1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

بھارت امریکہ تعلقات: مذاکرات کا نیا دور

امریکہ اور بھارت کے درمیان سول جوہری معاہدے کے بعد سے تعلقات نے ایک نیا موڑ لیا تھا۔ اب امریکہ بھارت سٹریٹیجک ڈائیلاگ کے عمل کو باقاعدگی دینے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔

default

بھارتی وزیرخارجہ ایس ایم کرشنا اپنی امریکی ہم منصب ہلیری کلنٹن کے ساتھ

بھارتی وزیر خارجہ ایس ایم کرشنا اور امریکی وزیر خارجہ ہلیری کلنٹن جمعرات کو امریکی دارالحکومت واشنگٹن میں ایک اعلیٰ سطحی میٹنگ کی مشترکہ طور پر صدارت کر رہے ہیں۔ یہ میٹنگ بھارت امریکہ سٹریٹیجک مذاکراتی عمل کی اولین نشست کا ایک حصہ ہے۔ بظاہر اس میٹنگ کی شروعات بدھ سے شروع ہو چکی ہیں۔ ابتدائی اجلاس سے امریکہ کے نائب وزیر خارجہ ولیم برنس نے خطاب کیا۔ ابتدائی اجلاس کا مقام امریکی صدر کی رہائش گاہ ، وائٹ ہاؤس کے پہلو میں واقع مرکز برائے خارجہ تعلقات تھا۔

ولیم برنس نے اپنے خطاب میں ان شکوک و شہبات کا اثر زائل کرنے کی کوشش جو اس مناسبت سے گردش کر رہے ہیں کہ اوباما نے منصب صدارت سنبھالنے کے بعد امریکہ بھارت تعلقات کو سابق صدر بش کے دور کی سطح سے نیچے کردیا ہے۔ برنس کا کہنا تھا کہ عالمی منظر نامے پر بھارت کی اقتصادی قوت اور صنعتی ترقی امریکہ کے سٹریٹیجک مفاد میں ہے۔ امریکی نائب وزیر خارجہ نے یہ بھی کہا کہ اوباما انتظامیہ امریکہ اور بھارت کے درمیان ممکنہ پارٹنر شپ کو مزید مضبوط کرنے کی بھرپور کوشش جاری رکھے گی۔

Barack Obama in Cairo

امریکی صدرباراک اوباما

جمعرات کو امریکی وزیر خارجہ ہلیری کلنٹن اپنے بھارتی ہم منصب ایس ایم کرشنا اور ان کے وفد کے اعزاز میں امریکی وزارت خارجہ کی عمارت میں ایک استقبالیہ دیں گی۔ ایسے امکانات سامنے آئے ہیں کہ امریکی صدر باراک اوباما خاص طور پر اس میں شریک ہوسکتے ہیں۔

اس دوران بھارتی وزیر خارجہ نے امریکی چیمبر برائے تجارت میں امریکی ٹریڈرز اور کاروباری حضرات سے تقریر کرتے ہوئے کہا کہ دونوں ملکوں کے درمیان باہمی تجارتی سرگرمیوں میں فروغ سے، امریکہ بھارت تعاون کو بھی استحکام اور وسعت حاصل ہو گی۔ کرشنا کا خیال ہے کہ مالی کساد بازاری کے مکمل خاتمے کے بعد آنے والے سالوں میں دونوں ملکوں کے درمیان اقتصادی رابطوں کو مزید پائیداری یقنی طور پرحاصل ہو گی۔

رپورٹ: عابد حسین

ادارت: عاطف بلوچ

DW.COM