1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

NRS-Import

بھارتی کشمیر کے ایک فوجی اڈے پر حملہ، چار ہلاکتیں

بھارتی فوج کے کمانڈوز نے بھارت کےزیرِ انتظام کشمیر میں ایک فوجی کیمپ میں گھُس آنے والےتین عسکریت پسندوں کو ہلاک کر دیا ہےجبکہ ایک فوجی بیس پر چھ گھنٹوں تک جاری رہنے والی مسلح جھڑپوں میں مزید ایک شخص کی ہلاکت کی اطلاع ہے۔

مقامی پولیس کے مطابق یہ حملہ بدھ کی صبح لائن آف کنٹرول کے قریب واقع ایک فوجی کیمپ پر کیا گیا۔

ایک پولیس افسر نے بتایا کہ فوجی وردی میں ملبوس تین مسلح حملہ آور شمالی ضلع کپواڑہ کے علاقے ٹنگ ڈھر میں بھارتی فوج کی ایک بٹالین کے کیمپ کے صدر دروازے سے فائرنگ کرتے ہوئے آفیسرز میس میں داخل ہوئے تھے۔

بھارت کے فوجی ذرائع کا کہنا ہے کہ حملے کے بعد جوابی کارروائی شروع کر دی گئی اور ابتدائی حملے میں ایک فوجی افسر ہلاک ہوا ہے جبکہ کیمپ کے اندر فائرنگ کی وجہ سے پیٹرول کے ذخیرے میں آگ لگ گئی۔ ہلاک ہونے والے افسر کی شناخت یا عہدہ ظاہر نہیں کیا گیا ہے۔

ایک فوجی ترجمان نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بیان دیتے ہوئے کہا،’’یہ ایک منظم اور منصوبہ بندی کے تحت کیا جانے والا حملہ معلوم ہوتا ہے‘‘۔

Indien Pakistan Konflikt Zerstörung Kashmir

متنازعہ کشمیر پاکستان اور بھارت کے درمیان آئے دن فائرنگ کے تبادلے کا سبب بنتا ہے

اس افسر کا کہنا تھا کہ تینوں مسلح افراد اور ہلاک ہونے والا چوتھا گمنام شخص غالباً اس فوجی اڈے پر کام کر چُکے تھے۔ ان سب کی لاشیں برآمد ہو گئی ہیں۔

اس بھارتی پولیس افسر کا کہنا تھا کہ حملہ آور AK-47 سے لیس تھے اور انہوں نے آفیسر میس میں پوزیشن سنبھال لی تھی اور انہوں نے میس میں مٹی کے تیل سے دھماکا کیا جس کے نتیجے میں ایک شخص زخمی ہو گیا۔

بھارت پاکستان پرعسکریت پسندوں کی پشت پناہی اور اُن کو ہتھیاروں سمیت تربیت فراہم کرنے کا الزام عائد کرتا رہا ہے۔ نئی دہلی حکومت کا کہنا ہے کہ لائن آف کنٹرول کے پار ان عسکریت پسندوں کی در اندازی کے پیچھے بھی اسلام آباد کا ہاتھ ہے تاہم پاکستان ان الزامات کی تردید کرتا رہا ہے۔

جنوبی ایشیاء کی دونوں جوہری طاقتیں 1947 ء میں ہندوستان کی تقسیم کے بعد سے اب تک مسلم اکثریتی ریاست کشمیر کے تنازعے کے سلسلے میں دو جنگیں لڑ چُکے ہیں۔

Indische Soldaten im Grenzgebiet zwischen Pakistan und Indien

لائن آف کنٹرول پر بھارتی فوج دخل اندازوں کی تاک میں

بتایا گیا ہے کہ عسکریت پسندوں نے عالمی وقت کے مطابق صُبح چھ بجے بھارتی فوجیوں کے کیمپ پر حملہ کیا تھا جس کے ایک گھنٹے بعد عسکریت پسندوں اور بھارتی فوج کے مابین فائرنگ کا تبادلہ شروع ہو گیا۔

رواں برس جولائی میں ایک ایسے ہی حملے میں پاکستانی سرحد سے متصل بھارتی ریاست پنجاب میں فوجی وردی میں ملبوس عسکریت پسندوں کے ایک گروپ نے ایک پولیس اسٹیشن کو اپنے قبضے میں لے لیا تھا۔ جس کے بعد بھارتی فوج اور حملہ آوروں کے مابین 12 گھنٹے تک مسلحہ جھڑپیں جاری رہیں تھیں۔ رواں سال کے پہلے دس ماہ کے دوران ایسی جھڑپوں میں 79 افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔ یہ تعداد اتنی ہی بنتی ہے جتنی کے 2013 ء اور 2014 ء میں اس نوعیت کے تصادم میں ہونے والی ہلاکتوں کی رہی تھی۔

DW.COM

ملتے جلتے مندرجات