1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

بھارت: تیسری جنس کے لیے پہلا اسکول لیکن صنفی امتیاز جاری

بھارت میں تیسری جنس کے افراد کے لیے پہلے اسکول کا افتتاح ہو گیا ہے اور اس جنس کے حقوق کے لیے سرگرم کارکن اسے ایک بڑی کامیابی قرار دے رہے ہیں تاہم درحقیقت ملک میں اس جنس کے ساتھ امتیازی سلوک بدستور جاری ہے۔

بھارتی دارالحکومت نئی دہلی سے ڈی ڈبلیو کے لیے اپنی ایک رپورٹ میں مرالی کرشنن نے لکھا ہے کہ گو جنوبی ریاست کیرالہ میں ساہاج انٹرنیشنل اسکول کا افتتاح ایک مثبت قدم ہے تاہم تیسری جنس کے حقوق کے لیے سرگرم گروپوں کے مطابق ابھی بھی اس کمیونٹی کے افراد کو معاشرے کا بھرپور حصہ بنانے کے لیے بہت کچھ کیا جانا باقی ہے۔

سرِدست اس اسکول میں ایک معذور شخص اور ایک مہاجر سمیت طلبہ کی تعداد دَس ہے تاہم اس اسکول کا اصل مقصد تیسری جنس سے تعلق رکھنے والے اُن بالغ افراد کو معیاری تعلیم فراہم کرنا ہے، جنہوں نے بچپن میں اسکول چھوڑ دیا تھا۔ یہ اسکول اپنے ان طلبہ کو پیشہ ورانہ تربیت دینے کا بھی عزم رکھتا ہے۔

Indien Transsexuelle Hijras (DW/M. Krishnan)

انفرادی کامیابیاں اپنی جگہ لیکن مجموعی طور پر بھارت میں اس کمیونٹی کے ارکان کو بدستور حقارت کی نظروں سے دیکھا جاتا ہے

ڈی ڈبلیو کے مرالی کرشنن کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے تیسری جنس کے حقوق کے لیے سرگرم اور اسی کمیونٹی سے وابستہ وجے راجا ملکہ نےکہا:’’ہمارا نصب العین ان طالب علموں کی تقدیر بدلنا ہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ معاشرہ تیسری جنس کے شہریوں کو گلے لگائے اور قبول کرے۔‘‘

ملکہ اور دو دیگر سرگرم کارکنوں مایا مینن اور سی کے فیصل کو امید ہے کہ اُن کی اس کوشش سے بھارت میں تیسری جنس کے  افراد کے ساتھ امتیازی سلوک کو ختم کرنے میں مدد ملے گی۔

بھارت میں تیسری جنس سے تعلق رکھنے والے شہریوں کی تعداد تقریباً تین ملین بتائی جاتی ہے تاہم پہلی بار 2014ء میں بھارتی سپریم کورٹ کی جانب سے انہیں باقاعدہ ایک تیسری جنس تسلیم کیا گیا۔ اس عدالتی فیصلے کا مقصد یہ تھا کہ ان مخنث افراد کو ایک قانونی حیثیت، بہتر تحفظ اور ملازمتیں ملیں لیکن اس کمیونٹی کے ساتھ سماجی اور قانونی امتیاز آج بھی جاری ہے۔

Indien Transgender Madhu Bai Kinnar (DW/M. Krishnan)

جولائی 2015ء میں بھارت میں پہلی مرتبہ ایک ٹرانس جینڈر کو میئر بھی منتخب کیا گیا

کیرالہ میں کھولے گئے اسکول کا مقصد بھی یہی ہے کہ اس کمیونٹی کے افراد کو معاشرے میں ایک جائز مقام دلایا جائے۔ تیسری جنس کے حقوق کے علمبرداروں کے مطابق اس اسکول کے ذریعے اس کمیونٹی کے افراد کو بہتر ملازمتیں تو مل سکتی ہیں لیکن معاشرے میں قبولیت کی منزل ابھی بہت دور لگتی ہے۔

اگست 2014ء میں دہلی یونیورسٹی نے ایک تاریخی اقدام کرتے ہوئے اپنے دروازے تیسری جنس کے طلبہ کے لیے کھول دیے تھے لیکن بہت کم لوگوں کی طرف سے درخواستیں آئیں۔

مئی 2015ء میں منابی بندوپدھیائے بھارت کی پہلی کالج پرنسپل بن گئی تھیں لیکن کولکتہ کے کرشنا نگر ویمنز کالج میں اُن کی پرنسپل شپ کا عرصہ مختصر رہا کیونکہ ابھی گزشتہ مہینے اُنہوں نے یہ کہتے ہوئے استعفیٰ دے دیا کہ کئی اساتذہ اور طلبہ اُن کے ساتھ تعاون نہیں کر رہے تھے۔

جولائی 2015ء میں بھارت میں پہلی مرتبہ ایک ٹرانس جینڈر کو میئر بھی منتخب کیا گیا۔ اس طرح اس کمیونٹی کے ارکان کو انفرادی طور پر تو کامیابیاں ملی ہیں لیکن مجموعی طور پر یہ کمیونٹی بدستور کسمپرسی کی زندگی بسر کر رہی ہے۔