1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

بھارت سے تعلقات، پاکستان خصوصی مندوب مقرر کرے گا

پاکستانی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے لندن میں اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ پاکستان بھارت کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کے لئے بیک چینل ڈیپلومیسی کے لئے ایک سابق سفارتکار کو خصوصی مندوب کے طور پر متعین کرنے والا ہے۔

default

پاکستانی وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی

بین الاقوامی خبر رساں اداروں سے اپنی بات چیت میں شاہ محمود قریشی نے کہا کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان غیر رسمی مذاکرات دوبارہ شروع ہونے سے دونوں ملکوں کے درمیان موجود تناؤ اور کشیدگی میں کمی آئے گی۔ تاہم انہوں نے یہ بھی کہا کہ بیک چینل ڈیپلومیسی، باقاعدہ امن مذاکرات کے ساتھ ہی مفید ہو سکتی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ دونوں ملکوں کے درمیان اس وقت جو تناؤ کی صورتحال ہے اس میں بیک چینل ڈپلومیسی کی اہمیت میں خاصہ اضافہ ہو جاتا ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ دونوں ملکوں کے درمیاں اعتماد سازی کی اشد ضرورت ہے۔

پاکستانی وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی رواں ماہ کی ستائس تاریخ کو نیویارک میں اپنے بھارتی ہم منصب سے بھی ملاقات کرنے والے ہیں۔ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ بھارتی وزیرخارجہ ایس ایم کرشنا سے ان کی ملاقات سے بہت زیادہ امیدیں وابستہ نہیں کی جا سکتیں۔

نئی دہلی کا مطالبہ ہے کہ جب تک پاکستان ممبئی حملوں کے ملزمات کے خلاف ٹھوس کارروائی نہیں کرتا اس کے ساتھ رسمی مذاکرات ممکن نہیں ہیں۔ جب کہ پاکستان کا موقف ہے کہ وہ بھارت کی جانب سے ٹھوس شواہد کا منتظر ہے تاکہ وہ حافظ سعید سمیت دیگر افراد کے خلاف مضبوط مقدمات قائم کرکے انہیں عدالت سے سزا دلوا سکے۔ واضح رہے کے دونوں ملکوں کے خارجہ سیکریٹریوں کے درمیان ملاقات 26 ستمبر کو نیویارک میں ہو رہی ہے۔

پاکستانی وزیر خارجہ نے کہا کہ نیویارک میں پاک بھارت وزرائے خارجہ اور خارجہ سیکریٹریوں کی ملاقات دونوں ملکوں کے پاس امن مذاکرات کے آغاز کے لئے حالات کو سازگار بنانے کا ایک اچھا موقع ہے۔

پاکستان اور بھارت کے رہنماؤں کے درمیان رواں برس جون سے اب تک غیر رسمی طور پر تین بار ملاقاتیں ہو چکی ہیں۔

گذشتہ روز پاکستانی وزیر داخلہ رحمان ملک نے اپنے ایک بیان میں کہا تھا کہ بھارت کی طرف کالعدم تنظیم جماعت الدعوة کے امیر حافظ سعید کے خلاف مہیا کئے گئے شواہد انتہائی کمزور ہیں جن کی بنا پرحافظ سعید کے خلاف کارروائی نہیں کی جارہی۔ انہوں نے ایک مرتبہ پھر نئی دہلی سے ممبئی حملوں کے مبینہ قصورواں کے خلاف مقدمہ چلانے کے لئے ٹھوس ثبوت فراہم کرنے کا مطالبہ کیا۔

پچھلے برس نومبر میں ممبئی پر ہونے والے دہشت گردانہ حملوں کے بعد بھارت کی جانب سے مسلسل یہ الزام لگایا جاتا رہا ہے کہ پاکستان ان حملوں میں ملوث دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کرنے میں مخلص نہیں ہے۔ ممبئی میں ہونے والے ان دہشت گردانہ حملوں میں ایک سو ساٹھ سے زائد افراد ہلاک ہو گئے تھے جس کے بعد نئی دہلی نے پاکستان کے ساتھ ہر طرح کے امن مذاکرات کو منجمند کر دیا تھا۔

رپورٹ : عاطف توقیر

ادارت : عدنان اسحاق