1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

بھارت اور امریکا کے درمیان فوجی تعاون کا بڑا مظاہرہ

12 برس کے مذاکرات کے بعد امریکا اور بھارت ایک دوسرے کے ساتھ فوجی لاجسٹکس کے مشترکہ استعمال کے معاہدے کے قریب ہیں۔ چین کی بڑھتی عسکری طاقت کے تناظر میں دونوں ممالک کے درمیان یہ معاہدہ انتہائی کلیدی اہمیت کا حامل ہو گی۔

امریکا بھارت کو ہتھیار فراہم کرنے والا سب سے بڑا ملک بن چکا ہے، جب کہ اس سے قبل بھارت کو سب سے زیادہ ہتھیار روس فروخت کرتا تھا۔ اس کے علاوہ امریکا کسی بھی دوسرے ملک کے مقابلے میں سب سے زیادہ مشترکہ فوجی مشقیں بھی بھارت کے ساتھ کر رہا ہے۔

نئی دہلی کے ساتھ جاری ان مذاکرات میں بھارت کے سب سے بڑے طیارہ بردار بحری جہاز کی تیاری میں مدد کے علاوہ خطے میں چینی بحری بالادستی کے تدارک کے لیے بھارتی بحریہ کو مضبوط بنانے جیسے موضوعات شامل ہیں۔ اس طرح بھارت بحرہند میں اپنے آپریشنز میں اضافہ کر پائے گا۔

Indien Parade Barack Obama Pranab Mukherjee Narendra Modi Mohammad Hamid Ansari 26.1.

امریکا اور بھارت کے درمیان تعلقات میں تاریخی گرم جوشی دیکھی جا رہی ہے

ماضی میں بھارتی حکومت کو یہ تشویش رہی ہے کہ لاجسٹکس کا معاہدہ طے پا جانے پر بھارت جنگ کی صورت میں امریکا کی مدد پر مجبور ہو جائے گا اور اسی وجہ سے اس سلسلے میں جاری مذاکرات سست روی کا شکار رہے ہیں۔ تاہم بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کی حکومت کا کہنا ہے کہ وہ لاجسٹکس سپورٹ ایگریمنٹ LSA پر جلد جلد سے جلد آگے بڑھنا چاہتی ہے۔

اس معاہدے کے تحت دونوں ممالک کی فوج کو یہ اجازت مل جائے گی وہ ایک دوسرے کے بری، بحری اور فضائی اڈے سپلائی، مرمت اور قیام کے لیے استعمال کر سکیں۔

امریکا کی پیسیفک کمان کے سربراہ ایڈمرل ہیری ہیرس کے مطابق طرفین لاجسٹکس معاہدے کے ساتھ ساتھ محفوظ کمیونیکشن کے ایک معاہدے پر بھی کام کر رہے ہیں، جس کے تحت دونوں ممالک کی فوجوں کو ایک دوسرے کے ساتھ کام کرتے ہوئے باہمی رابطے کا ایک ذریعہ میسر آ جائے گا۔ اس کے علاوہ دونوں ممالک فوجی معلومات کے تبادلے کے ایک معاہدے بھی کر رہے ہیں۔

بدھ کے روز ہیرس نے امریکی ایوان نمائندگان کی آرمڈ سروسز کمیٹی کو بتایا، ’’ہم ابھی اس مقام پر نہیں پہنچے جہاں اس معاہدے پر دستخط ہو جانا ہیں، مگر ہم اس کے بہت قریب ہیں۔‘‘

دونوں ممالک مشترکہ بحری گشت پر بھی غور کر رہے ہیں۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ اس گشت میں بحیرہ جنوبی چین میں گشت بھی شامل ہو گا۔ یہ علاقہ چین اور خطے کے متعدد ممالک کے درمیان سرحدی تنازعے کا مرکز ہے۔