1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

بھارت: بدعنوانی سے آزادی کی جنگ

سماجی کارکن انا ہزارے کی قیادت میں شروع کی گئی بدعنوانی کے خلاف تحریک کونہ صرف پورے ملک میں حمایت مل رہی ہے بلکہ متعدد دیگر ملکوں میں بھی اس کے حق میں مظاہرے ہوئے ہیں۔

default

معروف سماجی کارکن انا ہزارے

مصر کے تحریر اسکوائر کی طرح بھارتی دارالحکومت نئی دہلی کا جنتر منتر ان دنوں حکومت مخالف مظاہرین کا مرکز بنا ہوا ہے۔ مظاہرین بدعنوانی کے خلاف ایک جامع قانون سازی کا مطالبہ کررہے ہیں۔

بدعنوانی کے خلاف ’عوامی لوک پال بل‘ یا جامع قانون سازی کے لئے انا ہزارے کی غیرمعینہ مدت کی بھوک ہڑتال کو ملنے والی زبردست عوامی تائید و حمایت سے گھبرا کر حکومت آج تیسرے دن اس کا نوٹس لینے کے لئے مجبور دکھائی دی۔حکومت نے پہلے تو وزراء اور سول سوسائٹی کے افراد پر مشتمل ایک غیر رسمی گروپ بنانے کا اعلان کیا لیکن جب مظاہرین نے اسے مسترد کردیا تواس نے ایک مشترکہ کمیٹی کے قیام پر رضامندی ظاہر کی، لیکن کمیٹی کے قیام کا نوٹیفیکیشن جاری کرنے کے معاملے پرفریقین میں اختلاف پیدا ہوگیا ہے۔ حکومت اس کمیٹی کا سربراہ انا ہزارے کو بنانے کے مطالبے کو بھی تسلیم کرنے کے لئے تیار نہیں ہے۔

Anna Hazare Indien Aktivist

تحریک زور پکڑتی جا رہی ہے

مشہور سماجی کارکن سوامی اگنی ویش اور اروند کیجریوال کے ساتھ دو ادوار کی بات چیت کے بعد مرکزی وزیر کپل سبل نے کہا کہ حکومت کو اس معاملے پر مزید وقت کی ضرورت ہے۔

دوسری طرف72 سالہ انا ہزارے نے اعلان کیا کہ جب تک ان کی باتیں نہیں مانی جاتیں وہ بھوک ہڑتا ل جاری رکھیں گے۔ ان کے ساتھ بھوک ہڑتال پر بیٹھنے والوں کی تعداد مسلسل بڑھتی جارہی ہے اور اس وقت 200 سے زیادہ کارکن جنتر منتر پر ان کے ساتھ بھوک ہڑتال پر ہیں جب کہ ان کی حمایت میں بڑی تعداد میں لوگ پورے ملک سے یہاں پہنچ رہے ہیں۔ ان میں بڑی تعداد طلبہ اور نوجوانوں کی ہے۔

دوسری طرف پٹنہ، بنگلور، جے پور، چنڈی گڑھ، لکھنؤ، پونے اور ممبئی سمیت پورے ملک میں ان کی حمایت میں مظاہرے ہورہے ہیں۔ انٹرنیٹ پر ٹوئٹر اور فیس بک سمیت کئی سوشل نیٹ ورکنگ سائٹس پر بھی انا ہزارے کی تحریک کو زبردست حمایت مل رہی ہے ۔ متعدد فلمی ہستیوں، وکلا، ججوں اور دانشورں نے اس تحریک کے تئیں حمایت کا اعلان کیا ہے۔

Anna Hazare Indien Aktivist

بھوک ہڑتال جاری رکھوں گا، ہزارے

اس تحریک میں پیدا ہونے والی شدّت کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جاسکتا ہے کہ انا ہزارے کے بیان کے بعدحکومت کے سینئر رہنما اور مرکزی وزیر برائے زراعت شرد پوار نے حکومت کی طرف سے قائم کردہ انسداد بدعنوانی کی کمیٹی سے استعفی دے دیا جب کہ انا ہزارے کے حامیوں نے مدھیہ پردیش کی سابق وزیر اعلی اوما بھارتی اور ہریانہ کے سابق وزیر اعلی اوم پرکاش چوٹالہ کو جنتر منترتک پہنچنے نہیں دیا۔

خیال رہے کہ آزادی کے بعد بھارت میں کسی قانون کے لئے اتنی بڑی تحریک دیکھنے میں نہیں آئی ہے حالانکہ لوک پال بل کی تجویز 1967 میں آئی تھی اور 1969 میں لوک سبھا نے اسے پاس بھی کردیا تھا لیکن 42 برس گذر جانے کے باوجود یہ بل ابھی تک عملی شکل اختیار نہیں کرسکا ہے۔اس دوران چھوٹی بڑی چودہ کوششیں کی جا چکی ہیں۔ آٹھ مرتبہ سرکاری بل کے طور اور چھ مرتبہ غیرسرکاری بل کے طور پر پاس کرانے کی کوشش کی گئی لیکن کسی نہ کسی بہانے اس میں رخنہ ڈالا جاتا رہا۔ لیکن تازہ تحریک صرف اسے قانون بنانے تک محدود نہیں ہے بلکہ اس قانون کی تفصیلات کے سلسلے میں بھی ہے۔عوام سرکاری لوک پال بل کو ناکافی قرار دے کر اس کی مخالفت کررہے ہیں اور اس کی جگہ ایک عوامی لوک پال بل لانے کی بات کررہے ہیں۔

دراصل لوک پال کے قیام اور اس کے طریقہ کار کے سلسلے میں سرکاری اور عوامی لوک پال بل میں کافی فرق ہے۔عوامی لوک پال بل میں لوک پال کی تقرری کے عمل کو شفّاف بنانے کی بات کہی گئی ہے اور سماج میں اچھی ساکھ رکھنے والے کسی شخص کو اس کا اہل قرار دیا گیا ہے لیکن حکومت کا کہناہے کہ کسی ایسی کمیٹی میں جس میں مرکزی وزراء بھی شامل ہوں کسی دوسرے شخص کو اس کا سربراہ نہیں بنایا جاسکتا ہے۔

یہاں تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ انا ہزارے کی اس تحریک کو اتنی بڑی حمایت اس لئے مل رہی ہے کیوں کہ یہاں کے عوام بدعنوانی سے تنگ آچکے ہیں۔ اوپر سے نیچے تک ہر جگہ بدعنوانی کی لعنت موجود ہے حتیٰ کہ عدلیہ بھی اس سے پاک نہیں رہ گئی ہے جس سے عوام کا اعتماد متزلزل ہوگیا ہے اور ان کے صبر و تحمل کا پیمانہ لبریز ہوگیا ہے۔

رپورٹ: افتخار گیلانی، نئی دہلی

ادارت: شامل شمس

DW.COM