1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

بھارت اور افریقہ امید کا مرکز ہیں، نریندر مودی

بھارت میں’ انڈیا اور افریقہ فورم سمٹ‘ کا آغاز ہو چکا ہے۔ اس موقع پر وزیر اعظم نریندر مودی نے اپنے حریف ملک چین کی طرح افریقی ممالک کو ٹیکنالوجی اور آسان شرائط پر قرضے فراہم کرنے کی بات کی ہے۔

بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے’ انڈیا افریقہ فورم سمٹ‘ سے خطاب کرتے ہوئے بھارت اور افریقہ کو امید کا مرکز قرار دیتے ہوئے روشن اقتصادی امکانات کی بات کی۔ اس اجلاس میں چالیس سے زائد افریقی رہنما شرکت کر رہے ہیں۔ مودی نے مزید کہا کہ افریقہ اب کافی مستحکم ہو چکا ہے اور اس براعظم میں شروع کیے جانے والے نئے منصوبے پرانے ناقص نظام کی جگہ لے رہے ہیں اور یہ پیش رفت معاشی انضمام اور اصلاحات کے مابین ایک پل کا کردار ادا کر رہی ہے۔ نریندر مودی کے بقول ایک دہائی سے بھی کم عرصے میں بھارت کی افریقی ممالک کے ساتھ تجارت ستر ارب ڈالر سے تجاوز کر گئی ہے اور یہ براعظم بھارتی سرمایہ کاروں کی اہم ترین منزل بن چکا ہے۔

2008ء میں پہلی بھارت افریقہ سمٹ منعقد ہوئی تھی اور اس وقت سے اب تک نئی دہلی افریقی ممالک کو 7.4 ارب کے رعایتی قرضے اور 1.2 ارب ڈالر کے عطیات دے چکا ہے۔ مودی نے مزید کہا کہ اس دوران بنیادی ڈھانچے، پبلک ٹرانسپورٹ، شفاف توانائی، زراعت، آبپاشی اور صنعتی شعبوں میں افریقہ کے تمام ممالک کے ساتھ تعاون کیا جا رہا ہے۔ اس سرمایہ کاری کے بدلے میں بھارت اس براعظم میں وسیع پیمانے پر موجود قدرتی وسائل تک رسائی چاہتا ہے۔ چین بھی افریقی ممالک میں اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کر چکا ہے۔

نئی دہلی کے انسٹیٹیوٹ فار ڈیفنس اینڈ اینالائز میں افریقی امور کی ماہر روشیتا بیری کے مطابق ’’صرف چین ہی نہیں بلکہ دیگر ممالک بھی افریقہ میں موجود قدرتی وسائل پر نظر جمائے ہوئے ہیں۔ ان میں جاپان اور امریکا کے علاوہ ملائیشیا، برازیل اور ترکی بھی شامل ہیں۔‘‘

بھارت افریقی ممالک سے معدنیات اور وسائل جیسے خام تیل، کوئلہ، قیمیتی پتھر اور سونا وغیرہ درآمد کرتا ہے۔ جبکہ افریقی ممالک بھارت میں تیار کی جانے والی ادویات، گاڑیوں اور پٹرولیم مصنوعات کی ایک بڑی منڈی ہیں۔ گزشتہ برسوں کے دوران ان دونوں کے مابین تجارت کا حجم مسلسل بڑھ رہا ہے۔

مودی نے اپنے خطاب میں افریقہ میں سلامتی اور استحکام خاص طور پر کچھ ممالک میں دہشت گردی اور شدت پسندی کی صورتحال پر خدشات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ انہیں افریقی قیادت پر مکمل بھروسہ ہےکہ وہ ان حالات پر قابو پا لیں گے۔ ان کے بقول انہیں اس امر پر افسوس ہے کہ ماضی میں بھارت ضرورت کے وقت افریقی ممالک کے لیے بہت کچھ نہیں کر سکا اور نہ ہی کچھ معاہدوں کے پاسداری ہو سکی۔