1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

سائنس اور ماحول

بھارت اور جرمنی کےمابین سائنسی تعاون میں پیش رفت

جرمنی اور بھارت کے سائنس کے اعلی افسران کا آٹھواں مشترکہ اجلاس نئی دہلی میں ہوا، جس میں جرمن ہاؤس آف سائنس اینڈ انووویشن کے قیام کی تیاریوں کو حتمی شکل دی گئی۔

default

جرمن ہاؤس آف سائنس اینڈ انووویشن دراصل اس اعلی میعاری سائنسی مرکزکا نام ہے، جسے جرمنی نے اپنے ماہرین کی مدد سے دنیا کے صرف چند گنے چنے ملکوں میں ہی قائم کیا ہے۔ بھارت میں قائم کیا جانے والا یہ مرکز ایشیا میں اپنی نوعیت کا پہلا مرکز ہوگا۔ اس وفد نے یہاں ماہرین تعلیم نیز صنعت سے وابستہ اہم شخصیات سے اس موضوع پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔ جرمن وفد کے قائد اورجرمنی کے تعلیم اور تحقیق کے محکمہ کے پارلیمانی اسٹیٹ سیکریٹری تھامس راشل نے اس مرکز کی تفصیل بتاتے ہوئے کہا کہ اس طرح کاپہلا ہاؤس آف سائنس نیویارک میں کھولا گیا اور اب بھارت میں قائم کیا جارہا ہے۔ اس طرح کے دو اور مراکز ٹوکیو اور ساؤ پاؤلو میں ہیں۔

تھامس راشل نے بتایا کہ نئی دہلی میں یہ مرکز بھارت کی خصوصی اہمیت کے مدنظرقائم کیا جارہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جرمنی نے اس پروگرام کی خاطر آئندہ چار برسوں کے لئے بارہ ملین یورو مختص کئے ہیں۔ اس فنڈ کا استعمال جرمنی سے بھارت آنے والے سائنس دانوں اور ریسرچ طلباء کی ضروریات پر کیا جائے گا۔ بھارت حکومت کے شعبہ سائنس و ٹیکنالوجی میں بین الاقوامی تعلقات کے سربراہ ڈاکٹر اے کے سود نے ڈوئچے ویلے کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے ہاؤس آف سائنس اینڈ انووویشن کے قیام پر مسرت کا اظہار کیا اور کہا کہ جرمنی نے یہ بات تسلیم کی ہے کہ بھارت میں سائنس اب کافی ترقی کرچکی ہے لہٰذا دونوں ملکوں کے درمیان سائنسی تعاون کو مزید آگے بڑھانے کی ضرورت ہے۔ اسی لئے دنیا کے دیگر چار ملکوں کی طرح انہوں نے بھارت کو بھی سائنس ہاؤس کے لئے منتخب کیا۔ انہوں نے کہا کہ دنیا اب یہ بات اچھی طرح سمجھنے لگی ہے کہ بھارت آئندہ پندرہ بیس سال میں ایک سائنسی سپر پاور بن جائے گا، اسی لئے تمام ممالک بھارت کے ساتھ تعاون کرنا چاہتے ہیں اور اس سے فائدہ اٹھانا چاہتے ہیں۔

ڈاکٹر سود نے سائنس و ٹیکنالوجی کے شعبے میں بھارت جرمن تعلقات کی اہمیت اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ دونوں ملک کے محققین اپنے اپنے تحقیقی نتائج اور وسائل کو ایک دوسرے سے بانٹ کر کسی زیادہ ٹھوس نتیجے کے قریب پہنچ سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سائنس اور ٹیکنالوجی کے شعبے میں ایک دوسرے کے ساتھ تعاون سے دونوں ملکوں کے محققین کو ایک دوسرے کے ماہرین سے استفادہ کرنے کا خاطر خواہ موقع ملے گا۔

جب ہم نے ڈاکٹر اے کے سود سے پوچھا کہ بھارت اور جرمنی سائنس اور ٹیکنالوجی کے کن کن شعبوں میں ایک دوسرے سے تعاون کریں گے تو انہوں نے کہا کہ دونوں ملک سائنسی تحقیق کے لئے ہر دو سال میں نئے نئے شعبوں کا انتخاب کرتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ابھی دونوں ملکوں کے درمیان انفارمیشن ٹیکنالوجی کے شعبے میں تعاون چل رہا تھا، اب دونوں ملک بایو ٹیکنالوجی میں کام کریں گے۔ کمیکل ٹیکنالوجی اور زرعی ٹیکنالوجی میں بھی کام کرنے کا منصوبہ بنایا جارہا ہے۔

تھامس راشل نے بتایا کہ نئی دہلی کا انڈو جرمن سائنس اینڈ ٹیکنالوجی سینٹر مئی سے کام کرنے لگے گا اور یہ بھارت اور جرمنی کے درمیان سائنس اور ٹیکنالوجی کے شعبے میں باہمی تعاون کو نئی بلندیوں تک لے جانے میں معاون ثابت ہوگا۔

رپورٹ: افتخار گیلانی، نئی دہلی

ادارت: ندیم گِل

DW.COM