1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

بھارت اور شمالی کوریا، میل نہیں پر دوستی ہے

بھارت اور شمالی کوریا کے درمیان قربت دنیا کی سب سے عجیب وغریب دوستی ہے۔ ایک طرف دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت ہے اور دوسری جانب سخت ترین آمریت، مگر اس کے باوجود دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات میں خاصی گرم جوشی پائی جاتی ہے۔

خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان ایسی گہری قربت ایک عجیب بات ہے کہ ایک طرف ایک ایسی جمہوریہ ہے، جہاں مختلف سیاسی جماعتیں پارلیمان میں ایک دوسرے سے جھگڑتی نظر آتی ہیں، ٹی وی اسٹیشن اور ویب سائٹس اور ہزاروں اخبارات آزادنہ طریقے سے اپنی رائے کا اظہار کرتے ہیں جب کہ دوسری جانب ایک ایسا ملک ہے جہاں کوئی سیاسی نظام نہیں، کوئی حزبِ مخالف نہیں اور میڈیا سخت ترین سرکاری کنٹرول میں کام کرتا ہے۔ شمالی کوریا میں انٹرنیٹ تک رسائی بھی صرف چند لوگوں کو ہی میسر ہے اور وہ بھی حکومت کی منظور کردہ ویب سائٹس تک۔

خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق تاہم نئی دہلی اور پیونگ یانگ کے درمیان تعلقات میں گرم جوشی کی وجہ یہ ہے کہ بھارت کو شمالی کوریا کے معدنی ذخائر میں دلچسپی ہے جب کہ شمالی کوریا، جس کے چین کے ساتھ تعلقات اتار چڑھاؤ کا شکار رہتے ہیں، اپنے نئے دوست ڈھونڈنے میں مصروف ہے۔

بھارتی وزارت داخلہ کے ایک انتہائی اعلیٰ عہدیدار کیرن ریجیجُو کے مطابق، ’’ہمیں محسوس ہوتا ہے کہ اس سلسلے میں عمومی رکاوٹیں اور شبے نہیں ہونے چاہییں۔‘‘

بھارتی اخبار ’دی ہندو‘ سے بات چیت میں ریجیجُو کا کہنا تھا، ’’ہم اس صلاح مشورے میں مصروف ہیں کہ شمالی کوریا کے ساتھ تعلقات کو بہتر بنایا جائے۔‘‘

دونوں ممالک کے درمیان تعلقات میں بہتری کا پہلا اشارہ شمالی کوریا کے وزیرخارجہ ری سُو یونگ کا تین روزہ دورہء دہلی تھا۔ انہوں نے یہ دورہ ٹھیک اس وقت کیا، جب نریندر مودی کچھ ہفتے بعد جنوبی کوریا کے دورے پر سیول جانے والے تھے۔

پیونگ یانگ اور نئی دہلی کے درمیان سفارتی تعلقات کشیدگی کا شکار رہے ہیں اور چند دہائیاں قبل تو نئی دہلی کی جانب سے شمالی کوریا پر یہ الزامات بھی سامنے آتے رہے کہ پیونگ یانگ نے پاکستان کو جوہری ٹیکنالوجی فراہم کی ہے، مگر اب شاید وقت تبدیل ہو چکا ہے۔

ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق شمالی کوریا اب یہ تسلم کر چکا ہے کہ جنوبی کوریا اقتصادی طور پر بہت ترقی کر چکا ہے اور اس کا روایتی حلیف ملک چین بھی اب سیول کے ساتھ بڑے پیمانے پر تجارت میں مصروف ہے۔ ادھر بھارت، جسے معدنی وسائل کی کمی کے مسائل لاحق ہیں، اپنی اقتصادی ترقی کے لیے شمالی کوریا کے معدنی وسائل سے فائدہ اٹھانا چاہتا ہے۔