1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

بھارتی کشمیر میں مزید چار شہری ہلاک

بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں پیر کو مظاہروں کے دوران چار مزید شہری ہلاک ہو گئے جبکہ اس دوران 15 افراد زخمی بھی ہوئے۔ وہاں گزشتہ تین ماہ کے دوران اس نوعیت کے مظاہروں میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد 69 ہو گئی ہے۔

default

پولیس کا کہنا ہے کہ ریاستی دارالحکومت سرینگر کے شمال میں 50 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع بارہ مولا میں سکیورٹی اہلکاروں نے احتجاجی مظاہرے میں شریک افراد پر فائر کھول دیا۔ اس موقع پر ہلاک ہونے والے چار مظاہرین میں سے دو نوجوان ہیں۔

Indien Kashmir Gewalt

بھارتی کشمیر میں مظاہروں کا تازہ سلسلہ گزشہ تین ماہ سے جاری ہے

خبررساں ادارے AFP کا کہنا ہے کہ ایک پولیس اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کہا، ’سکیورٹی فورسز نے اپنے دفاع میں فائر کھولا۔‘ اس پولیس اہلکار کے مطابق ایک شخص موقع پر ہی ہلاک ہو گیا جبکہ ایک نے اس وقت دم توڑا جب اسے ہسپتال لے جایا جا رہا تھا۔

بھارتی کشمیر میں اس نوعیت کے مظاہروں کا سلسلہ رواں برس جون سے جاری ہے اور اس دوران اب تک ہونے والی ہلاکتوں کی تعداد 69 ہو گئی ہے۔ ہلاک ہونے والوں میں سے نصف نوجوان ہیں جبکہ ایک نو سالہ بچہ بھی ہلاک ہو چکا ہے۔ حکام اس حوالے سے تفتیش کا حکم جاری کر چکے ہیں۔ انہوں نے ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کا عندیہ بھی دے رکھا ہے۔

دریں اثنا جرمن خبررساں ادارے DPA نے بھارت کے مقامی ذرائع ابلاغ اور حکام کے حوالے سے وادئ کشمیر میں سات شدت پسندوں اور ایک فوجی کے ہلاک ہونے کی اطلاع بھی دی ہے۔ ڈی پی اے نے بھارتی خبررساں ادارے پی ٹی آئی کے حوالے سے بتایا کہ پیر کو بعدازاں وادئ کشمیر میں لڑائی کے مختلف واقعات میں سات شدت پسند اور ایک فوجی ہلاک ہوا۔ پی ٹی آئی کا کہنا ہے کہ سکیورٹی فورسز کا پاکستانی زیر انتظام کشمیر کے راستے گیورز سیکٹر میں داخل ہونے والے باغیوں سے تصادم ہوا، جس میں چار شدت پسند اور ایک فوجی ہلاک ہو ا۔

ایسی ہی ایک جھڑپ شمالی علاقے کپواڑہ کے جنگلات میں ہوئی۔ وہاں تین عسکریت پسند ہلاک ہوئے۔

Indien Armee

بیشتر شہریوں کی ہلاکت کی ذمہ داری سکیورٹی فورسز پر ڈالی گئی ہے

واضح رہے کہ بھارت اپنے زیرانتظام کشمیر میں لڑنے والے انتہاپسندوں کی پشت پناہی کا الزام پاکستان پر عائد کرتا ہے۔ دہلی حکومت کا یہ بھی کہنا ہے کہ اسلام آباد کشمیر میں مسائل کھڑے کرنے کے لئے علیحٰدگی پسند رہنماؤں کی حوصلہ افزائی کرتا ہے۔ تاہم اسلام آباد حکومت اِن الزامات کی تردید کرتی ہے۔

دونوں ممالک کشمیر ہی کے معاملے پر اب تک دو جنگیں لڑ چکے ہیں جبکہ بھارتی زیرانتظام کشمیر میں 1980ء کی دہائی سے جاری مسلح مزاحمت میں اب تک 45 ہزار افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

رپورٹ: ندیم گِل/خبررساں ادارے

ادارت: شادی خان سیف

DW.COM

ویب لنکس