1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

کھیل

بھارت تو پہنچ گیا، پاکستان کا کیا ہو گا؟

آئی سی سی چیمپئنز ٹرافی کے گروپ بی کے ایک اہم میچ میں بھارت نے جنوبی افریقہ کو آٹھ وکٹوں سے شکست دے کر سیمی فائنلز تک رسائی حاصل کر لی ہے۔ کیا سیمی فائنل کھیلنے کی خاطر پاکستان بھی سری لنکا کو گروپ میچ میں ہرا سکے گا؟

لندن کے اوول گراؤنڈ میں گیارہ جون کو کھیلے گئے گروپ بی کے ایک اہم میچ میں بھارت کی قومی کرکٹ ٹیم نے عالمی رینکنگ میں پہلے نمبر پر براجمان جنوبی افریقہ کی ٹیم کو ہر شعبے میں مات دے دی۔ جنوبی افریقی کھلاڑی ایک اور اہم ٹورنامنٹ میں اپنے جذبات پر کنٹرول نہ رکھ سکے اور دباؤ نے انہیں کُھل کر کھیلنے کا موقع نہ دیا۔

جنوبی افریقہ کے خلاف میچ، پاکستانی کرکٹ کا وقار داؤ پر

بھارت کی یہ ٹیم پاکستان سے بہتر ہے لیکن ۔۔۔

چیمپئنز ٹرافی کا مرحلہ شروع

بھارت نے ٹاس جیت کر پہلے فیلڈنگ کا فیصلہ کیا۔ جنوبی افریقی اوپنرز ہاشم املہ اور ڈی کوک نے ابتدا میں محتاط انداز میں اسکور بنانا شروع کیے تاہم یہ سلسلہ زیادہ دیر نہ چل سکا۔ ہاشم کے آؤٹ ہونے کے بعد ڈوپلیسی نے ڈی کوک کے ساتھ مل کر اچھی شراکت داری کی لیکن ڈی کوک کیا آؤٹ ہوئے، یوں لگا کہ جنوبی افریقی ٹیم پریشانی ہی میں گِھر گئی۔

مایہ ناز بلے باز اور کپتان اے بی ڈویلیئرز دباؤ کے باعث انتہائی بھدّے طریقے سے رن آؤٹ ہوئے لیکن ساتھ ہی ڈوپلیسی اور ملر کے مکس اپ کا نتیجہ بھی ایک اور رن آؤٹ کی صورت میں نکلا۔ اس بار پویلین جانے والے کھلاڑی ملر تھے۔ ماہرین کے مطابق جنوبی افریقی کھلاڑی اس مرتبہ بھی ایک اہم میچ میں دباؤ کا سامنا کرنے میں ناکام رہے، اس لیے اس طرح کی غلطیاں دیکھی گئیں۔ اس میچ میں جنوبی افریقہ کے تین کھلاڑی رن آؤٹ ہوئے۔

اوول کی وکٹ اتنی خراب نہیں تھی، جتنی خراب کارکردگی جنوبی افریقی بلے بازوں نے دکھائی۔ بڑے میچ کے اسی پریشر کے باعث پوری ٹیم 191 رنز پر ہی ڈھیر ہو گئی۔ بھارت کی طرف سے بھونیشور کمار اور جسپریت بمرا نے دو دو جبکہ ایشون، پانڈیا اور جدیجہ نے ایک ایک وکٹ حاصل کی۔

اس آسان ہدف کے تعاقب میں بھارتی بلے بازوں نے انتہائی جارحانہ انداز اختیار کیا۔ اگرچہ روہت شرما اس تیزی کی وجہ سے بارہ رنز پر آؤٹ ہو گئے لیکن دوسری طرف سے شیکھر دھون اور کپتان ویراٹ کوہلی نے جارحانہ انداز اختیار کیے رکھا۔ دھون جب 78 کے انفرادی اسکور پر آؤٹ ہوئے تو اس وقت بھارت کا مجموعی اسکور ایک سو اکاون ہو چکا تھا۔

بعد ازاں بائیں بازو سے کھیلنے والے یوراج سنگھ نے کوہلی کا ساتھ دیا اور اڑتیس اوورز میں ہی 193 رنز بنا کر سیمی فائنل کے لیے اپنی جگہ پکی بنا لی۔ کوہلی 76 جبکہ سنگھ تئیس کے انفرادی اسکورز پر ناٹ آؤٹ رہے۔ میچ کا بہترین کھلاڑی بمرا کو قرار دیا گیا۔

گروپ بی میں بھارت تو آگے جانے میں کامیاب ہو گیا ہے لیکن ابھی ایک دوسری ٹیم کا فیصلہ ہونا باقی ہے۔ بارہ جون کو پاکستان اور سری لنکا کے مابین کھیلے جانے والے میچ کی فاتح ٹیم سیمی فائنل میچ کے لیے کوالیفائی کرے گی۔ گروپ اے سے انگلینڈ اور بنگلہ دیش کی ٹیمیں سیمی فائنل میں پہنچ چکی ہیں۔

DW.COM