1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

بھارت، جبراﹰ مذہب تبدیل کرانے کے الزام میں پادری گرفتار

بھارتی ریاست مدھیا پردیش میں پولیس نے گاؤں کے لوگوں کو مسیحی مذہب اپنانے کی ترغیب دینے کے الزام میں ایک پادری کو گرفتار کر لیا ہے۔ پادری پر یہ الزام ایک ہندو انتہا پسند تنظیم کی جانب سے عائد کیا گیا ہے۔

بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کی حکمران جماعت سے وابستہ سخت گیر مذہبی نظریات کے حامل ایک ہندو گروپ نے مدھیا پردیش کے ایک دیہات میں چرچ کے پادری اور عیسائیت کی تربیتی خانقاہ کے پچاس افراد پر الزام عائد کیا ہے کہ یہ افراد گاؤں کے لوگوں میں مسیحیوں کی مقدس کتاب بائبل کے نسخے اور یسوع مسیح کی تصاویر تقسیم کر رہے تھے۔

علاوہ ازیں ’بجرنگ دَل‘ نامی اس ہندو انتہا پسند تنظیم کی جانب سے یہ الزام بھی لگایا گیا کہ کہ مذکورہ مسیحی افراد گاؤں میں یسوع مسیح کی ولادت کے گیت گا رہے تھے۔

مدھیا پردیش کے دارالحکومت بھوپال میں بجرنگ دل کے ایک سینئیر رکن ابھے کمار دھر کا کہنا تھا،’’ ہم نے ان مسیحی افراد کے خلاف مقدمہ دائر کیا ہے کہ کیونکہ ہمارے پاس اس بات کا ثبوت موجود ہے کہ یہ پادری گاؤں کے غریب ہندوؤں کو مسیحی مذہب اختیار کرنے پر زبردستی مجبور کر رہے تھے۔‘‘

یاد رہے کہ بجرنگ دل نامی اس تنظیم کے وزیر اعظم مودی کی جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی سے براہ راست رابطے ہیں۔ بی جے پی کے زیر حکومت مدھیا پردیش ریاست میں تبدیلی ء مذہب کے قوانین بھی سخت ہیں۔

 مقامی تحقیقی پولیس افسر راجیش ہن گنکر نے خبر رساں ادارے روئٹرز کو بتایا،’’ ہم نے پادری کو گرفتار کر لیا ہے تاہم ابھی اس پر اینٹی کنورژن لاء کے تحت مقدمہ دائر نہیں کیا کیونکہ فی الحال معاملے کی چھان بین کی جا رہی ہے۔‘‘

ملزمان مسیحیوں میں سے ایک انیش ایمانوئیل کا کہنا تھا،’’ ہم صرف دعائیہ گیت گا رہے تھے کہ انتہا پسند ہندوؤں نے ہم پر ‌حملہ کر دیا اور کہا کہ ہم بھارت کو مسیحی قوم بنانے کے مشن پر ہیں جو کہ درست نہیں ہے۔‘‘

مذہب کی تبدیلی بھارت میں ایک حساس معاملہ ہے۔ ہندو گروپس مسیحی مشنریوں پر اکثر و بیشتر پیسے اور شادی کرانے کا لالچ دے کر غریب ہندو دیہاتیوں سے جبراﹰ مذہب تبدیل کرانے کا الزام عائد کرتے ہیں۔

DW.COM