1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

بھارت بلوچستان میں دہشت گردی کو ہوا دے رہا ہے، سرتاج عزیز

پاکستان اور بھارت میں یوم آزادی کے موقع پر دیے گئے سرکاری بیانات سوشل میڈیا پر بحث و تکرار کا موضع بنے ہوئے ہیں تاہم زیادہ تر لوگوں کا یہ کہنا ہے کہ دونوں ممالک کو اب الفاظ کی اس جنگ کو ختم کر دینا چاہیے۔

گزشتہ روز پاکستان کے وزیراعظم کے مشیر برائے خارجہ امور سرتاج عزیز نے بھارتی وزیراعظم نریندرمودی کے بھارت کے یوم آزادی کے موقع پر خطاب میں پاکستان سے متعلق چند متنازعہ بیانات پر سخت ردعمل ظاہرکیا۔ سرتاج عزیز نے کہا ہے کہ مودی نے اپنی تقریر میں بلوچستان کا ذکر کر کے یہ ثابت کر دیا ہے کہ کہ بھارت پاکستان کے شورش زدہ صوبے بلوچستان میں مداخلت کرتے ہوئے وہاں دہشت گردی کو ہوا دے رہا ہے۔ سرتاج عزیز نے اپنے بیان میں یہ بھی کہا کہ نریندر مودی بھارت کے زیرانتظام کشمیر میں علیحدگی پسندوں کے ساتھ ہونے ہونے والے مظالم اور وہاں کی تشویشناک صورتحال کی طرف سے دنیا کی توجہ ہٹانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ سرتاج عزیز نے کہا کہ گزشتہ چند دنوں میں بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں ستر سے زائد کشمیری ہلاک اور متعدد زخمی ہوگئے ہیں۔

سرتاج عزیز نے کہا کہ بھارت ایک بڑا ملک ہے اسے سمجھنا چاہیے کہ کشمیر کا مسئلہ گولیوں کے ذریعے نہیں بلکہ پاکستان اور بھارت کے درمیان مذاکرات کے ذریعے طے کرنا چاہیے۔

بھارتی وزیراعظم نیرندر مودی نے یوم آزادی پر اپنے خطاب میں پاکستان پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا تھا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ پاکستان سے بلوچستان، گلگت بلتستان اور کشمیر میں کیے جانے والے مظالم کا جواب طلب کیا جائے۔

پاکستان اور بھارت دونوں ممالک کے صحافیوں نے اپنے ممالک کی قیادت کے تند وتیز بیانات پر دلچسپ تبصرے کیے۔

دونوں ممالک کی جانب سے شدید نوعیت کے بیانات پر نامور کالم نگار وسعت اللہ خان نے ایکسپریس اخبار میں اپنے کالم میں لکھا،’’ المیہ یہ نہیں کہ بھارت اور پاکستان کی قیادت کس طرح لفظی جنگ میں لاکھوں لوگوں کے ارمان بطور ایندھن استعمال کر رہی ہے بلکہ المیہ یہ ہے کہ دونوں قیادتوں کا موقف اور حکمتِ عملی وقتی ضرورتوں کے حساب سے مستقل ٹھنڈی گرم، منفی و مثبت،عقل و بے عقلی کی سان پر چڑھی رہتی ہے۔ چنانچہ سائل پریشان ہی رہتا ہے کہ دلی و اسلام آباد کے کس بیان اور کس موقف پر اعتبار کرے اور کسے نظر انداز کردے۔‘‘

بھارت کے اخبار ’انڈین ایکسپریس‘ میں سی راجہ موہن نے اس حوالے سے لکھا ’’بلوچستان اور گلگت کے حوالے سے مودی کے بیان کو میڈیا توجہ حاصل ہوئی ہے لیکن ان کی تقریر کا اگر غور سے جائزہ لیا جائے تو یہ پتا چلتا ہے کہ وہ پاکستان سے مذاکرات کا عمل ختم نہیں کرنا چاہتے۔ بے شک مودی نے پاکستان پر تنقید کی ہے لیکن انہوں نے سن 2014 میں پشاور میں ہونے والے خودکش حملے پر بھارت کی ہمدردی کا بھی ذکر کیا ہے۔ مودی نے علاقائی تعاون اور دہشت گردی کے خلاف مشترکہ حکمت عمل تشکیل دینے کا بھی ذکر کیا ہے۔‘‘

DW.COM