1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

بھارت برآمد کیے جانے والے افغانستان کے پھل گلنے سٹرنے لگے

جنوبی افغانستان سے پھلوں کو ہوائی راستے  کے ذریعے بھارت بھجوانے کا منصوبہ ناکام ہو گیا ہے۔ جس کی وجہ سے کئی ٹن انگور اور خربوزے گل سڑ  رہے ہیں۔ متعلقہ انتطامیہ کی کوشش ہے کہ  ان پھلوں کو جلد از جلد بھارت پہنچایا جائے۔

یہ مسئلہ ظاہر کرتا ہے کہ افغانستان کو اپنی معیشیت کی تعمیر نو  کے لیے کن مشکلات کا سامنا ہے۔ افغانستان میں زراعت کے شعبے سے وابستہ افراد کو جو سالانہ 360 ملین ڈالر کی برآمدات کرتے ہیں، برسہا برس سے پہاڑوں اور دشوار گزار راستوں والے اس ملک سے  اپنی مصنوعات باہر بھجوانے کے چیلنج کا سامنا رہا ہے۔ سامان کی ترسیل کے لیے ہوائی جہازوں کی پروازیں ان تاجروں کے لیے امید کی کرن ثابت ہوئی ہیں۔

لیکن پروازوں کا یہ نظام موثر ثابت نہیں ہوا۔ بھارت کے لیے قندھار سے چند ہی پروازیں جاتی  یں جس کے باعث کچھ تاجروں کو  بے پناہ مالی نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے۔ قندھار فروٹ منڈی کے سربراہ حاجی سعادالدین نے روئٹرز کو بتایا ،’’ہم نے چالیس ٹن پھل  ڈبوں میں بند کیا تھا جس میں زیادہ تر  انگور اور خربوزے تھے۔ لیکن کئی ہفتوں سے بھارت کے لیے یہاں سے پرواز  روانہ نہیں ہوئی اور  ہمیں اس پھل کو آدھی قیمت پر  مقامی منڈی میں فروخت کرنا پڑا۔‘‘

Afghanistan Landwirtschaft Melonen (Getty Images/AFP/R. Alizadah)

کئی افراد نے قرضہ لے کر پھلوں کا کاروبار شروع کیا تھا اور اب ان کا سرمایہ ڈوب گیا ہے

افغان صدر اشرف غنی نے اس ہفتے حکم دیا تھا کہ مقامی انتظامیہ اس بات کو یقینی بنائے کہ ہر پرواز میں اسّی سے سو ٹن پھل لے جایا جائے گا۔ کابل میں چیمبر آف کامرس کے حکام کا کہنا ہے کہ وہ کوشش کر رہے ہیں کہ وہ آریانہ ایئر لائن کے علاوہ  ایک اور افغان ایئر لائن کے ساتھ معاہدہ طے کریں۔

قندھار چیمبر آف کامرس کے سربراہ حاجی نصر  اللہ ظہیر نے روئٹرز کو بتایا،’’ اس وقت قندھار میں پھلوں کا موسم ہے لیکن پروازوں کی کمی کے باعث پھل خراب ہو گئے ہیں۔‘‘

Flash-Galerie Obst in Afghanistan (DW/Najibullah Musafer)

افغانستان کو اپنی معیشیت کی تعمیر نو  کے لیے بہت سی مشکلات کا سامنا ہے

بھارت اور کابل کے حکام  نے کوشش کی ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان ہوائی جہازوں کے ذریعے تجارت کو بڑھایا جائے کیوں کہ پاکستان اکثر افغانستان کے ساتھ زمینی راستوں پر بندش عائد کر دیتا ہے۔ قندھار میں پھل فروشوں کو یہ بھی شکوہ ہے کہ شہر میں پھلوں کو اسٹور کرنے کے لیے مناسب سردخانہ موجود نہیں ہے۔

آریانہ ایئر لائن کی انتظامیہ کا  کہنا ہے کہ حج پروازوں کی وجہ سے وہ دیگر  پروازیں نہیں اڑا پا رہے۔ مزید یہ کہ اُسے ایک ’سب کانٹریکٹر‘ نے کارگو جہاز مہیا نہیں کیا جس کی وجہ سے یہ مسئلہ ہوا۔ اطلاعات کے مطابق افغان حکومت ان تاجروں کو معاونت فراہم کرے گی جنہیں نقصان پہنچا ہے تاہم  تاجروں کا کہنا ہے کہ کئی افراد نے قرضہ لے کر پھلوں کا کاروبار شروع کیا تھا اور اب ان کا سرمایہ ڈوب گیا ہے۔

DW.COM