1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

فن و ثقافت

بھارتی ہم جنس پرست مرد: پہلا میگزین ہاتھوں ہاتھ فروخت

بھارت میں مرد ہم جنس پرستوں کا نیا جریدہ ’تفریح‘ نئی دہلی میں فروخت کے لیے پیش کر دیا گیا ہے۔ یہ میگزین مارکیٹ میں آتے ہی ہاتھوں ہاتھ بک گیا۔ صارفین کو اس بات کا یقین دلایا گیا ہےکہ یہ رسالہ ہر مہینے شائع ہو گا۔

default

اس میگزین کی اشاعت جولائی میں شروع کی گئی تھی، جس میں نوجوانوں اور جنسی مسائل سے متعلقہ مضامین کے ساتھ ساتھ انڈرویئر پہنے ہوئے ماڈلز اور جدید کاروں کی تصاویر شائع کی گئیں تھیں۔

اپنی دکان پر میگزین بیچنے والے رام نریش بتاتے ہیں، ’’ہر مہینے اس میگزین کی کاپیاں مکمل طور پر فروخت ہو جاتی ہیں اور مجھے مزید میگزین منگوانے پڑتے ہیں۔ لوگ اس میگزین کو بہت زیادہ پسند کرتے ہیں۔‘‘

Gay Pride Parade in Indien

بھارتی ہم جنس پرست ایک ریلی کے دوران

بھارتی معاشرے میں ابھی تک ہم جنس پرستی، عوام کو چونکا دینے والا اور ممنوعہ موضوع ہے اور یہی وجہ ہے کہ کسی بھی مشہور بھارتی سیاستدان، کھلاڑی یا اداکار نے ہم جنس پرست ہونے کا سر عام اعلان نہیں کر رکھا لیکن 2009ء میں ہم جنس پرستی کی طرف بڑھتا ہوا رجحان دیکھ کر بھارتی عدلیہ کی طرف سے قانونی طور ہر ہم جنس پرستوں کو شادی کی اجازت دے دی گئی تھی۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ مغربی طرز زندگی اور رویے تیزی سے بھارتی تہذیب پر حاوی ہوتے جا رہے ہیں۔ فن نامی اس جریدے کی دوبارہ اشاعت سے پہلے اس کو 1990ء میں ’’ممبئی دوست‘‘ کے نام سے شائع کیا گیا تھا۔ اشاعت کے 12 برس مکمل ہونے پر نامعلوم وجوہات کی بناء پر اس میگزین کو شائع کرنا بند کر دیا گیا تھا۔

بھارتی سماج میں ہم جنس پرستی میں مسلسل اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ اس کا اندازہ وہاں پر بکنے والے ویلنٹائن ڈے کارڈ اور حال ہی میں ریلیز ہونے والی فلموں سے بھی لگایا جا سکتا ہے۔ ایک سپر ہٹ فلم ’’دوستانہ‘‘ میں ایک ماں خوشی سے اپنے ہم جنس پرست بیٹے کے دوست کو گھر آنے کی اجازت دے دیتی ہے۔

بھارت میں اس وقت کم ازکم 8 ایسے پرنٹ اور آن لائن میگزین ہیں، جو ہم جنس پرست مردوں اور خواتین کے لئے مواد شائع کرتے ہیں۔ فن میگزین کے ایڈیٹر مانویندر سنگھ کا کہنا ہے کہ ہر بھارتی میگزین پرکسی لڑکی کی تصویر ہوتی ہے لیکن اب ایسا نہیں ہو گا۔

رپورٹ: امتیاز احمد

ادارت: عدنان اسحاق

DW.COM