1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

بھارت دہشتگردی کی لپیٹ میں

پچھلے کچھ سالوں سے بھارت کے بڑے شہروں کو بدقسمتی سے کسی حد تک دہشتگردی کا عادی ہونا پڑ رہا ہے۔ ایک لمبے عرصے تک بھارت ہرایسے واقعہ کے بعد معمول کے مطابق پاکستان کو ہی قصوروار ٹھراتا رہا۔

default

اب ممبئی کی دہشت گردی کے اثرات بھی انڈیا سے باہر دور تک پھیلیں گے۔

دریں اثنا یہ سوچ جڑ پکڑ چکی ہے کہ خود ملک کے اندر ہی دہشتگردوں کے متعدد گروپس موجود ہیں جو ایک حد تک داخلی سیاسی محرکات کی بنا پر ایسا قدم اٹھاتے ہیں۔ مثلا ً اگر بھارتی مسلمانوں میں سے کچھ مبینہ طور پر دہشت گردی میں ملوث ہو سکتے ہیں تو اس کی ایک وجہ یہ بھی ہو سکتی ہے کہ مسلمانوں کے خلاف امتیازی سلوک اور انتہا پسند ہندو سیاستدانوں کی مخالفانہ پالیسیوں نے ان لوگوں کو انتہا پسندی کی طرف دھکیل دیاہو۔ اس کے علاوہ ہر طرح کے علیحدگی پسند گروپس، جن کا داہرہ کشمیر سے لے کر بھارت کی شمال مشرقی ریاستوں تک پھیلا ہے، دہشت گردی کے واقعات میں ملوث ہو سکتے ہیں۔ ابھی پچھلے ہی ہفتے متعدد مبینہ ہندو دہشت گرد گرفتار کئے گے،جن پر یہ الزام عائد کیا جا رہا ہے کہ انہوں نے مسلمانوں کے ٹھکانوں پر حملے کئے تھے۔ گرفتار ہونے والوں میں انڈین فوج کا ایک حاضر سروس افسر بھی شامل ہے۔

Terror in Mumbai, Befreite Geisel

اوبرائے ہوٹل آپریشن کے بعد ایک غیر ملکی خاتون ، دھشت گردوں سے رہائی پانے کے بعد

تاہم موجودہ دہشت گردی کا نمونہ ہی الگ ہے۔ دہشت گردوں نے ایک ہی وقت میں کئیً نرم اہداف ً کو نشانہ بنایا۔ اس سے دھیان فورا ً القاہدہ کی طرف جاتا ہے۔ ایک ہی وقت میں اس مربوط طریقے سے مختلف جگہوں پر حملہ کرنا مقامی یا ملکی سطح پر تشکیل پائے جانے والے گروپوں کی پہنچ سے باہر ہے۔ پھر امریکی، برطانوی اور اسرائیلی باشندوں کا یرغمالی بنایا جانا بین ا لاقوامی دہشت گردی کے اہداف سے مطابقت رکھتا ہے۔

بھارتی وزیراعظم من موہن سنگہ نے اپنے اولین ردعمل میں اس جانب اشارہ کیا تھا کہ ان واقعات کے پیچھے بیرونی ہاتھ کارفرما ہے۔ اگرچہ انہوں نے پاکستان کا نام تو نہیں لیا، تب بھی اس بات کا امکان موجود ہے کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان نئی کشیدگی شروع ہو سکتی ہے۔ اس سے قبل جب11 ستمبر 2001 کے واقعات کے چند ہی ماہ بعد بھارتی پارلیمان میں دہشتگردی کا واقعہ رونما ہوا تھا تو بھارت نے پاکستان پر الزام لگا کر اپنی فوجیں بارڈر پر لا کھڑی کر دی تھی۔ جس سے کشیدگی اپنے عروج کو پہنچ گئی تھی اور دونوں ایٹمی طاقتوں کے درمیان جنگ چھڑتے چھڑتے رہ گئی تھی۔

اب ممبئی کی دہشت گردی کے اثرات بھی انڈیا سے باہر دور تک پھیلیں گے۔ خود عنقریب امریکہ کی صدارت سنبھالنے والے اوباما کے لئے بھی یہ پہلا چیلنج ثابت ہو سکتا ہے جنہوں نے افغانستان اور پاکستان میں بہت کچھ کرنے کا ارادہ کر رکھا ہے۔