1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

صحت

بھارت: سگریٹ اور شراب نوشی میں کمی

بھارت کے لیے یہ ایک اچھی خبر ہے کہ گذشتہ ایک دہائی میں سگریٹ اور شراب نوشی کرنے والوں کی تعداد میں کمی آئی ہے تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ اس شرح کو کم کرنے کے لیے مزید اقدامات ضروری ہیں۔

Kiosk Neu Delhi in Indien Tabakwaren Zigaretten Süßwaren

سگریٹ اور شراب نوشی کرنے والوں کی شرح میں کمی اطمینان بخش سہی لیکن زردہ، گٹکا، کھینی اور پان مسالے کی شکل والے تمباکو کا استعمال کافی بڑھ گیا ہے

رواں ہفتے جاری ہونے والے نیشنل فیملی ہیلتھ سروے این ایف ایچ ایس 4 کے ابتدائی اعداد و شمارکے مطابق گذشتہ ایک دہائی کے دوران بھارت میں مرد و خواتین دونوں میں نہ صرف سگریٹ نوشی کی شرح نیچے آئی ہے بلکہ شراب نوشی کی شرح میں بھی کمی ہوئی ہے۔

ملک کے تیرہ صوبوں کے سروے کی بنیاد پر تیار ابتدائی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 2005 اور 2006ء کے نیشنل فیملی ہیلتھ سروے یا این ایف ایچ ایس۔3 میں سگریٹ نوشی کرنے والے مردوں کی تعداد 50 فیصد تھی، جو اب 2015ء میں کم ہو کر 47 فیصد رہ گئی ہے جب کہ شراب نوشی کرنے والوں کی شرح 38 فیصد سے گھٹ کر 34 فیصد ہو گئی ہے۔ اسی طرح 2005 اور 2006ء میں سگریٹ نوشی کرنے والی خواتین کی تعداد پانچ فیصد تھی، جو اب گھٹ کر چار فیصد ہو گئی ہے جب کہ شراب نوشی کرنے والی خواتین کی شرح تین فیصد سے کم ہو کر ڈیڑھ فیصد رہ گئی ہے۔

بھارتی وزارت صحت نے بھی اپنی ایک رپور ٹ میں کہا ہے کہ 2014-15ء میں 93.2 بلین روپے کی سگریٹ پی گئی جو 2012ء اور 2013ء کے مقابلے دس بلین کم ہے۔ اسی طرح اس مدت میں سگریٹ کی پیداوار 117 بلین سے گھٹ کر 105.3 بلین رہ گئی۔

یہ اعداد و شمار ایسے وقت پرسامنے آئے ہیں، جب بھارت میں تمباکو نوشی پر قابو پانے کے لیے سخت قوانین نافذ ہونے والے ہیں۔ مرکزی حکومت عدالت کے حکم کے مطابق یکم اپریل سے 'پلین پیکیجنگ‘ کا قانون نافذ کرنے والی ہے۔ آسٹریلیا اس طرح کا قانون نافذ کرنے والا پہلا ملک تھا، جہاں 2011ء میں یہ قانون نافذ کیا گیا۔ کئی یورپی ملکوں میں بھی یہ قانون نافذ ہے۔ اس قانون کے مطابق سگریٹ کے ڈبے یکساں ہونے چاہییں۔ کمپنیاں نہ تو مخصوص تصویر استعمال کر سکتی ہیں اور نہ ہی مخصوص رنگ یا اپنا کارپوریٹ لوگو اور ٹریڈ مارک استعمال کرنے کی اجازت ہو گی۔ ان ڈبوں پروہ صرف برانڈ نام درج کر سکیں گی اور وہ بھی مقررہ سائز اور فونٹ میں۔

Alkohol in Indien

اس سروے کے مطابق شراب نوشی کرنے والے مردوں کی شرح 38 فیصد سے گھٹ کر 34 فیصد جبکہ خواتین کی شرح تین فیصد سے کم ہو کر ڈیڑھ فیصد رہ گئی ہے

فروری 2005ء میں عالمی صحت تنظیم کے فریم ورک کنونشن آن ٹوبیکو کنٹرول پر دستخط کرنے کے بعد سے بھارت نے سگریٹ نوشی کے خلاف سماجی بیدار ی پیدا کرنے کے لیے متعدد اقدامات کیے۔ اس کنونشن پردستخط کرنے کے فوراً بعد حکومت نے عوامی مقامات پر سگریٹ نوشی پر مکمل پابندی عائد کرنے کا حکم جاری کیا حالانکہ اس حکم کی کھلم کھلا خلاف ورزی اب بھی جاری ہے۔ اسی طرح گو کہ سگریٹ اور تمباکو کی دیگر مصنوعات کے اشتہارات پر بھی قانوناً پابندی عائد ہے لیکن سگریٹ بنانے والی کمپنیوں نے اس قانون کو نظر انداز کرنے کے متعدد طریقے نکال لیے ہیں۔

یوں تو سگریٹ اور شراب نوشی کرنے والوں کی شرح میں کمی قدرے اطمینان کی بات ہے تاہم دوسری طرف زردہ، گٹکا، کھینی اور پان مسالے کی شکل والے تمباکو کا استعمال کافی بڑھ گیا ہے، جس کے نتیجے میں بھارت میں صحت کے حوالے سے بڑے مسائل پیدا ہو رہے ہیں۔ پبلک ہیلتھ فاؤنڈیشن آف انڈیا کی ڈائریکٹر ڈاکٹر مونیکا اروڑہ کا کہنا ہے کہ ’آسانی سے، بہت سستا اور مختلف اقسام میں دستیاب ہونے کی وجہ سے یہ منفرد نوعیت کی تمباکو مصنوعات ہیں، جن سے کم عمر نوجوان سب سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں‘۔

عالمی ادارہٴ صحت نے 'بھارت میں غیر متعدی بیماریوں کی اقتصادیات‘ کے عنوان سے 2014ء میں شائع شُدہ اپنی رپورٹ میں تمباکو کو امراض قلب اور کینسر کی مختلف اقسام کے لیے سب سے بڑا خطرہ قرار دیا ہے۔ گلوبل ایڈلٹ ٹوبیکو سروے کے مطابق بھارت میں سگریٹ نوشی سے ہر سال ایک ملین سے زیادہ افراد لقمہٴ اجل بن جاتے ہیں اور یہ کینسر اور امراض قلب جیسی غیر متعدی امراض کے ذریعے ہونے والی اموات کے چار بڑے اسباب میں سے ایک ہے۔ بھارتی وزارت صحت کے مطابق سگریٹ نوشی کی وجہ سے ہونے والے امراض کے علاج پر حکومت کو سالانہ کروڑوں روپے خرچ کرنا پڑتے ہیں۔

Rauchen in Indien

پبلک ہیلتھ فاؤنڈیشن آف انڈیا کے صدر ڈاکٹر سری ناتھ ریڈی کے مطابق سگریٹ نوشی کرنے والی خواتین کی اتنی بڑی تعداد بھی نہایت پریشان کن ہے

پبلک ہیلتھ فاؤنڈیشن آف انڈیا کے صدر ڈاکٹر سری ناتھ ریڈی کا این ایف ایچ ایس۔4 رپورٹ پر کہنا ہے کہ سگریٹ نوشی کرنے والوں کی شرح اب بھی بہت زیادہ ہے اور اس شرح کو کم کرنے کے لیے مزید اقدامات کی ضرورت ہے۔ ان کا مزید کہنا ہے کہ سگریٹ نوشی کرنے والی خواتین کی اتنی بڑی تعداد بھی نہایت پریشان کن ہے۔