1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

صحت

بھارت: انسانی اعضاء کا غیر قانونی کاروبار، متعدد ڈاکٹر گرفتار

بھارت کے ایک مشہور ہسپتال کے چیف ایگزیکٹیو اور تین دیگر ڈاکٹروں کو انسانی اعضاء کے غیر قانونی پیوند کاری سے متعلق جرائم میں ملوث ہونے کے سبب گرفتار کر لیا گیا ہے۔

ایک پولیس اہلکار کے مطابق ممبئی کے ایک مشہور زمانہ نجی ہسپتال ہرناندانی کے چیف ایگزیکٹیو اور ڈاکٹروں کی گرفتاری دراصل گردوں کا کاروبار کرنے والے ایک گروہ کے بے نقاب ہونے کے بعد عمل میں آئی ہے۔

ممبئی کی پولیس نے جولائی میں ایک ایسے گینگ کو پکڑا تھا، جو بڑے پیمانے پر انسانی اعضاء، خاص طور سے گردوں کے غیر قانونی کاروبار میں ملوث تھا۔ پولیس کو یہ اطلاعات موصول ہوئی تھیں کہ یہ گینگ غریب اور پسماندہ دیہات کے رہنے والوں کو پیسے دے کر گردے بیچنے پر مجبور کرتا تھا اور اس غیر انسانی اور غیر قانونی کام کے لیے اس نے اپنے ایجنٹوں کا ایک نیٹ ورک قائم کر رکھا تھا۔

ممبئی پولیس کے ڈپٹی کمشنر اشوک دودھے کا کہنا ہے کہ اس بارے میں حکومت کی طرف سے کی جانے والی ایک انکوائری کی چھان بین پولیس نے کی تھی، جس کے بعد منگل کی شب پانچ ڈاکٹروں کو گرفتار کر لیا گیا تھا۔

Organhandel International Dossierbild 3

غربت سب کچھ کروا سکتی ہے

دودھے نے اپنے بیان میں کہا،’’دو روز قبل ممبئی کی ہیلتھ سروسز کے ڈائریکٹر کی طرف سے ہمیں ایک رپورٹ ملی تھی، جس میں ان ڈاکٹروں کے خلاف الزامات درج تھے۔ ان الزامات میں مثال کے طور پر’ 1994ء کے انسانی اعضاء کی پیوند کاری ایکٹ‘ کی خلاف ورزی کا الزام بھی شامل تھا۔ اس بارے میں دودھے نے بُدھ کو ایک پریس کانفرنس میں بیان دیتے ہوئے گرفتار ہونے والے ڈاکٹروں پر لگائے گئے الزامات کی تفصیلات عام کرتے ہوئے کہا،’’انہوں نے ٹرنسپلانٹیشن یا پیوند کاری کے لیے طے شدہ طریقہ کار پر عمل درآمد نہیں کیا۔ اس لیے رپورٹ کے عام ہونے پر ہم نے ان ڈاکٹروں کو گرفتار کر کے عدالتی کٹہرے میں کھڑا کر دیا ہے۔‘‘

ڈپٹی کمشنر اشوک دودھے کے مطابق اب تک اس سلسلے میں 14 افراد گرفتار کیے جا چُکے ہیں جن میں گردے کا عطیہ دینے والا ایک شخص، ایک گردے کا وصول کنندہ اور ایک دلال بھی شامل ہیں۔

دریں اثناء نجی ہسپتال ہرناندانی کے اہلکاروں کو اس بارے میں اپنا بیان دینے یا بتصرہ کرنے کے لیے ای میل کے ذریعے ایک دوخواست بھیجی گئی تھی، جس کا انہوں نے کوئی جواب نہیں دیا۔

Spenderniere während Transplantation

گردوں کے ٹرانسپلانٹ کے دوران ہی اکثر اس انسانی عضو کا سودا ہو جاتا ہے

گزشتہ چند ماہ کے دوران بھارت کے کسی مشہور ہسپتال کی معاونت سے اعضاء کے کاروبار کے بڑے پیمانے پر ہونے والے غیر قانونی کاروبار کا یہ دوسرا بڑا واقعہ سامنے آیا ہے اور اس سلسلے میں دوسرا بڑا مافیا پکڑا گیا ہے۔ جون میں بھارتی پولیس نے نئی دہلی کے اندرا پراشتا اپولو ہسپتال کے ساتھ کام کرنے والے ایک ایسے ہی گروہ کو بے نقاب کیا تھا۔

بھارت میں ٹرنسپلانٹ یا پیوند کاری کے لیے اعضاء کی شدید قلت کے باعث اعضاء کے غیر قانونی کاروبار کی بلیک مارکیٹ بہت چمک رہی ہے۔ بھارت میں اعضاء کا کاروبار دراصل غیر قانونی ہے۔ اعضاء کا عطیہ محض رشتہ دار دے سکتے ہیں۔ ہر ہسپتال میں ایک خاص ٹرانسپلانٹ کمیٹی موجود ہے جس کا کام پیوند کاری کے ہر عمل کی جانچ پڑتال کرنا اور اُس کے بعد اس کی منظوری دینا ہے۔

DW.COM