1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

بھارت: اسلحے کے بڑے ذخائر میں سے ایک میں آگ، سولہ ہلاکتیں

بھارت میں اسلحے کے سب سے بڑے ذخائر میں سے ایک میں گزشتہ رات لگنے والی وسیع تر آگ اور پھر وہاں ہونے والے طاقت ور دھماکوں کے نتیجے میں فوجی حکام اور ریاستی اہلکاروں کے مطابق سولہ افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔

Indien Feuer Pulgaon ammunition depot

پُل گاؤں کا سینٹرل ایمونیشن ڈپو ممبئی سے قریب چھ سو کلومیٹر کی دوری پر واقع ہے

بھارتی دارالحکومت نئی دہلی سے ملنے والی نیوز ایجنسی روئٹرز کی رپورٹوں کے مطابق یہ آگ مسلح افواج کے ہتھیاروں کے جس ڈپو میں لگی، وہ ملک کے کاروباری مرکز ممبئی سے قریب 600 کلومیٹر کے فاصلے پر پُل گاؤں میں واقع ہے۔ پیر تیس مئی اور منگل اکتیس مئی کی درمیانی رات لگنے والی اس آگ پر قابو پانے کے لیے فائر فائٹرز رات بھر کوششیں کرتے رہے۔

شروع میں اس آتشزدگی کے نتیجے میں ہلاکتوں کی تعداد 17 بتائی گئی تھی تاہم منگل کی سہ پہر ملنے والی رپورٹوں میں فوجی حکام کے حوالے سے کہا گیا کہ یہ خوفناک آگ مجموعی طور پر سولہ انسانی ہلاکتوں کی وجہ بنی، جن میں سے 13 آگ بجھانے والے عملے کے کارکن تھے۔

اس واقعے میں 17 افراد زخمی بھی ہوئے، جنہیں علاج کے لیے فوری طور پر ہسپتال داخل کرا دیا گیا۔ ان میں سے دو کی حالت تشویشناک ہے۔ مرنے والے سولہ افراد میں سے 13 فائر فائٹرز کے علاوہ باقی تین میں سے ایک جونیئر فوجی اور دو فوجی افسران بتائے گئے ہیں۔

جرمن نیوز ایجنسی ڈی پی اے نے لکھا ہے کہ مغربی بھارت کی ریاست مہاراشٹر میں پُل گاؤں نامی علاقے میں ملکی فوج کے ہتھیاروں اور گولہ بارود کے اس بہت بڑے گودام کا نام سینٹرل ایمونیشن ڈپو ہے۔

اس ڈپو میں آتشزدگی کے بعد بھارتی فوج کے ڈائریکٹر جنرل ملٹری آپریشنز رنبیر سنگھ نے بتایا، ’’ہم اپنی کوششوں کے نتیجے میں اس آگ کو ڈپو کے صرف ایک ہی حصے تک محدود رکھنے میں کامیاب رہے۔ اب یہ آگ مکمل طور پر بجھائی جا چکی ہے اور صورت حال مکمل طور پر کنٹرول میں ہے۔‘‘

اس آتشزدگی کے بعد منگل کی صبح ملنے والی رپورٹوں میں ملکی وزارت دفاع کے حکام اور پولیس کے اعلیٰ ذرائع نے کہا تھا کہ ڈپو میں لگنے والی آگ سترہ ہلاکتوں کی وجہ بنی۔ تاہم بعد میں فوج کے ڈائریکٹر جنرل ملٹری آپریشنز نے اس تعداد کی تصحیح کرتے ہوئے مرنے والوں کی تعداد 16 بتائی۔

دیگر رپورٹوں میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ پُل گاؤں میں اسلحے اور گولہ بارود کے مرکزی ڈپو میں یہ آگ مقامی وقت کے مطابق رات ایک بجے لگی، جس کی وجہ ابھی تک معلوم نہیں ہو سکی۔ آتشزدگی کے فوری بعد درجنوں فائر فائٹرز موقع پر پہنچ کر آگ بجھانے کی کوششیں کرتے رہے، جنہیں ان شعلوں پر پوری طرح قابو پاتے پاتے صبح کے چھ بج گئے تھے۔

رنبیر سنگھ کے مطابق آتشزدگی کی وجوہات کے تعین کے لیے ماہرین چھان بین کر رہے ہیں اور جو سترہ افراد اس واقعے میں زخمی ہوئے، ان میں نو فوجی بھی شامل ہیں۔

اس حادثے پر بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے مرنے والوں کے لواحقین کے ساتھ دلی ہمدردی ظاہر کی ہے جبکہ آج ہی منگل کو بعد ازاں وزیر دفاع منوہر پاریکر نے ذاتی طور پر صورت حال کا جائزہ لینے کے لیے اس ڈپو کا دورہ بھی کیا۔

DW.COM