بھارت: اب فرانسیسی سیاحوں پر حملہ | معاشرہ | DW | 11.12.2017
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

بھارت: اب فرانسیسی سیاحوں پر حملہ

بھارت میں غیر ملکی سیاحوں کے ساتھ مار پیٹ اور دست درازی کے تازہ ترین واقعے میں حملہ آوروں نے صوبہ اترپردیش کے مرزا پور ضلع میں فرانسیسی سیاحوں کو نشانہ بنایا ہے۔ حکومت نے اسے ’انتہائی قابل مذمت‘ فعل قرار دیا ہے۔

بھارت کے سب سے بڑ ے صوبے اترپردیش میں گزشتہ دو ماہ کے دوران غیرملکی سیاحوں کے ساتھ مارپیٹ اور خواتین کے ساتھ دست درازی کا یہ تیسرا واقعہ ہے۔ مرزا پور کی پولیس نے فوراﹰ کارروائی کرتے ہوئے آٹھ ملزمان کو گرفتار کر لیا ہے، جب کہ مجموعی طور پر تیرہ افراد کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ صوبے کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر جنرل پولیس نے اس واقعے کی تفتیش کے لئے ایک انکوائری ٹیم قائم کر دی ہے اور متاثرین کو ہر ممکن مدد کی یقین دہانی کرائی ہے۔
اطلاعات کے مطابق کل اتوار کو چھ فرانسیسی اور ان کے چار بھارتی دوستوں سمیت سیاحوں کا یہ قافلہ مندروں کے شہر اور وزیر اعظم نریندر مودی کے حلقہ انتخاب وارانسی کی سیر کرنے کے بعد اس سے ملحق ضلع مرزا پور میں واقع لکھنیا دری آبشار دیکھنے گیا تھا۔ سیاحوں کا یہ گروپ واپس لوٹ رہا تھا کہ تین مقامی نوجوانوں نے گروپ میں شامل خواتین کے خلاف نازیبا فقرے کسنا شروع کردیے۔ فرانسیسی سیاحوں نے اس پر اعتراض کیا تو جلد ہی تکرار شروع ہوگئی جو جھگڑے میں بدل گئی۔ مقامی لڑکوں نے اپنے دس دیگر ساتھیوں کو بلا لیا اور انہوں نے فرانسیسی سیاحوں پر لاٹھیوں سے حملہ کر دیا۔ اس میں ایک فرانسیسی کا سر پھٹ گیا اور دیگر لوگوں کے ہاتھ، چہرے اورگردن پر زخم آئے۔ یہ فرانسیسی ایک غیر سرکاری تنظیم سے وابستہ ہیں اور وارانسی میں ایک ہسپتال کے معائنے کے لیے آئے ہوئے تھے۔

بھارتی سیاحت جرمن شہری کے لیے مصیبت بن گئی
فرانسیسی سیاحوں کی بھارتی دوست نے بعد میں میڈیا کو بتایا کہ جب انہوں نے اپنے مہمانوں کو بچانے کی کوشش کی تو ان ملزمان نے ان کو بھی مارا پیٹا اور ان کے ساتھ دست درازی کی۔ بہر حال مقامی لوگوں کی مداخلت کے بعد حملہ آور فرار ہو گئے اور سیاحوں کا یہ گروپ کسی طرح مقامی تھانے پہنچا، جہاں مقدمہ درج کرنے کے بعد زخمیوں کو علاج کے لئے ہسپتال میں داخل کرایا گیا ہے۔

بھارت میں جرمن خاتون سیاح کا ریپ، ملزمان مفرور
سیاحت کے مرکزی وزیر مملکت کے جے الفونس نے فرانسیسی سیاحوں کے ساتھ مارپیٹ کے اس واقعے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے اسے ’قابل مذمت ‘ قرار دیا ہے۔ الفونس نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا، ’’یہ انتہائی قابل مذمت ہے اور ایسے واقعات کبھی نہیں ہونے چاہئیں۔‘‘بھارتی وزیر نے لوگوں سے غیر ملکی سیاحوں کی پرائیویسی کا احترام کرنے کی بھی نصیحت کی۔ ا ن کا مزید کہنا تھا کہ’’بھارت میں مہمان کو بھگوان سمجھا جاتا ہے اور ہمیں مہمانوں کا بھگوان کی طرح احترام کرنا چاہیے۔ یہی بھارت کا بنیادی نظریہ ہے، ہمیں ابھی بہت زیادہ مہذب بننے کی ضرورت ہے۔‘‘
خیال رہے کہ بھارت میں غیر ملکی سیاحوں کے ساتھ مارپیٹ اور بدسلوکی کے واقعات پیش آتے رہتے ہیں۔ اس سے دو ماہ قبل اترپردیش میں ہی سون بھدر ضلع میں ایک جرمن سیاح کو لوگوں نے بری طرح پیٹ دیا تھا جب کہ گزشتہ 26 اکتوبر کو آگرہ سے تھوڑی دور واقع فتح پور سیکری میں ایک سوئس جوڑے کو اتنی بری طرح مارا پیٹا گیا تھا کہ ان میں سے ایک شخص سماعت سے محروم ہوگیا۔ اس واقعے کی وزیر خارجہ سشما سوراج نے بھی مذمت کی تھی اور صوبائی حکومت سے رپورٹ طلب کی تھی۔ تاہم ابھی تک یہ پتہ نہیں چل سکا ہے کہ بھارتیہ جنتا پارٹی کی قیادت والی یوگی ادیتیہ ناتھ حکومت نے اس سلسلے میں کیا کارروائی کی اور مرکزی حکومت کو رپورٹ سونپی ہے یا نہیں۔
قبل ازیں آگرہ کے ایک ہوٹل منیجر پر ایک جرمن خاتون پر جنسی حملہ کرنے کا مقدمہ درج کیا گیا تھا۔ اس سے قبل آگرہ میں ہی دو جاپانی سیاحوں کو اجتماعی جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا گیا تھا۔
گزشتہ دنوں وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ نے نیشنل کرائم ریکارڈ بیورو کی طرف سے جاری کردہ 2016ء کی سالانہ رپورٹ پیش کی تھی، جس میں کہا گیا تھا کہ قتل جیسے بھیانک جرائم اور خواتین کے ساتھ تشدد اور عصمت دری کے واقعات سب سے زیادہ اتر پردیش میں پیش آئے۔ 2016ء کے دوران صوبہ اترپردیش میں قتل کے 4889 یعنی 16.1 فیصد واقعات پیش آئے جب کہ خواتین کے خلاف ملک میں ہونے والے مجموعی جرائم میں سے 14.5 فیصد یعنی 49262 اترپردیش میں ہوئے۔

DW.COM