1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

بھارت اقتصادی ترقی میں آگے، انسانی ترقی میں پیچھے

بھارت گوکہ دنیا کی تیزی سے ترقی کرتی ہوئی دو بڑی معیشتوں میں سے ایک ہے لیکن ایک تازہ ترین سرکاری رپورٹ میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ غریبوں کی حالت مزید ابتر ہوئی ہے۔

default

بھارت سرکار کے منصوبہ بندی کمیشن کے تحت کام کرنے والے اہم ادارے، انسٹیٹیوٹ آف اپلائیڈ مین پاور ریسرچ کی طرف سے جار ی کردہ ہیومن ڈیولپمنٹ رپورٹ سے پتہ چلتا ہے کہ بھارت کے دیہی علاقوں میں رہنے والے غریبوں کی خوراک آج کے مقابلے میں تیس برس قبل کہیں زیادہ بہتر تھی۔ بھوک کے مسئلے کے خلاف اپنی کوششوں میں بھارت پیچھے کی طرف جا رہا ہے اور رپورٹ یہ بتاتی ہے کہ تقریباﹰ تمام ریاستوں کو اس محاذ پر انتہائی تشویشناک صورت حال کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ Hunger Index کسی بھی ریاست میں9.9 سے کم نہیں ہے۔ پچھلی ایک دہائی میں جاری کردہ اپنی نوعیت کی اس پہلی رپورٹ میں نیشنل سیمپل سروے یا این ایس ایس کے اعداد و شمار کی بنیاد پر بتایا گیا ہے کہ 1983 سے 2004 اور 2005 کے دوران دیہی علاقوں میں رہنے والے جہاں یومیہ 2221 کیلوریز کا استعمال کرتے تھے، وہ شرح اب کم ہو کر 2047 کیلوریز ہو چکی ہے۔ یعنی اس میں آٹھ فیصد کی گراوٹ ہوئی ہے۔ اسی طرح شہری آبادی میں بھی کیلوریز کے استعمال میں پچھلی دو دہائیوں میں 3.3 فیصد کی کمی ہوئی ہے۔

Formel 1 2011 Indien Buddh International Circuit FLASH-GALERIE

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بھارت میں رہنے والے تین سال سے کم عمر کے بچوں کی نصف تعداد غذائی قلت کا شکار ہے،جو افریقہ کے زیریں صحارا والے ملکوں سے بھی ابتر صورت حال ہے۔ منصوبہ بندی کمیشن کے ڈپٹی چیئرمین مونٹیک سنگھ آہلوالیہ نے اس حوالے سے ڈوئچے ویلے سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ اس کی بڑی وجہ یہ ہے بھارت میں ایک تو لڑکیوں کی شادیاں بہت کم عمر میں ہوجاتی ہیں، جس کی اپنی سماجی اور دیگر وجوہات ہیں۔ دوسری طرف بالخصوص عورتوں میں تعلیم کی کمی ہے۔ حالانکہ حکومت آنگن واڑی پروگرام کے ذریعے عورتوں کو مختلف امور کے حوالے سے بیدار کرنے کی کوشش کر رہی ہے لیکن اسے فی الحال اطمینان بخش نہیں کہا جاسکتا۔ اس کے علاوہ لوگوں کی اقتصادی صورت حال بھی ایک اہم وجہ ہے، جس سے کسی بھی صورت انکار نہیں کیا جاسکتا۔ ڈاکٹر آہلوالیہ کا کہنا ہے کہ غذائی قلت کا شکار بچوں کے مسئلے سے نمٹنے کے لیے کثیر الجہتی پروگرام پر عمل کرنا ہوگا۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بھارت میں صحت پر (سرکاری اور نجی دونوں سطحوں پر) جو وسائل خرچ کیے جاتے ہیں، وہ مجموعی قومی پیداوار یا GDP کا صرف 1.3فیصد بنتے ہیں۔ یہ شرح ترقی پذیر ملکوں میں سب سے کم اور افریقی ملکوں میں صحت پر کیے جانے والے اخراجات کے مقابلے بھی کم ہے۔ رپورٹ کے مطابق حالانکہ بھارت تیزی سے ابھرتی دوسری بڑی معیشت یعنی چین کا مقابلہ کرنے کی کوشش میں ہے لیکن صحت کے شعبے میں جہاں چین میں ہر دس ہزار افراد کے لیے ہسپتالوں میں 30 بستر موجود ہیں، وہیں بھارت میں یہ تعداد صرف نو ہے۔ رپورٹ کے مطابق سن 2009 میں چین میں پانچ سال سے کم عمر کے بچوں میں شر ح اموات کے مقابلے میں بھارت میں یہ شرح چین سے دگنی تھی۔

Supermacht Indien Flash-Galerie

رپورٹ میں کہا گیا ہے، ’’دنیا میں کل جتنے بھی افراد کھلے میدان میں رفع حاجت کے لیے جاتے ہیں، ان میں سے 60 فیصد بھارتی ہوتے ہیں۔ یہ عوامی صحت کے لیے کافی تشویشناک بات ہے۔ اس کے علاوہ خراب Sanitation سے عورتوں اور لڑکیوں کی صحت پر بھی منفی اثر پڑتا ہے۔ سن دو ہزار آٹھ اور نو کے دوران بھارت کے تقریباﹰ نصف گھرانوں میں صفائی ستھرائی کا فقدان پایا گیا۔ صحت کے اس خراب معیار کی بڑی وجہ یہ ہے کہ قومی دیہی صحت مشن کے باوجود صحت سے متعلق بنیادی سہولیات کے معاملے میں بھارت کی صورت حال تشویشناک ہے۔‘‘

رپورٹ تیار کرنے والے مشہور ماہر اقتصادیات اور انسٹیٹیوٹ آف ایپلائڈ مین پاور ریسرچ کے ڈائریکٹر ڈاکٹر سنتوش ملہوترا نے ڈوئچے ویلے سے بات چیت کرتے ہوئے کہا، ’’اس میں کوئی شبہ نہیں کہ اقتصادی ترقی کے باوجود کئی محاذ انتہائی تشویش کا موجب ہیں۔ اگر غذائی صورت حال میں سدھار نہیں ہوتا، صفائی ستھرائی اور عوامی صحت کے شعبوں میں بہتری نہیں آتی، تو یہ نہ صرف بچوں اور خواتین کے لیے تکلیف دہ ہے بلکہ حکومت اور پورے ملک کے لیے بھی تکلیف کی بات ہی۔ اس کے لیے کثیر الجہتی اقدمات کی ضرورت ہے۔‘‘

رپورٹ: افتخار گیلانی، نئی دہلی

ادارت: عصمت جبیں

DW.COM

ویب لنکس