1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

بھارتی کشمیر میں مظاہرے: ہلاکتوں کی تعداد تئیس، تین سو ز‌خمی

بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں سکیورٹی فورسز اور مشتعل مظاہرین کے مابین تصادم کے دوران مزید پانچ ہلاکتوں کے بعد گزشتہ تین دنوں میں مارے جانے والے افراد کی تعداد اب تئیس ہو گئی ہے جبکہ زخمیوں کی تعداد تین سو کے قریب ہے۔

سری نگر سے پیر گیارہ جولائی کے روز موصولہ نیوز ایجنسی اے ایف پی کی رپورٹوں کے مطابق یہ مظاہرے کشمیری عسکریت پسندوں کے ایک معروف رہنما برہان وانی کی سکیورٹی فورسز کے ہاتھوں ہلاکت کے بعد شروع ہوئے تھے اور اس تصادم کے دوران اتوار کی شام تک کم از کم 18 افراد ہلاک ہو چکے تھے۔

پولیس کے مطابق اتوار اور پیر کی درمیانی شب بھارتی سکیورٹی دستوں اور مشتعل کشمیری مظاہرین کے مابین اس تصادم نے مزید پانچ افراد کی جان لے لی، جن میں ان نوجوان لڑکی بھی شامل ہے۔ اس طرح آج پیر کے روز تک کشمیر میں اس نئی بدامنی کے دوران ہلاک ہونے والوں کی مجموعی تعداد اب 23 ہو گئی ہے۔

اے ایف پی نےلکھا ہے کہ بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں اس وقت جو خونریز مظاہرے ہو رہے ہیں، وہ اس ریاست میں 2010ء کے بعد سے اب تک سب سے ہلاکت خیز بدامنی ثابت ہوئے ہیں۔ یہ مظاہرے برہان وانی کی ہلاکت کے بعد شروع ہوئے تھے اور ہفتہ نو جولائی کے روز ریاست کے کئی شہروں میں جب ہزاروں کی تعداد میں مظاہرین سڑکوں پر نکل آئے تھے، تو حکام نے صورت حال کو قابو میں کرنے کی کوشش کرتے ہوئے وادیء کشمیر کے زیادہ تر حصوں میں کرفیو نافذ کر دیا تھا۔

سری نگر سے ملنے والی رپورٹوں میں بتایا گیا ہے کہ وادیء کشمیر میں آج تیسرے دن بھی معمول کی زندگی مکمل طور پر مفلوج رہی اور تمام دکانیں اور کاروباری مراکز بند رہے۔ اس کے علاوہ یہ اطلاعات بھی ہیں کہ مختلف شہروں میں بہت سے مظاہرین ایک مرتبہ پھر کرفیو کی خلاف ورزی کرتے ہوئے سڑکوں پر نکل آئے۔

وادیء کشمیر میں بدامنی کی اس نئی لہر کی وجہ کشمیری عسکریت پسندوں کے سب سے بڑے باغی گروپ حزب المجاہدین کے ایک بائیس سالہ کمانڈر کا موت بنی، جو جمعہ آٹھ جولائی کو بھارتی دستوں کے ساتھ ایک بڑی مسلح جھڑپ میں ہلاک ہو گیا تھا۔

حزب المجاہدین ان متعدد کشمیری عسکریت پسند گروپوں میں سے سب بڑا گروپ ہے، جو گزشتہ کئی عشروں سے کشمیر کی آزادی کا مطالبہ کرتے ہوئے وہاں موجود قریب پانچ لاکھ بھارتی سکیورٹی اہلکاروں کے خلاف اپنی مسلح جدوجہد جاری رکھے ہوئے ہیں۔

برہان وانی کی موت کے بعد سے ان پرتشدد مظاہروں میں اب تک 23 افراد کی ہلاکت کے علاوہ جو قریب 300 افراد زخمی بھی ہو چکے ہیں، ان میں 100 کے قریب پولسی اہلکار بھی شامل ہیں، جبکہ کئی مقامی ہسپتالوں کا کہنا ہے کہ اب ان کے ہاں زخمیوں کو علاج کے لیے داخل کرنے کی خاطر کوئی بستر باقی نہیں بچے۔ ان زخمیوں میں سے اکثریت ایسے مظاہرین کی بتائی گئی ہے جو یا تو سکیورٹی فورسز کی فائرنگ سے یا پھر ان کی طرف سے استعمال کی جانے والی آنسو گیس کی زد میں آ کر زخمی ہوئے۔

ایسی رپورٹیں بھی ملی ہیں کہ بھارتی سکیورٹی دستوں کی طرف سے زخمی ہو جانے والے مظاہرین کو بھی نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ سری نگر میں ڈاکٹروں کی ایک مقامی تنظیم نے اتوار کے روز بتایا کہ پولیس اہلکاروں نے متعدد زخمی مظاہرین کو نشانہ بنانے کے لیے ایک مقامی ہسپتال کے ایمرجنسی وارڈ میں بھی اس وقت آنسو گیس کے شیل فائر کیے، جب وہاں بہت سے زخمیوں کا علاج کیا جا رہا تھا۔

جمعے کے روز بھارتی دستوں کے ساتھ جھڑپ میں مارے جانے والے برہان وانی کے بارے میں اے ایف پی نے لکھا ہے کہ یہ 22 سالہ کشمیری عسکریت پسند رہنما مقامی نوجوانوں میں انتہائی مقبول تھا اور اس نے حزب المجاہدین نامی مسلح باغی گروپ میں 15برس کی عمر میں شمولیت اس وقت اختیار کی تھی، جب کشمیر میں موجود بھارتی فورسز نے مبینہ طور پر اس کے بھائی کو تشدد کا نشانہ بنایا تھا۔

DW.COM