1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

بھارت: خانہ بدوشوں کے لیے اسکول

بھارتی ریاست اترکھنڈ کے دارالحکومت دہرادون کے قریب ایک غیر سرکاری تنظیم کی مدد سے خانہ بدوشوں کی برادریوں کے لیے اسکول چلائے جا رہے ہیں جن کا مقصد اس کمیونٹی کو معاشرے کا فعال رکن بنانا ہے۔

default

بھارت کے کئی علاقوں میں خانہ بدوش قبائل رہتے ہیں، جن میں خواندگی کی شرح نہ ہونے کے برابر ہے

’بلیو اسٹار‘ خانہ بدوش گجر کمیونٹی کے لیے ایک اسکول ہے جو کہ غیر سرکاری تنظیم ’رورل لیٹیگیشن اینڈ اینٹائٹلمنینٹ کیندرا‘ کی مدد سے چلایا جا رہا ہے۔ یہ اسکول بھارتی ریاست اترکھنڈ کے دارالحکومت دہرادون کے مضافاتی علاقے موہند میں قائم ہے۔ اس اسکول میں اس وقت دو سو پینتیس طالبِ علم پڑھ رہے ہیں۔

اس غیر سرکاری تنظیم کا موقف ہے کہ گجر برادری جیسے گروہوں کو درپیش بے شمار مسائل کے حل کے لیے جامع منصوبوں کی ضرورت ہے، کیوں کہ حکومت کی جانب سے شروع کیے گئے منصوبے اکثر اس طرح کے گروپس تک پہنچ نہیں پاتے۔

اس این جی او کے مطابق تعلیم بالغاں کے ذریعے ان کمیونیٹیز کو طاقتور بنایا جا سکتا ہے۔ اس این جی او نے اس مروجہ طریقے کو ترک کر کے سن انیس سو بانوے اور چورانوے کے دوران بچوں کو تعلیم دینے کے بجائے تعلیم بالغاں کے پروگرامز کا آغاز کیا۔

Flash Indien Republic Day 2011

بھارت میں تعلیمی سہولیات مثالی نہیں ہیں اور غیر سرکاری تنظیمیں اس حوالے سے اپنا کردار ادا کر رہی ہیں

اس حوالے سے آر ایل ای کے تنظیم کے چیئرپرسن اودھاش کوشال کا کہنا ہے: ’ہماری تنظیم کا موقف ہے کہ بچوں کے لیے تعلیمی پروگرامز صرف اسی وقت کامیاب ہو سکتے ہیں جب گھر میں موجود بڑے اس کی افادیت کو سمجھیں۔ پڑھے لکھے ماں باپ ہی اپنے بچوں کو تعلیم دلوانا چاہیں گے۔‘

موہند اسکول انیس سو اٹھانوے میں قائم کیا گیا، اور اب اس میں دسویں درجے تک تعلیم دی جاتی ہے۔ اس اسکول میں چھ اساتذہ کے علاوہ چند رضاکار بھی ہیں۔ اس اسکول میں تعلیم کے علاوہ پیشہ وارانہ امور کی بھی تربیت دی جاتی ہے۔ اس اسکول کی خاص بات یہ بھی ہے کہ بنجاروں کی ایک جگہ سے دوسری جگہ نقل و حمل کی وجہ سے اسکول کے طالبِ علموں کی تعلیم پر اثر نہیں پڑتا۔

یہ غیر سرکاری تنظیم اترکھنڈ اور اتر پردیش میں اس نوعیت کے پندرہ اسکول چلا رہی ہے۔

رپورٹ: شامل شمس⁄ خبر رساں ادارے

ادارت: امتیاز احمد

DW.COM