1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

بھارت: ایس ایم کرشنا نئے وزیر خارجہ

ڈاکٹر من موہن سنگھ کابینہ میں شامل 19 وزیروں میں سے چھ کے محکموں کے اعلان کے ساتھ ہی نئی دہلی میں نئی ملکی حکومت نے اپنا کام کاج سنبھال لیا ہے۔ ان وزراء سے صدر پرتبھا پاٹل نے جمعہ کے روز حلف لیا تھا۔

default

کانگریس پارٹی کی صدر سونیا گاندھی من موہن سنگھ کو حلف برداری کے بعد مبارکباد دیتے ہوئے

دوسری مرتبہ اپنے عہدے کا حلف اٹھانے والے وزیر اعظم من موہن سنگھ نے ہفتہ کے روز چھ وزیروں میں وزارتیں تقسیم کیں۔ ان میں سے ایک 77سالہ سومن ہلی ملیا کرشنا ہیں جہیں نیا وزیر خارجہ بنایا گیا ہے ۔ وہ کرناٹک کے سابق وزیر اعلیٰ اور مہاراشٹر کے گورنر رہ چکے ہیں۔ ایس ایم کرشنا امریکہ کی Southern Methodist یونیورسٹی اور جارج واشنگٹن یونیورسٹی سے تعلیم یافتہ ہیں اور انہوں نے امریکی صدر جان ایف کینیڈی کی صدارتی مہم میں شمولیت کے ساتھ اپنی سرگرم سیاست کا آغاز کیا تھا۔

سابق وزیر خارجہ پرنب مکھرجی کو وزارت خزانہ کی ذمہ داری سونپی گئی ہے جبکہ پی چدمبرم کو وزیر داخلہ ‘ شرد پوار کو وزیر زراعت اور اے کے انتھونی کو وزیر دفاع کے طور پر ان کے سابقہ عہدوں پر برقرار رکھا گیا ہے۔

کانگریس پارٹی کی حلیف ممتا بنرجی کو ان کی پسندیدہ ریلوے کی وزارت دی گئی ہے۔ اس سے پہلے بھی وہ بھارتیہ جنتا پارٹی کی قیادت والی NDA کی حکومت میں ریلوے کی وزیر رہ چکی ہیں۔ انہوں نے حالیہ انتخابات سے ذرا پہلے ہی این ڈی اے سے ناطہ توڑ کر کانگریس پارٹی کے ساتھ اتحاد کیا تھا۔

Pranab Mukherjee

اب تک وزیر خارجہ کےعہدے پر فائز مکھرجی جنہیں وزیر خزانہ بنا دیا گیا ہے

بقیہ وزارتیں فی الحال وزیر اعظم من موہن سنگھ ہی کے پاس ہیں تاہم امید ہے کہ آئندہ منگل کے روز کابینہ میں توسیع کے بعد دیگر وزیروں کو ان کے قلم دان سونپے جائیں گے۔ اسی د وران یہ امر کافی حد تک طے ہو چکا ہے کہ حکمران UPA کی چیئرپرسن اور کانگریس پارٹی کی صدر سونیا گاندھی کے بیٹے اور پارٹی کے سیکریٹری جنرل راہول گاندھی کابینہ میں شامل نہیں ہوں گے۔ البتہ ان کی یوتھ بریگیڈ کے کئی ارکین کی وزارتوں میں شمولیت کا امکان ہے۔ اس دوران کانگریس پارٹی کی ایک اور حلیف DMK کے ساتھ وزارتوں کی تقسیم کے معاملے پر پیدا شدہ تنازعہ حل کرنے کی کوششیں بھی جاری ہیں۔

ایک ایسے وقت میں جب پاکستان، سری لنکا، نیپال، افغانستان اور دیگر پڑوسی ملکوں کے موجودہ سیاسی حالات کو بھارت نظرانداز نہیں کرسکتا، ایس ایم کرشنا کو وزارت خارجہ کا قلمدان سونپنا کس حقیقت کی طرف اشارہ کرتا ہے، اس بارے میں سیاسی تجزیہ کار نیرجا چودھری کہتی ہیں: "سب سے اہم بات یہ ہے کہ ایس ایم کرشنا کا وزیر اعظم کے ساتھ ایک خاص comfort level ہے جو اس بات کا اشارہ ہے کہ وزیر اعظم خارجہ پالیسی پر خاصی توجہ دیں گے اور نئی سمت دیں گے اور ایس ایم کرشنا قدم سے قدم ملاکر ان کا ساتھ دیں گے۔"

Sharad Pawar Landwirtschaftsminister Indien

شرد پوار جو آئندہ بھی وزیر زراعت کے فرائض انجام دیں گے

صنعت و تجارت سے وابستہ تنظیموں نے پرنب مکھرجی کو وزیر خزانہ بنائے جانے کا خیرمقدم کیا ہے۔ تجارتی تنظیموں کی انجمن ایسوچیم کے صدر سجن جندل کا کہنا ہے کہ مکھرجی کابینہ میں سب سے سینئر وزیر ہیں اور وہ کسی بھی بحران کو حل کرنے میں خاصی مہارت رکھتے ہیں۔ بجاج آٹو لمیٹڈ کے چیئرمین اور مشہور صنعت کار راہل بجاج نے امید ظاہر کی کہ پرنب مکھرجی سے بھارتی صنعت کو کافی فائدہ پہنچے گا۔

دریں اثنا وزیر اعظم ڈاکٹر سنگھ کی صدارت میں نئی کابینہ کا ہفتہ کے روز پہلا اجلاس ہوا جس میں پارلیمان کا اجلاس یکم جون کو طلب کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ دو اور تین جون کو نئے اراکین پارلیمان حلف لیں گے، تین جون کو اسپیکر کا انتخاب ہو گا اور چار جون کو صدر پرتبھا پاٹل پارلیمان کے دونوں ایوانوں کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کریں گی۔

پی چدمبرم نے بتایا کہ نو جون تک چلنے والے مختصر اجلاس میں کوئی بجٹ پیش نہیں کیا جائے گا۔ تاہم انہوں نے امید ظاہر کی کہ بجٹ کو 31 جولائی تک منظور کرالیا جائے گا۔ خیال رہے کہ حکومت نے گذشتہ فروری میں عبوری بجٹ پیش کیا تھا۔

DW.COM