1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

’’بھارت تار جوڑنے میں عجلت نہ کرے‘‘:شاہ محمود قریشی

پاکستانی وزیر خارجہ کا کہنا ہے کہ بھارت، ممبئی حملوں میں پاکستان کے ملوث ہونے کے حوالے سے جلد بازی سے کام نہ لے۔

default

شاہ محمود قریشی نے بھارتی میڈیا پر غیر ذمہ داری کا الزام لگایا۔

اسلام آباد واپسی سے قبل نامہ نگاروں سے گفتگو کرتے ہوئے پاکستانی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ ممبئی حملوں پر فورا کسی طرھ کی رائے قائم کر نا اور کسی کو مورد الزام ٹھہرانا مناسب نہیں ہو گا۔ :’’ہمیں تار جوڑنے میں بھی عجلت نہیں کرنی چاہئے، یقین جانئیے پاکستان میں بھی بہت سے واقعات ہوئے ہیں اور پاکستان میں بھی ایک عنصر ہے جو فورا کہتا ہے بھارت۔‘‘ ان کا کہنا تھا کہ نئی حکومت نے گزشتہ آٹھ ماہ میں بلا جواز کبھی بھارت پر الزام نہیں لگایا کیونکہ پاکستان بھارت کے ساتھ تعلقات میں کشیدگی نہیں چاہتا۔

وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ ماضی میں بھی ایسا کئی بار ہوا کہ بھارت نے پاکستان پر الزامات لگائے اور بعد میں تحقیقات میں معاملہ کچھ اور نکلا۔

اسلام آباد پہنچنے پر بھی شاہ محمود قریشی نے مشیر داخلہ رحمان ملک کے ساتھ پریس بریفنگ دی جس میں شاہ محمود قریشی نے بھارتی میڈیا پر غیر ذمہ داری کا الزام لگایا۔

وزیر خارجہ نے کہا کہ ممبئی دھماکوں سے پیدا ہونے والی صورتحال سنگین ہے ان کا کہناتھا کہ بہتری کی امید جبکہ بدترین صورتحال سے نمٹنے کی منصوبہ بندی کرنی چاہئے۔ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ پاکستان دہشت گردی کے خاتمے کیلئے پر عزم ہے۔ شاہ محمود قریشی نے بتایا کہ موجودہ حکومت برسراقتدار آنے کے بعد بھارت سے ہر سطح پر رابطے میں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بھارت کے عجلت میں دیئے جانے والے بیانات دہشت گردوں کی مدد کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا:’’ پاکستان ذمہ دار ملک ہے اور ممبئی دھماکوں میں کسی صورت ملوث نہیں اگر بھارت کے پاس شواہد ہیں تو پیش کرے ہم ہر قسم کے تعاون کیلئے تیار ہیں۔‘‘

پاکستانی وزیر خارجہ نے کہا کہ موجودہ صورتحال سے باہر نکلنا پاکستان اور بھارت دونوں کے مفاد میں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ دہشت گردوں کا نیٹ ورک بین الاقوامی نوعیت کا ہے۔ جس سے برطانیہ اور امریکہ بھی متاثر ہیں۔ شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ سانحہ سمجھوتہ ایکسپریس کا الزام بھی پاکستان پر عائد کیا گیا لیکن بھارتی تحقیقات نے ہی سے غلط ثابت کیا۔