1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

بھارت اور جرمنی کے سفارتی تعلقات کے 60 سال

اس سلسلے میں اگلے سال بھارت میں ”جرمنی کا سال“کے تحت پورے سال مختلف پروگراموں او رنمائش کا اہتمام کیا جائے گا۔ جرمن وزیر خارجہ گیڈو ویسٹر ویلے نے نئی دہلی میں جرمن سفارتخانہ کی عمارت سے متعلق ایک کتاب کا اجراء بھی کیا۔

default

جرمن وزیر خارجہ کی بھارت کے حالیہ دورے پر اپنے ہم منصب سے ملاقات

اس کتاب کے اجراءکے ساتھ ہی اُن تقریبات کا رسمی افتتاح ہو گیا ہے جو اگلے سال کے اواخر تک جاری رہیں گی۔ یہ کتاب بھارت میں جرمن سفیر تھوماس ماٹوسک نے لکھی ہے۔ جس میں جرمن سفارت خانے کی عمارت کی تاریخ اور اس کے فنی پہلووں کا احاطہ کیا گیا ہے۔ تھوماس ماٹوسک نے اس حوالے سے ڈوئچے ویلے سے خصوصی بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ نئی دہلی میں جرمن سفارت خانہ کی عمارت بھارت اور جرمنی کی دوستی کی ایک ٹھوس اور خوبصورت مثال ہے۔ انہوں نے بتایاکہ نئی دہلی میں جرمن سفارت خانہ کی عمارت اس لحاظ سے خصوصی اہمیت کی حامل ہے کہ یہ دوسری عالمی جنگ کے بعد فیڈرل ری پبلک جرمنی کے باہر پہلی سفارتی بلڈنگ ہے۔

Thomas Matussek

بھارت متعینہ جرمن سفیر تھوماس ماٹوسک

اس عمارت کا نقشہ بنانے کی ذمہ داری Johanes Kerhan کو سونپی گئی تھی جو اس سے قبل فرینکفرٹ کے سینٹ پال چرچ کی تعمیر نو سے وابستہ رہے تھے۔ تھامس مٹوسیک کے مطابق سینٹ پال چرچ کی نئی عمارت کو وفاقی جمہوریہ کے نئے فن تعمیر کی علامت سمجھا جاتاہے اور نئی دہلی میں جرمن سفارت خانہ کی عمارت بھی اسی روایت کا حصہ ہے۔ تھوماس ماٹوسک کا کہنا تھا 'ہم روایتی انداز سے ہٹ کر بالکل الگ طرح کی عمارت تعمیر کرنا چاہتے تھے۔ اس لئے یہ عمارت نہ تو نازی اسٹائل کی ہے او رنہ ہی Vell اسٹائل ہے ۔اسے کلاسیکی Bavo اسٹائل کی عمارت کہہ سکتے ہیں۔جس میں روشنی کی آمد کا پورا خیال رکھا گیا ہے اور یہ پوری طرح شفاف عمارت ہے'۔ انہوں نے کہا کہ اس عمارت کے معمار کا کہنا تھا کہ شفاف عمارت جمہوری عمارت ہوتی ہے اور چونکہ سیاست تاریک ہوتی ہے اس لئے عمارت میں تھوڑی روشنی آنے کی گنجائش تو بہر حال ہونی ہی چاہئے۔ تھوماس ماٹوسک نے کہا کہ ’بلاشبہ یہاں ہرطرف روشنی ہے اور یہ دوسری عالمی جنگ کے بعد ماڈرن جرمن طرز تعمیر کا ایک کلاسیکی نمونہ ہے۔‘

اس عمارت کی تعمیر میں چھ برس لگے اور یہ مارچ 1962 میں بن کر تیار ہوئی۔ اگلے برس 'بھارت میں جرمنی کا سال' منائے جانے کے موقع پر اس عمارت کی پچاسویں سالگرہ بھی منائی جائے گی۔

رپورٹ: افتخار گیلانی / نئی دہلی

ادارت: کشور مصطفیٰ

DW.COM

ویب لنکس