1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

صحت

بھارت، تبدیلیٴ جنس کے آپریشن کے خواہاں افراد کا پسندیدہ ملک

اعصابی تناؤ سے کئی عشروں تک نبرد آزما رہنے کے بعد سابق امریکی فوجی ڈیل آرچر نے جنسی تبدیلی کے آپریشن کے لیے بالآخر انڈیا کے دارالحکومت نئی دہلی کا رخ کیا۔ آج کل بہت سے غیر ملکی اس مقصد کے لیے بھارت کا رخ کر رہے ہیں۔

چونسٹھ سالہ ڈیل آرچر اب بَیٹی این آرچر نامی ایک امریکی خاتون ہے۔ اپنے بارے میں بتاتے ہوئے اُس نے کہا کہ اسے اپنے بچپن سے ہی ایسا لگتا تھا، جیسے وہ کسی غلط جسم میں قیام پذیر ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ وہ کیسے اپنے تنگ نظر فوجی والد کے خوف سے چھپ چھپ کر اپنی والدہ کے کپڑے پہنا کرتی تھیں۔

امریکی ریاست ایریزونا کی رہائشی مس آرچر کا کہنا تھا:’’میں نے دو مرتبہ خود کشی کی کوشش کی،مجھے اپنا آپ اور اپنا جسم بالکل پسند نہیں تھا، میں خود میں مکمل نہیں تھی۔ مَیں دو ہزار گیارہ میں شدید بیمار ہو گئی۔‘‘

وہ نیلی ساڑھی اور روایتی ہندوستانی زیورات پہنے ہوئے تھیں، جو انہوں نے اپنے آپریشن کے بعد دہلی سے خریدے تھے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ خواجہ سراؤں کی ایک مختصر لیکن مسلسل بڑھتی ہوئی تعداد ایسے آپریشنز کے لیے

قدامت پسند ملک بھارت کا سفر کرتی ہے،کیونکہ یہاں ایسے آپریشن ارزاں بھی ہیں اور انتظار کی زحمت بھی نہیں اٹھانا پڑتی۔

آج کل تبدیلیٴ جنس کے آپریشنز میں سر فہرست ملک تھائی لینڈ ہے تاہم بعض افراد اس مقصد کے لیے بھارت کو ترجیح دے رہے ہیں حالانکہ خود بھارت میں خواجہ سراؤں سے امتیازی سلوک کیا جاتا ہے۔

EINSCHRÄNKUNG!! -- Krano & Fadi homosexuelle transgender Flüchtlinge

خواجہ سرا ایسے آپریشنز کے لیے بھارت کا سفر کرتے ہیں

آرچر نے تھائی لینڈ کے کلینکس کے مقابلے میں دہلی کے ’اولمیک سینٹر‘ کا انتخاب اس لیے کیا کہ یہ اسے نسبتاً ارزاں لگا۔

آرچر کے مطابق یہاں آنے والی لاگت قابلِ برداشت ہے اور ایسے خواجہ سراؤں کے لیے ایک اچھا راستہ ہے، جو صرف اس لیے خود کو مارنا چاہتے ہیں کیونکہ وہ اس آپریشن کے اخراجات برداشت نہیں کر سکتے۔

آرچر نے اس سرجری کے لیے چھ ہزار ڈالر ادا کیے، جو ایسے آپریشنز پر امریکا میں آنے والی لاگت کا پانچواں حصہ بنتے ہیں۔

’اولمیک سینٹر‘ بائیس ہزار ڈالرز کے بدلے میں علاج کے ساتھ ساتھ ایئرپورٹ سے کلینک تک آنے کے اخراجات، رہائش، سرجری کے بعد کی نگہداشت، شاپنگ ٹور اور تاج محل کی سیر بھی مہیا کرتا ہے۔

اس سینٹر کے بانی اور پلاسٹک سرجن نریندر کوشک کا کہنا ہے کہ وہ سالانہ تقریباً دو سو تک مقامی لوگوں کے آپریشنز کرتے ہیں لیکن اب غیر ملکیوں کی تعداد میں بھی اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔

برطانیہ، امریکا اور آسٹریلیا جیسے ممالک سے تعلق رکھنے والے افراد کم بجٹ میں سرجری کے لیے جبکہ ترقی پذیر ممالک کے باشندے اپنے ملک کے مقابلے میں بہتر معیار کے علاج معالجے کے لیے بھارت کا انتخاب کرتے ہیں۔

DW.COM