1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

بھارت اور پاکستان کے سربراہوں کی متوقع ملاقات

جنوبی ایشیا کے دو دیرینہ حریف بھارت اور پاکستان کے درمیان حالات کو معمول پر لانے کی ایک اور کوشش کے تحت دونوں ملکوں کے خارجہ سکریٹریوں کی مصر کے سیاحتی مقام شرم الشیخ میں با ت چیت ہوئی۔

default

پاکستان اور بھارت کے درمیان تعلقات میں گزشتہ برس نومبر سے تناؤ کی کیفیت چل رہی ہے

دونوں ملکوں کے وزرائے اعظم جمعرات کو ایک دوسرے سے ملاقات کریں گے۔ مصر کی شہر شرم الشیخ میں گوکہ غیروابستہ تحریک (NAM) کے رکن ممالک کے سربراہوں کی کانفرنس ہورہی ہے، لیکن سب کی نگاہیں بھارت اور پاکستان کے وزرائے اعظم کے درمیان ہونے والی ملاقات پر لگی ہوئی ہیں۔ جس میں بھارتی وزیر اعظم ڈاکٹر من موہن سنگھ اپنے پاکستانی ہم منصب یوسف رضا گیلانی کے ساتھ باہمی تعلقا ت کو معمول پر لانے کے لئے جامع مذاکرات کا سلسلہ دوبارہ بحال کرنے کے امکانات کا جائزہ لیں گے۔

اس دوران پاکستان نے بات چیت کے ماحول کو سازگار بنانے کے لئے ممبئی پر گذشتہ سال نومبر میں ہوئے دہشت گردانہ حملوں کے سلسلے میں ملزمان کے خلاف اب تک کئے گئے اقدامات کے متعلق ایک ڈوزئیر اسلام آباد میں بھارتی ہائی کمیشن کے ناظم الامور من پریتوورا کے حوالے کیا ہے۔ تاہم بھارت میں اسٹریٹیجک امور کے ماہرین کا خیال ہے کہ اس طرح کے ڈوزیئر سے دونوں ملکوں کے تعلقات کو معمول پر لانے میں کوئی خاص مدد نہیں ملے گی۔

اسٹریٹیجک امور کے ماہر جنرل افسرکریم نے اس حوالے سے ڈوئچے ویلے سے بات چیت کرتے ہوئے کہاکہ یہ ڈوزیئر صرف ایک رسمی چیز ہے اور جب تک ماہرین اس کا مطالعہ کرکے کسی نتیجہ پر نہیں پہنچتے ہیں کچھ کہنا مشکل ہے اور اس سے زیادہ امید بھی نہیں رکھنی چاہئے۔ انہوں نے مزید کہا کہ جب تک دونوں ملک یہ ذہن نہیں بنالیتے کہ انہیں ساتھ ساتھ رہنا ہے اور پاکستان یہ فیصلہ نہیں کرلیتا ہے کہ وہ بھارت کے خلاف دہشت گردانہ سرگرمیوں کے لئے اپنی سرزمین کو استعمال کرنے کی اجازت نہیں دے گا اس وقت تک تعلقات معمول پر نہیں آسکتے۔

ذرائع کے مطابق اس ڈوزیئر میں ممبئی حملوں کے سلسلے 12 نئے ملزمان کی بھی نشاندہی کی گئی ہے۔ خیال رہے کہ بھارت یہ مطالبہ کرتا رہا ہے کہ جب تک پاکستان بھارت کے خلاف اپنی سرزمین سے جاری مبینہ دہشت گردانہ سرگرمیوں کے خلاف ٹھوس اور معتبر اقدامات نہیں کرتا ہے اس وقت تک اسلام آباد کے ساتھ تعلقات کو معمول پر لانا ممکن نہیں ہے۔

یہاں سرکاری حلقوں کا خیال ہے کہ ابھی یہ کہنا ممکن نہیں ہے کہ دونوں ملکوں کے سربراہوں کے مابین ملاقات کے بعد جامع مذاکرات کا سلسلہ بحال ہوسکے گا یا نہیں۔ جب ہم نے اس سلسلے میں اسٹریٹجک امور کے ماہر میجر جنرل افسر کریم سے ان کی رائے معلوم کی تو انہوں نے کہا: ’’ماحول ایسا نہیں ہے کہ بات بہت آگے بڑھ سکے البتہ دونوں رہنما یہ دکھا سکتے ہیں کہ ہم بات چیت کرنے کے لئے تیار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات میں ڈاکٹر من موہن سنگھ پاکستانی وزیر اعظم سے صرف یہ کہہ سکتے ہیں کہ وہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ پاکستان کی سرزمین سے بھارت کے خلاف دہشت گردانہ سرگرمیاں بند ہوں اور ممبئی حملوں کے ملزمان کو سز ا دلائیں تاکہ وہ پاکستان کے ساتھ بات چیت بحال کرنے کے لئے عوام کو مطمئن کرسکیں۔ دوسری طرف وزیر اعظم یوسف رضاگیلانی بھی یہ یقین دہانی کرائیں گے کہ وہ دہشت گردوں کے خلاف ہر ممکن کارروائی کریں گے۔

رپورٹ : افتخار گیلانی، نئی دہلی

ادارت : عاطف توقیر