1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

بھارت: خاک روب کی نوکری کے لیے انتہائی تعلیم یافتہ امیدوار

شمالی بھارتی ریاست میں انیس ہزار سے زائد افراد نے خاک روبوں کی چودہ سو آسامیوں کے کے لیے درخواستیں جمع کرائی ہیں اور ان میں ایم اے اور ایم بی اے کی ڈگریوں کے حامل امیدوار بھی شامل ہیں۔

حکام نے جمعے کے روز تصدیق کی کہ ان آسامیوں کے لیے انتہائی اعلیٰ تعلیم یافتہ افراد نے بھی درخواستیں جمع کرائی ہیں۔ بھارت میں بے روزگاری انتہائی اونچی سطح پر ہے اور بعض اوقات انتہائی اعلیٰ تعلیم یافتہ اور تربیت یافتہ افراد بھی ہر نوکری کے لیے درخواست جمع کرواتے نظر آتے ہیں۔

بھارت میں خاک روب کی نوکری کو معاشرتی اور سماجی سطح پر گھٹیا پیشہ سمجھا جاتا ہے، تاہم اس کے لیے بھی ان تعلیم یافتہ افراد کی جانب سے درخواست جمع کرواتے ہوئے کسی ہچکچاہٹ کا مظاہرہ نہ کرنا، بے روزگاری سے تنگ آئے نوجوانوں کی پریشانی کو ظاہر کرتا ہے۔ روایتی طور پر ہندو ذات پرستی پر مبنی بھارتی معاشرے میں عموماﹰ خاک روب کی نوکری دلِت ذاتوں کے حامل افراد کرتے نظر آتے ہیں۔

امروہہ کے میونسپل سپریٹنڈنٹ فیض عالم نے خبر رساں ادارے ڈی پی اے سے پات چیت میں کہا، ’’ہمارے پاس چھ ہزار درخواستیں ایسی جمع کرائی گئی ہیں، جن میں آرٹس اور سائنس کے گریجوئٹس، پوسٹ گریجویٹس حتیٰ کہ انجینیئرنگ اور ایم بی اے کی ڈگریوں کے حامل افراد بھی شامل ہیں۔‘‘

انہوں نے بتایا کہ ان نوکریوں کہ لیے کسی تعلیمی قابلیت کی کوئی ضرورت نہیں ہے، کیوں کہ کام سڑکوں پر جاڑو دینے اور صفائی کا ہے، اس کے علاوہ نالیوں اور گٹروں کی صفائی کا کام بھی ان افراد کے ذمے ہو گا، جب کہ انہیں ماہانہ 17 ہزار روپے تنخواہ دی جائے گی۔‘‘

بھارتی اخبار ٹائمز آف انڈیا کے مطابق ان نوکریوں کے لیے درخواستیں جمع کرانے والے تعلیم یافتہ افراد اب بھی اپنی انٹرویو کالز کے متنظر ہیں۔ ریاضی میں گریجویشن کی ڈگری کے حامل ناکُل سنگھ کے مطابق، ’’میں نے سن 2014ء میں کالج مکمل کیا اور جب مجھے خاک روبوں کی آسامیوں کا پتہ چلا تو مجھے خیال آیا کہ یہ اچھا موقع ہے کہ میں اپنی گزر بسر اور اپنے اہل خانہ کی مدد کے لیے درخواست دوں۔‘‘

بھارتی اخبار ہندو کی ایک تازہ تحقیق کے مطابق دس ملین بھارتی شہری، جن کے پاس، انٹرمیڈیٹ، گریجویشن اور پوسٹ گریجویشن کی ڈگریاں ہیں، بے روز گار ہیں۔

بھارتی حکومت کے مطابق سن 2001ء میں ملک میں بے روز گاری کی شرح چھ اعشاریہ آٹھ فیصد تھی جو سن 2011 تک بڑھ کر 9.6 فیصد تک پہنچ چکی ہے۔