1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

بھارت: ایروم شرمیلا کی سولہ سالہ بھوک ہڑتال ختم

بھارت میں حقوق انسانی کی علمبردار اور پختہ عزم کی علامت بن کت ابھرنے والی ایروم شرمیلا نے بھارتی سکیورٹی فورسز کے مبینہ مظالم کے خلاف سولہ برس سے جاری اپنی بھوک ہڑتال ختم کردی ہے۔

چوالیس سالہ ایروم چانو شرمیلا بھارت کے شمال مشرقی ریاست منی پور میں آرمی کے مبینہ مظالم اور سخت گیر قانون ’آرمڈ فورسز اسپیشل پاور ایکٹ‘ کوختم کرنے کے مطالبہ پر پچھلے سولہ برسوں سے بھوک ہڑتال پر تھیں۔ انہوں نے منی پور کے ریاستی دارالحکومت امپھال میں آج نو اگست کو شہد کھا کر اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی ہے۔

خاتون آہن کے نام سے مشہور ایروم شرمیلا بھوک ہڑتال ختم کرنے کا اعلان کرتے وقت جذباتی ہوگئیں۔ انہوں نے کہا، ’’میں سولہ سال سے بھوک ہڑتال پر تھی لیکن اس سے کچھ حاصل نہیں کر سکی۔ میں نے اپنی جد وجہد ختم نہیں کی ہے لیکن اب میں احتجاج کا دوسرا طریقہ اپنانا چاہتی ہوں، میں عدم تشدد کا راستہ اپناؤں گی ۔ میں انتخاب میں حصہ لینا چاہتی ہوں اور وزیر اعلیٰ بننا چاہتی ہوں۔ عوام میری طاقت ہوں گے اور میں انہیں ساتھ لے کر چلنے کی کوشش کروں گی۔‘‘

Irom Sharmila NESO Indien

بھارتی قانون کی نگاہ میں وہ ایک ملزم تھیں لیکن عام لوگوں کے درمیان ایروم کی شخصیت ایک مسیحا کی بن گئی تھی


خیال رہے کہ سن دو ہزار کو بھارتی سکیورٹی فورسز کے ہاتھوں دس شہریوں کی ہلاکت کے بعد شرمیلا نے اپنی بھوک ہڑتال شروع کی تھی۔ انہوں نے ریاست میں نافذ آرمڈ فورسز اسپیشل پاور ایکٹ کو ختم کرنے کا بھی مطالبہ کیا تھا۔ یہ بھارتی قانون فوج کو کشیدہ علاقوں میں غیر معمولی اختیارات اور قصور وار فوجی کو عدالت کے سامنے جوابدہ ہونے سے مستثنیٰ قرار دیتا ہے۔ بھوک ہڑتال کے تین روز بعد ہی ریاستی حکومت نے ایروم شرمیلا کو خودکشی کی کوشش کے الزام میں گرفتار کر لیا تھا۔ دنیا میں غالباً سب سے طویل عرصہ تک بھوک ہڑتال پر رہنے والی شرمیلا کو اس دوران ناک میں لگے ایک پائپ کے ذریعے غذا دی جاتی تھی اور ان کا بیشتر وقت پولیس کی نگرانی میں اسپتال میں ہی گزرتا تھا۔

بھارتی قانون کی نگاہ میں وہ ایک ملزم تھیں لیکن عام لوگوں کے درمیان ایروم کی شخصیت ایک مسیحا کی بن گئی تھی۔ شرمیلا سے کئی لوگوں نے بھوک ہڑتال ختم کرنے کی اپیل کی تھی لیکن انہوں نے ان اپیلوں کو مسترد کردیا تھا۔ تاہم انہوں نے پچھلے مہینے بھوک ہڑتال ختم کرنے کا اعلان کر کے سب کو حیرت زدہ کر دیا تھا۔
ایروم کے بھوک ہڑتال ختم کرنے کے بعد سیاست میں قدم رکھنے کے اعلان کے ساتھ ہی مختلف سیاسی جماعتوں میں انہیں اپنی پارٹی میں شامل کرنے کے لئے مقابلہ آرائی شروع ہوگئی ہے۔ جنتا دل یونائٹیڈ کے ایک سینئر لیڈر تو بھوک ہڑتال ختم کرنے سے پہلے ہی ان کے پاس دعوت نامہ لے کر پہنچ گئے۔ بھارتیہ جنتا پارٹی نے کہا ہے کہ اگر وہ پارٹی میں شامل ہوتی ہیں تو ان کا خیر مقدم کیا جائے گا۔کانگریس پارٹی نے شرمیلا کے عزم و حوصلے کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ بھارت کی سب سے قدیم پارٹی خاتون آہن کا استقبال کرنے کے لئے تیار ہے۔

Flash-Galerie Indien Manipur Demonstration

سیاست کے علاوہ ایروم ایک دوسری اننگز بھی شروع کرنے جارہی ہیں۔ ایسی اطلاعات ہیں کہ وہ بھارت نژاد برطانوی شہری ڈیسمنڈ کوٹینہو کے ساتھ جلد ہی رشتہ ازدواج میں بندھنے والی ہیں۔ ایروم نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا، ’’مجھے ایک سخت عورت سمجھا جاتا ہے آخر مجھے عام انسان کی طرح کیوں نہیں دیکھا جاتا۔’تاہم ایک انتہاپسند گروپ نے یہ دھمکی بھی دی ہے کہ اگر انہوں نے شادی کی تو انہیں قتل کر دیا جائے گا۔
دریں اثناء انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے یہاں ایک پریس بیان جاری کر کے حکومت سے آرمڈ فورسز اسپیشل پاور ایکٹ (افسپا) کو ختم کرنے اور ایروم کے خلاف درج تمام مقدمات کو واپس لینے کی اپیل کی۔

جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا ہے، ’’ایروم کی سولہ سالہ بھوک ہڑتال اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ حقوق انسانی کی علمبردار ہیں اور ایک مہذب سماج میں افسپا جیسے سیاہ قانون کے لئے کوئی جگہ نہیں ہے۔ ایروم کے بھوک ہڑتال ختم کرنے کے فیصلے نے بھارت کو مذاکرات دوبارہ شروع کرنے اور یہ تسلیم کرنے کا ایک اور موقع دیا ہے کہ افسپا نے ایک ریاست کو پچھلے پینتیس برسوں سے الگ تھلگ کر رکھا ہے۔‘‘
خیال رہے کہ بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں بھی 1990ء سے آرمڈ فورسیز اسپیشل پاور ایکٹ نافذ ہے۔