1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

بھارت: دو بڑے ماؤنواز باغی رہنما ہلاک کر دئے گئے

جنوبی بھارتی ریاست آندھرا پردیش کی پولیس نے جمعے کے روز دعویٰ کیا کہ ملک میں ماؤ نواز باغیوں کی مسلح تحریک کے دو سرکردہ رہنماؤں کو ہلاک کر دیا گیا ہے۔

default

ریاست چھتیس گڑھ میں ماؤنواز باغیوں کے ایک مسافر بس پر بم حملے کے بعد لی گئی دھماکے کی جگہ کی تصویر، فائل فوٹو

نئی دہلی سے موصولہ رپورٹوں کے مطابق بھارتی حکام بائیں بازو کے باغیوں کے ان دونوں بڑے لیڈروں کی ہلاکت کو ملک میں ماؤ نواز عسکریت پسندوں کی مسلح سیاسی جدوجہد کے لئے ایک بڑا دھچکہ قرار دے رہے ہیں۔

بھارتی ٹیلی وژن ادارے NDTV نے پولیس ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ مارے جانے والے ماؤ نواز باغی رہنماؤں میں سے ایک چھیروکوری راجکمار ہے، جو بائیں بازو کی ممنوعہ جماعت کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا ماؤنواز کی مرکزی قیادت میں دوسری سب سے اہم شخصیت تھا۔ ماؤنواز حلقوں میں عام طور پر ’آزاد‘ کے نام سے پکارا جانے والا یہ باغی رہنما عادل آباد نامی ضلع میں پولیس کے ساتھ ایک بڑی جھڑپ کے دوران مارا گیا۔

Indien Maoisten Anschlag

مشرقی بھارتی شہر جگدال پور میں ماؤنواز باغیوں کے ایک بم حملے کے بعد زخمیوں کو ہسپتال پہنچانے کا منظر، فائل فوٹو

بائیں بازو کے عسکریت پسندوں کا پولیس کے ہاتھوں مارا جانے والا دوسرا اہم رہنما چندرنا تھا، جو آندھرا پردیش کے ریاستی دارالحکومت حیدرآباد سے 300 کلومیٹر شمال کی طرف واقع جوگاپور ضلع کے جنگلوں میں سکیورٹی دستوں کے ساتھ لڑائی میں ہلاک ہو گیا۔

IANS نامی خبر ایجنسی کے مطابق بھارتی حکومت نے آزاد نامی ماؤنواز باغی رہنما کے سر کی قیمت 1.2 ملین روپے رکھی ہوئی تھی۔ انتہائی بائیں بازو کی سیاسی سوچ کا حامل یہ باغی لیڈر ممنوعہ پارٹی سی پی آئی (ماؤنواز) کی پولٹ بیورو کا رکن تھا، جو اس پارٹی کے مرکزی لیڈر کوتیشورا راؤ یا عرف عام میں کشن جی کا نائب بھی سمجھا جاتا تھا۔ آئی اے این ایس کی رپورٹوں کے مطابق ’آزاد‘ بھارت میں گزشتہ قریب چار عشروں سے ماؤ نواز باغیوں کی مسلح بغاوت میں عملی طور پر شامل تھا۔

نئی دہلی سے ملنے والی رپورٹوں میں بتایا گیا ہے کہ ایک ہی دن میں ’آزاد‘ اور چندرنا جیسے بڑے ماؤ نواز لیڈروں کی سکیورٹی دستوں کے ہاتھوں ہلاکت اتنے بڑے واقعات ہیں کہ ستمبر 2009 کے بعد سے بھارت میں ماؤپرستی کی مسلح تحریک کو کبھی اتنا بڑا نقصان نہیں پہنچا تھا۔ گزشتہ برس ستمبر میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں کو ماؤنواز باغیوں کے خلاف ایک اہم کامیابی اس وقت ملی تھی جب ملکی دارالحکومت سے ان باغیوں کے ایک بڑے نظریاتی رہنما کوباد گاندھی کو گرفتار کر لیا گیا تھا۔

دریں اثناء ماؤنواز باغیوں نے دعویٰ کیا ہے کہ پولیس نے ’آزاد‘ کو دراصل کئی روز قبل گرفتار کیا تھا، جسے ایک ’’جعلی پولیس مقابلے میں قتل‘‘ کر دیا گیا۔ ان ہلاکتوں کے بعد سکیورٹی ایجنسیوں کو باغیوں کی طرف سے جوابی کارروائیوں کا خطرہ ہے، جن کی بنا پر کئی یونین ریاستوں میں سکیورٹی کو ہائی الرٹ کر دیا گیا ہے۔

بھارت میں سال رواں کے آغاز سے اب تک ملکی سکیورٹی دستوں اور ماؤنواز باغیوں کے مابین ہونے والی بے شمار خونریز جھڑپوں میں کل کم ازکم بھی 710 افراد مارے جا چکے ہیں، جن کی اکثریت ماؤ نواز باغیوں پر مشتمل تھی۔

رپورٹ: عصمت جبیں

ادارت: مقبول ملک

DW.COM