1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

بھارت: بہار میں پولیس کو15مادہ جنین ملے ہیں

بھارتی ریاست بہار میں 15غیر مولود بچیوں کے ’فیٹس‘ ایک ایسے وقت میں ملے ہیں جب حال ہی میں کی گئی مردم شماری کے نتائج کے مطابق پہلی مرتبہ ملک میں لڑکو ں کے مقابلے میں لڑکیوں کی شرح اپنی نچلی ترین پر سطح آ گئی ہے۔

default

پولیس کے مطابق یہ جنین ایک نرسنگ ہوم کے قریب واقع کوڑے دان سے ملے ہیں۔ بچوں نے کرکٹ کھیلنے کے دوران بند بوتلوں میں ان جنین کو دیکھ کو علاقے کے لوگوں کو اطلاع دی، جس کے بعد پولیس نے ان 15بوتلوں کو اپنے قبضے میں لیتے ہوئے واقعے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں۔

پلاسٹک کی بوتلوں میں بند یہ جنین چار سے چھ ہفتے کی درمیانی عمر کے ہیں۔ ان کے علاوہ 2 نر غیر مولود جنین بھی ملے ہیں۔ پولیس سپریٹنڈنٹ آر کے مشریٰ کے بقول ’’ ہم اس وقت شدید صدمے میں ہیں اوران افراد تک پہنچنے کی کوشش کی جا رہی ہے جو اسقاط حمل کے اس واقعے میں ملوث ہیں۔‘‘

گزشتہ ہفتے بھارت میں کرائی گئی مردم شماری کے غیر سرکاری نتائج سے معلوم ہوا تھا کہ ملک میں چھ سال سے کم ہر ایک ہزار لڑکوں کے مقابلے میں 914 لڑکیاں ہیں جبکہ ایک دہائی قبل کرائی گئی مردم شمار میں یہ شرح ایک ہزار کے مقابلے میں 927 تھی۔

Lächelnde Babys auf neuen Ultraschall-Geräten?

گزشتہ برسوں کے دوران بھارت میں ہونے والی اقتصادی ترقی کے باوجود معاشرے میں لڑکیوں کے خلاف تعصب واضح دکھائی دیتا ہے

گزشتہ برسوں کے دوران بھارت میں ہونے والی اقتصادی ترقی کے باوجود معاشرے میں لڑکیوں کے خلاف تعصب واضح دکھائی دیتا ہے۔ بہت سے افراد الٹرا ساؤنڈ کی سہولت کا غلط استعمال کرتے ہوئے اسقاط حمل کروا دیتے ہیں اور یہ رجحان اب بڑھتا جا رہا ہے۔ اسی طرح خواتین پر لڑکے پیدا کرنے کا بہت زیادہ دباؤ بھی ہوتا ہے۔ جنوبی ایشیا کے دیگر معاشروں کی طرح لڑکے کو خاندان کا سہارا جبکہ لڑکیوں کو ایک بوجھ سمجھا جاتا ہے۔

بھارت میں لڑکیوں کا پیدائش کے بعد گلا گھونٹنے، انہیں زہر دینے اور پانی میں ڈبو دینے جیسے واقعات کی تاریخ کافی پرانی ہے۔ تاہم اب جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے ماں باپ کو رحم مادر میں ہی بچے کی جنس کے بارے میں معلوم ہو جاتا ہے، جس کی وجہ سے ماں کے پیٹ میں لڑکی ہونے کی صورت میں اسقاط حمل کر وادیا جاتا ہے۔ بھارتی حکومت کی جانب سے لڑکیوں کے ساتھ روا رکھے جانے والے سلوک کو بہترکرنے کے لیے ایک آگاہی مہم کافی عرصے سے جاری ہے۔

رپورٹ: عدنان اسحاق

ادارت: شامل شمس

DW.COM

ویب لنکس