1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

بھارت، ایک اور مذہبی گرو پر عقیدت مند خاتون کے ریپ کا الزام

بھارت میں ایک اور معروف مذہبی گرو کو ایک اکیس سالہ لڑکی کے ساتھ مبینہ جنسی زیادتی کے الزام میں گرفتار کر لیا گیا ہے۔ اس سے قبل ڈیرہ سچا سودا کے گرو گرمیت سنگھ کو اسی نوعیت کے جرم میں دس برس قید کی سزا سنائی گئی تھی۔

نئی دہلی میں پولیس افسر جے سنگھ نتھاوت کے مطابق متاثرہ خاتون نے ستر سالہ گرو کوشلیندرہ پراپن اچاریہ فلاہاری مہاراجہ کے خلاف زیادتی کی رپورٹ میں کہا ہے کہ گرو نے اس کے ساتھ سات اگست کو بھارتی ریاست راجھستان کے ایک شہر الوار میں واقع  اپنے مرکزی دفتر میں جنسی زیادتی کی تھی۔ اس خاتون کے والدین بھی روحانی گرو کے ماننے والوں میں سے ہیں۔

خاتون نے بتایا کہ نام نہاد روحانی گرو نے اس زیادتی کے بارے میں کسی کو کچھ نہ بتانے کی تنبیہ کی تھی لیکن ریپ کے الزام میں مجرم قرار دیے گئے ایک اور ہندو مذہبی رہنما گرو گرمیت رام رحیم سنگھ کو عدالت کی جانب سے دس برس قید کی سزا سنائے جانے کے بعد اس لڑکی کے حوصلے بلند ہوئے اور اُس نے اپنے ساتھ ہونے والی مبینہ زیادتی کی رپورٹ درج کروانے کا فیصلہ کیا۔

دریں اثنا ایک بھارتی عدالت نے  فلاہاری مہاراجہ کو پندرہ روز کے لیے جیل بھیجنے کا فیصلہ سنایا ہے جبکہ اس دوران پولیس اس حوالے سے اپنی تحقیقات مکمل کرے گی۔

خاتون کے ساتھ مبینہ جنسی زیادتی اس وقت ہوئی جب وہ گرو کی سفارش پر نئی دہلی میں ایک وکیل کے پاس انٹرن شپ کے بعد کمائے ہوئے تین ہزار روپے اُس کے حوالے کرنے گئی تھی۔ بھارت میں گرمیت سنگھ کے  ڈیرہ سچا سودا جیسے مذ ہبی فرقوں کو عوام کی کافی اکثریت حاصل ہے۔ یہ بات اہم ہے کہ بھارت میں خواتین کے خلاف جنسی حملوں اور اسی طرز کے دیگر جرائم میں حالیہ برسوں میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

DW.COM