1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

بھارت امریکا سے جدید ڈرون خریدنے کا خواہشمند

بھارتی وزیراعظم نریندر مودی اسی ویک اینڈ پر امریکا کے دورے پر ہوں گے۔ امریکی دورے کے دوران وہ پہلی مرتبہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ ملاقات کریں گے۔

نریندر مودی اپنے دو روزہ امریکی دورے کے دوران ملکی بحریہ کی استعداد بہتر کرنے کے لیے دو درجن کے قریب اعلیٰ کوالٹی کے پریڈیٹر نامی ڈرونز خریدنے کے سمجھوتے کو خاص طور پر حتمی شکل دینے کی کوشش کریں گے۔ بھارتی وزیراعظم اور امریکی صدر کے درمیان ملاقات اتوار پچیس جون کو ہو گی۔ گزشتہ برس اپریل میں ٹرمپ اور چینی صدر شی جنگ پنگ کے درمیان بھی ملاقات ہو چکی ہے۔

سفارت کاروں کا خیال ہے کہ وہ اس دورے کے دوران صدر ٹرمپ کو اپنے ملک کی علاقائی صورت حال کے تناظر میں قائل کرنے کی کوشش کریں گے کہ بھارتی بحریہ کو ان ڈرونز کی واقعتاً اشد ضرورت ہے۔ بھارتی بحریہ ان پریڈیٹر ڈرونز کے ذریعے بحر ہند میں چینی بحریہ کے جنگی جہازوں کی نقل و حرکت پر نگاہ رکھنا چاہتی ہے۔

امریکی وزارت خارجہ کے ذرائع کے مطابق ڈرونز کے سمجھوتے کو حتمی شکل ملی تو یہ خطے میں طاقت کا توازن تبدیل کر سکتا ہے اور اس سے بھارت کے ہمسایہ ملکوں پاکستان اور چین کی تشویش سامنے آ سکتی ہے۔ پاکستان اور بھارت کے تعلقات حالیہ کچھ عرصے میں متنازعہ کشمیر کی صورت حال پر خاصے تناؤ کا شکار ہیں۔

Modi Rede in Madison Square Garden 28.09.2014 New York (Reuters/Lucas Jackson)

سن 2014 میں بھی نریندر مودی نے امریکا کا دورہ کیا تھا

 مبصرین کے مطابق ٹرمپ کے ساتھ ملاقات و مذاکرات مودی کے لیے امتحان سے کم نہیں ہوں گے کیونکہ سیماب صفت امریکی صدر اس سے آگاہی رکھتے ہیں کہ سابق صدر باراک اوباما کے دورمیں امریکی بھارتی دفاعی روابط میں بہتری ہوئی تھی لیکن حالیہ ہفتوں میں تھوڑی سے دوری محسوس کی جا رہی ہے۔ اس کی بڑی وجہ شمالی کوریا کے حوالے سے واشنگٹن اور بیجنگ کے تعلقات میں قربت کو قرار دیا جا رہا ہے۔ اس باعث نئی دہلی کو کسی حد تک تشویش بھی لاحق ہے۔

بھارت کو امریکی اسلحے کا سب سے بڑا خریدار قرار دیا جاتا ہے اور حال ہی میں واشنگٹن نے بھارت کو اپنی دفاعی اتحادی قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ اُسے یقینی طور پر ساڑھے سات ہزار میل لمبی ساحلی پٹی کو چینی عسکری سرگرمیوں سے محفوظ رکھنا ہو گا۔ چینی حکومت مسلسل اپنے سمندری تجارتی عمل کو وسعت دے رہی ہے اور اس کے ساتھ ساتھ وہ سمندری نگرانی کے سلسلے کو بڑھانے کی کوششوں میں ہے۔