1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

بھارت ایران کے 6.4 ارب ڈالر ادا کرنے پر تیار

بھارتی مرکزی بینک کا یورپی بینکوں کے ساتھ ایک ایسا معاہدہ طے پا گیا ہے، جس کے تحت تہران حکومت سے خام تیل کی خریداری کرنے والا ملک بھارت تقریباﹰ ساڑھے چھ ارب یورو کے بقیہ جات ادا کر سکے گا۔

سن دو ہزار گیارہ میں بین الاقوامی طاقتوں نے ایرانی جوہری پروگرام کو رکوانے کے لیے تہران کے خلاف پابندیاں عائد کر دی تھیں۔ ان پابندیوں میں یہ بھی شامل تھا کہ ایرانی تیل کے خریدار لین دین کے لیے بینکوں کے بین الاقوامی نیٹ ورک کو استعمال نہیں کر سکیں گے۔

اب رواں برس جنوری سے ایران کے خلاف عائد ان پابندیوں کا خاتمہ ہو چکا ہے اور ایران جلد از جلد اپنے اس سرمائے کو حاصل کرنا چاہتا ہے، جو دوسرے ملکوں کے ذمے واجب الادا ہے۔ ایران کو یقین ہے کہ اربوں ڈالر کی ادائیگیوں کے بعد اس کی جاں بہ لب معیشت بحال ہو سکے گی اور اس اقدام سے ایرانی شہریوں کا معیار زندگی بھی بلند ہو گا۔ اس کے علاوہ ایرانی حکومت اس بات پر بھی خوش ہے کہ وہ دوبارہ عالمی اقتصادی نظام کا حصہ بننے جا رہی ہے۔

قبل ازیں بھارت کی آئل ریفائنریز ترکی کے ہالک بینک کے ذریعے ایران کو رقوم کی ادائیگیاں کرتی رہی ہیں لیکن سن دو ہزار تیرہ میں یہ سلسلہ بھی بند ہو گیا تھا اور ابھی تک بھارتی درآمدی کمپنیوں کے ذمے خریدے گئے ایرانی خام تیل کی مد میں پچپن فیصد رقوم واجب الادا ہیں۔

Iran Erdölindustrie

قبل ازیں بھارت کی آئل ریفائنریز ترکی کے ہالک بینک کے ذریعے ایران کو رقوم کی ادائیگیاں کرتی رہی ہیں لیکن سن دو ہزار تیرہ میں یہ سلسلہ بھی بند ہو گیا تھا

بھارتی وزارت خزانہ کے ذرائع نے نیوز ایجنسی روئٹرز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ’’ایران اور بھارت کے مرکزی بینکوں کے مابین ایک معاہدہ ہو گیا ہے۔ اس کے تحت یورپی بینکوں کا کردار کلیئرنگ ایجنٹوں کا ہو گا۔ ہم رقوم یورپی بینکوں کو ٹرانسفر کریں گے اور وہ انہیں آگے ایرانی بینکوں کو۔‘‘

پابندیوں کے دوران ایرانی تیل کے پینتالیس فیصد بقیہ جات بھارتی یو سی او بینک میں بھی رکھے گئے تھے۔ اطلاعات کے مطابق یہ رقم تقریباﹰ 130 ارب بھارتی روپے (قریب دو ارب امریکی ڈالر) بنتی ہے اور ایران اسے بھارت سے وہ اشیاء درآمد کرنے کے لیے استعمال کرتا آیا ہے، جن پر پابندیاں عائد نہیں تھیں۔

بھارت کے مرکزی وزیر تیل دھرمیندر پردھان نے گزشتہ ماہ ایران کا دورہ کیا تھا اور اس دوران تہران حکومت نے ان سے تیل کی قیمتوں کے بقیہ جات یورپی ایرانی تجارتی بینک (ای آئی ایچ)، اٹلی کے مرکزی بینک اور ترکی کے ہالک بینک کے ذریعے ادا کرنے کا کہا تھا۔

ایران پر پابندیوں کے باوجود بھارت کے ایران کے ساتھ تعلقات متاثر نہیں ہوئے تھے اور بھارت کا شمار ان چند ملکوں میں ہوتا ہے، جو اس مشکل وقت میں بھی ایران سے تیل درآمد کرتے رہے ہیں۔

پابندیوں سے پہلے ایران بھارت کو تیل فراہم کرنے والا دوسرا سب سے بڑا ملک تھا۔ بھارت نے اس سال یکم اپریل کو اپنے لیے یہ ہدف رکھا تھا کہ وہ اب ایران سے چار لاکھ بیرل خام تیل یومیہ خریدا کرے گا۔