بھارت: انگریزوں کے بنائے ہوئے ایک سو اٹھارہ سال پرانے قانون میں تبدیلی | معاشرہ | DW | 28.08.2012
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

بھارت: انگریزوں کے بنائے ہوئے ایک سو اٹھارہ سال پرانے قانون میں تبدیلی

بھارت صنعتی مقاصد کے لیے ’زمین کے حصول کے قانون‘ میں ترمیم کرنے جا رہا ہے۔ حکومت کے مطابق قانون میں تبدیلی سے کئی سالوں سے بند حکومتی ترقیاتی منصوبے دوبارہ شروع ہو سکیں گی۔

بھارت میں صنعتی مقاصد کے لیے ’زمین کے حصول کا قانون‘ 118 سال پرانا ہے۔ اب تک حکومت دو بار اسے تبدیل کرنے کی ناکام کوشش کر چکی ہے۔ گزشتہ ہفتے جب حکومت نے پارلیمنٹ میں بل پیش کیا تو کئی سماجی کارکنوں نے ایک مرتبہ پھر اس کی مخالفت کی۔ سماجی کارکنوں کا کہنا ہے کہ یہ قانون عام آدمی کو نہیں بلکہ صرف سرمایہ کاروں کو ذہن میں رکھ کر بنایا گیا ہے۔ اپوزیشن نے بھی اس نئے قانون کی شدید مخالفت کی ہے۔ لیکن حکومت کا کہنا ہے کہ اس سے کسانوں کو بھی فائدہ ہو گا۔

موجودہ قانون اٹھارہ سو چورانے میں وضع کیا گیا تھا، جس کے تحت ریاستی حکومتوں کو زمین حاصل کرنے کا مکمل اختیار حاصل ہے۔ اب اس قانون میں ترمیم کر کے زمین کے حصول کے لیے نئی اور سخت شرائط عائد کرنے کی تجویز رکھی گئی ہے، جس سے ریاستی حکومتوں کے اختیارات کم ہوجائیں گے اور کسان اپنی زمین براہ راست صنعتی اداروں کو بیچ سکیں گے۔

نئی دہلی حکومت کے مطابق اس قانون میں ترمیم سے ملکی نظام عدل میں بھی بہتری آئے گی۔ قانون میں تبدیلی سے برسوں پرانے مقدمات جلد از جلد نمٹائے جا سکیں گے۔ اگر بل پاس ہو جاتا ہے تو فاسٹ ٹریک کورٹس زیر التوا معاملات کو چھ ماہ کے اندر اندر نمٹا سکیں گی۔

اپوزیشن کا کہنا ہے کہ عام آدمی کو اس قانون میں تبدیلی کا کوئی خاص فائدہ نہیں ملے گا۔ کاروبار کے لحاظ سے زمینوں کی قیمتیں بہت بڑھ جائیں گی جبکہ وہ لاکھوں لوگ، جو زمین پر قبضےکے خلاف برسوں سے شکایت کرتے آئے ہیں، کوئی فائدہ نہیں اٹھا سکیں گے۔

بھارتی حکومت نے کہا ہے کہ سڑکوں کی تعمیر سے متعلق تقریباﹰ 80 پروجیکٹ ابھی تک مقرر وقت کی حد سے پیچھے چل رہے ہیں۔ اسی طرح اڑیسہ میں ٹاٹا اسٹیل کا پروجیکٹ بھی شروع نہیں ہو پا رہا جبکہ چھتيس گڑھ میں کوئلے کی کانوں کی کھدائی کا کام بھی رکا پڑا ہے۔

حکومت کا کہنا ہے کہ بل منظور ہو جانے سے یہ سب کام ایک بار پھر شروع ہو سکیں گے۔ اس کے علاوہ بے گھر لوگوں کو گھر مل سکیں گے اور روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے لیکن اس کے ساتھ ہی یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ شہروں میں زمین کی قیمتیں دوگنا اور دیہاتی علاقوں میں چار گنا تک بڑھ سکتی ہیں۔

ia / ai (Reuters)