بھارت: تنفس کے شدید انفیکش سے تین ہزار سے زائد اموات | صحت | DW | 19.12.2017
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

صحت

بھارت: تنفس کے شدید انفیکش سے تین ہزار سے زائد اموات

بھارت میں سال2016 کے دوران تنفس کے شدید انفیکشن (اے آر آئی) کے سبب تین ہزار سے زائد افراد موت کے منہ میں چلے گئے۔ بھارتی حکومت کی ایک رپورٹ کے مطابق ان میں 207 اموات صرف دارالحکومت نئی دہلی میں ہوئیں۔

نریندر مودی حکومت نے یہ بات ملکی پارلیمنٹ میں پیش کردہ ایک رپورٹ میں بتائی ہے۔ وزارت برائے ماحولیات، جنگلات اور ماحولیاتی تبدیلی کی طرف سے پیش کردہ اعداد و شمار میں بتایا گیا ہے کہ سابقہ برسوں کے مقابلے میں 2016ء کے دوران ’’اکیوٹ ریسپیریٹری انفیکشن‘‘ یا ARI کے سبب شرح اموات میں اضافہ ہوا ہے۔ حکومت نے نیشنل ہیلتھ پروفائل کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ 2016ء میں اے آر آئی کی وجہ سے 3,043 افراد موت کا شکار ہوئے جب کہ 2015ء اور 2014ء میں یہ تعداد بالترتیب 2,893 اور 2,729 تھی۔


اس رپورٹ کے مطابق اے آر آئی کی وجہ سے موت کا شکار ہونے والے 822 افراد کے ساتھ اترپردیش سر فہرست، 635 اموات کے ساتھ مغربی بنگال دوسرے نمبر پر، 207 اموات کے ساتھ دہلی تیسرے نمبر پر جبکہ 200 اور 185اموات کے ساتھ بالترتیب آسام اور مدھیہ پردیش چوتھے اور پانچویں نمبر پر تھے۔
بھارتی حکومت کا یہ بھی کہنا ہے کہ اے آر آئی سے متاثر ہونے والے افراد کی تعداد میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ 2014ء اور 2015ء میں جہاں ایسے مریضوں کی تعداد بالترتیب 3.4 کروڑ اور 3.7 کروڑ تھی وہیں 2016ء میں یہ تعداد بڑھ کر 4.03کروڑ ہوگئی۔ قومی دارالحکومت نئی دہلی میں بھی اے آر آئی سے متاثرہ افراد کی تعداد بڑھی ہے ۔2015ء میں ایسے مریضو ں کی تعداد 3,30,643 تھی جو کہ 2016ء میں بڑھ کر 3,51,072 ہوگئی۔ بھارت میں 273 شہروں میں آلودگی کی شرح پر نگاہ رکھنے والے ادارہ سنٹرل پولوشن کنٹرول بورڈ کے مطابق فضا کوآلودہ کرنے والے انتہائی خطرناک ذرات پی ایم 10 کی موجودگی کے لحاظ سے دہلی ملک میں دوسرے نمبر پر ہے۔ پہلے نمبر پرصوبہ جھارکھنڈ کا جھریا شہر ہے جہاں کوئلے کی کانوں سے نکلنے والے دھوئیں اور گرد کی وجہ سے فضائی آلودگی انتہا پر ہے۔
ARI میں انسان کی سانس لینے کی معمول کی صلاحیت متاثر ہوجاتی ہے۔ اس سے پھیپھڑوں پر کافی برا اثر پڑتا ہے اور یہ بالخصوص بچوں اور عمر رسیدہ افرادکے لیے خطرناک ثابت ہوتا ہے۔ دہلی میں سینٹر فار سائنس اینڈ انوائرنمنٹ (سی ایس ای) سے وابستہ ڈاکٹر وویک چٹوپادھیائے کا کہنا ہے، ’’دہلی میں فضائی آلودگی ایک خطرناک مسئلہ ہے اور بالخصوص پانچ سال سے کم عمر کے بچوں کے لیے یہ انتہائی خطرناک ہے۔‘‘ اس ادارہ نے حال ہی میں ایک رپورٹ شائع کی تھی جس میں کہا گیا ہے کہ بھارت میں فضائی آلودگی کی وجہ سے تیس فیصد سے زائد بچے قبل از وقت پیدا ہ ورہے ہیں جب کہ دہلی میں ہر تیسرا بچہ پھیپھڑوں کے مرض کا شکار ہے۔
عالمی صحت تنظیم (ڈبلیو ایچ او) کے مطابق بھارت میں تنفس کی بیماریوں سے ہونے والی اموات کی شرح دنیا میں سب سے زیادہ ہے ۔ 2012 میں تنفس کی بیماری سے متاثر فی ایک لاکھ افراد میں 159 اموات درج کی گئی تھیں۔ یہ شرح اٹلی سے دس گنا، برطانیہ سے پانچ گنا اور چین سے دو گنا زیادہ ہے۔ برطانیہ سے شائع ہونے والے طبی جریدے لینسیٹ کی رپورٹ کے مطابق بھارت میں ہوا میں خطرناک انتہائی باریک ذرات پی ایم 2.5 کی اونچی مقدار کے سبب 2015ء میں نصف ملین سے زیادہ لوگوں کی قبل از وقت موت ہوگئی۔

Indien Neu Delhi Smog (Imago/Hindustan Times)

بھارت میں فضائی آلودگی کے مضمرات کا معاملہ آج منگل 19 دسمبر کو پارلیمان کے ایوان بالا میں بھی اٹھایا گیا

قومی دارالحکومت میں فضائی آلودگی کی صورت حال پر نیشنل گرین ٹریبونل نے پچھلے دنوں دہلی حکومت کی سخت سرزنش کی تھی۔ ٹریبونل نے قومی دارالحکومت میں آلودگی پر قابوپر دہلی حکومت کے ایکشن پلان پرسوال اٹھاتے ہوئے کہا تھا، ’’گزشتہ بارہ برس میں دہلی حکومت نے ہوا کے معیار کوسانس لینے کے لائق بنانے کے لیے کوئی قدم نہیں اٹھایا۔ اگر آج بچوں کے پھیپھڑے متاثر ہوگئے تو تصور کیجیے کہ بیس سال بعدانہیں کن بیماریوں سے دوچار ہونا پڑے گا۔‘‘


دریں اثنا بھارت میں فضائی آلودگی کے مضمرات کا معاملہ آج منگل 19 دسمبر کو پارلیمان کے ایوان بالا میں بھی اٹھایا گیا۔ اپوزیشن کانگریس کے رکن پارلیمان پرتاپ سنگھ باجوا نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ کھیتوں میں فصلوں کی کٹائی کے بعد بچے ہوئے اجزاء کوجلانے سے پیدا ہونے والی آلودگی کے مسئلے کا مستقل حل نکالا جانا چاہیے۔ اسی وجہ سے پچھلے دنوں شمالی بھارت میں اسموگ کا سنگین مسئلہ پیدا ہوگیا تھا۔ باجوا کا کہنا تھا کہ حکومت اگر صرف چھ یا سات رافیل جنگی طیارہ نہ خریدے اور اس رقم کوآلودگی پر قابو پانے کے لیے خرچ کردے تو یہ مسئلہ حل ہوسکتا ہے۔ باجوا کا مزید کہنا تھا کہ گزشتہ دنوں قومی دارالحکومت میں فضآئی آلودگی کی وجہ سے سری لنکا کے کرکٹ کھلاڑیوں نے میچ کھیلنے سے انکار کردیا تھا۔ یہ قومی شرم کی بات ہے۔

ویڈیو دیکھیے 03:02

نئی دہلی: فضائی آلودگی کے سبب اسکول بند، لوگ پریشان

DW.COM

Audios and videos on the topic

ملتے جلتے مندرجات