1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

بھارت: آئندہ صدر کم تر سمجھی جانے والی برادری سے

بھارت کا آئندہ صدر دلت برادری سے ہو گا۔ بھارت میں دلت برادری کو انتہائی کم تر گردانا جاتا ہے اور کبھی انہیں ’’اچھوت‘‘ کہہ کر پکارا جاتا تھا یعنی ایسے افراد جنہیں چھوا بھی نہیں جا سکتا۔

71 سالہ رام ناتھ کوِند کو پیر 17 جولائی کو ہونے والے صدارتی انتخابات میں کامیابی کے لیے مقبول ترین امیدوار قرار دیا جا رہا ہے۔ وہ مودی کی جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کی طرف سے اس عہدے کے امیدوار ہیں۔ یہ بات تقریباﹰ یقینی ہے کہ پیر کے دن ملک کی ریاستی اور وفاقی اسمبلیوں میں صدر کے انتخاب کے لیے ہونے والی ووٹنگ میں رام ناتھ ہی کامیاب  قرار پائیں گے۔

بھارت کی تاریخ میں یہ دوسرا موقع ہو گا کہ دلت برادری سے تعلق رکھنے والا کوئی فرد اس عہدے پر براجمان ہو گا۔ قبل ازیں کے آر نارایانن 1997ء سے 2002ء تک یہ خدمات انجام دے چکے ہیں۔

پیر کے دن ملکی قانون ساز اسمبلیوں میں ہونے والی ووٹنگ کے نتائج جعمرات 20 جولائی کو جاری کیے جائیں گے۔ 2019ء میں ہونے والے پارلیمانی انتخابات میں ایک بار پھر کامیابی کے خواہشمند مودی کے لیے یہ کامیابی انتہائی اہم ہو گی کیونکہ اس طرح وہ ملک میں کم تر گردانی جانی والی برادری کی ہمدردیاں حاصل کر پائیں گے۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق بھارت میں دلت برادری سے تعلق رکھنے والے افراد کی تعداد دو سو ملین یعنی 20 کروڑ کے قریب ہے۔ یہ نہ صرف معاشی طور انتہائی غریب ہیں بلکہ بھارت میں روایتی طور پر ہمیشہ انہیں حاشیے سے لگا کر رکھا گیا ہے۔ قانونی طور پر حقوق ملنے کے باوجود بھی دلت برادری سے تعلق رکھنے والوں کو نہ تو تعلیم تک رسائی دی جاتی ہے اور نہ ہی روزگار اور دیگر سہولتوں تک۔

K.R. Narayanan (AP/Ajit Kumar)

قبل ازیں دلت برادری سے ہی تعلق رکھنے والے کے آر نارایانن 1997ء سے 2002ء تک بھارتی صدر رہ چکے ہیں

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بی جے پی کے امیدوار رام ناتھ کوند کی مدد کر کے مودی کافی زیادہ سیاسی مفاد حاصل کر پائیں گے۔ کوند ملکی سپریم کورٹ کے سابق وکیل ہیں اور وہ ملک کی مشرقی ریاست بہار کے سابق گورنر بھی ہیں۔ ان کے مقابلے میں اپوزیشن کی طرف سے نامزد کردہ امیدوار میئرا کمار ہیں اور ان کا تعلق بھی دلت برادری سے ہے۔