میں جاری کردہ ایک رپورٹ کے مطابق پندرہ جنوری 2015ء تک کپاس کی کل پیداوار 9.313 ملین کاٹن بیلز تھی جب کہ 2014ء میں یہ تعداد 14.25ملین کاٹن بیلز تھی۔

لودھراں اور ملتان میں کپاس کی پیداوار میں 73فیصد کمی ہوئی جب کہ سندھ کے ڈسٹرکٹ گھوٹکی، بدین اور میرپور خاص میں بالترتیب تینتالیس، بیالس اور اکتیس فیصد کمی ہوئی۔

ماہر معاشیات قیصر بنگالی کے مطابق اس کی ایک بڑی وجہ حکومت کی زراعت کے شعبے میں عدم دلچسپی ہے۔ ڈی ڈبلیو سے بات کرتے ہوئے قیصر بنگالی کا کہنا تھا، ’’ایسا لگتا ہے کہ ملک میں کوئی زرعی پالیسی نہیں ہے۔ پانی کی ترسیل کے ادارے زبوں حالی کا شکار ہیں۔ اس سے وابستہ انجینئرنگ کے ا دارے بھی لا وارث چھوڑ دیئے گئے ہیں۔ ملک میں پانی کی بھی قلت ہے جس کی وجہ سے پیداوار میں کمی ہورہی ہے۔ اس کے علاوہ ہماری قیمت بھی مسابقانہ نہیں ہے، جس کی وجہ سے ہم عالمی منڈی میں مقابلہ کرنے سے قاصر ہیں۔ زراعت کے حوالے سے کوئی سنجیدہ تحقیقی کام بھی نہیں ہورہا ہے۔ زراعت کی پالیسی ’کٹ اینڈ پیسٹ‘ کی طرح ہے۔ جس کی وجہ سے آہستہ آہستہ ہماری زراعت تباہی کے دھانے پر پہنچ گئی اور گنا، گندم اور چاول کی طرح کپاس کی پیداوار بھی بہت متاثر ہوئی۔‘‘

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ حکومت بحران کو قابو میں لانے کے لیے کوئی جامع پالیسی نہیں بنا تی بلکہ مصنوعی طریقے اپناتے ہوئے درآمد کی اجازت دے دیتی ہے، جس سے یقیناً مقامی پیداوار کو شدید دھچکا لگتا ہے۔ بنگالی کے مطابق، ’’کسان ایک سال پیداوار نہیں کرتا اس امید پر کہ اگلے سال حالات بہتر ہوجائیں گے لیکن صورت حال میں کوئی تبدیلی نہیں ہوتی۔حکومت کو ایک جامع زرعی پالیسی بنانا چاہیئے اور قیمتوں کے ڈھانچے کو مضبوط کرنا چاہیئے تاکہ اس بحران پر قابو پایا جا سکے۔‘‘