1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

’بھارتی کشمیر میں جیش محمد کا کمانڈر ہلاک‘

بھارت کے زیر انتظام کشمیر کی پولیس نے کہا ہے کہ پاکستانی عسکریت پسند گروہ جیش محمد کے اعلیٰ کمانڈر کو ہلاک کر دیا گیا ہے۔ اس گروپ کو بھارتی کشمیر میں متعدد حملوں کے لیے ذمہ دار قرار دیا جاتا ہے۔

default

پولیس کا کہنا ہے کہ اس گروہ کے کمانڈر سجاد افغانی اور ان کا ایک باڈی گارڈ سری نگر میں فائرنگ کے دوران ہلاک ہوئے۔ کشمیر کے اعلیٰ پولیس اہلکار S.M. Sahai نے اس واقعے کی تصدیق کی ہے۔

افغانی کو قاری حامد کے نام سے بھی جانا جاتا ہے اور وہ اس خطے میں مطلوب اہم ترین عسکریت پسند تھے۔ پولیس کے مطابق وہ کشمیر کے شمالی علاقے میں کارروائیاں کر رہے تھے۔ پولیس نے ان کی ہلاکت کو ایک بڑی کامیابی قرار دیا ہے، جس کے نتیجے میں عسکریت پسندوں کا ایک حملہ روک دیا گیا ہے۔

ایس ایم نے کہا، ’دونوں عسکریت پسند پاکستانی شہری تھے۔ وہ دونوں ایک کار میں جا رہے تھے، جب پولیس نے انہیں روکا۔‘

خیال رہے کہ گزشتہ برس نومبر میں سری نگر میں تین نوجوانوں کی ہلاکت کے بعد وہاں ہونے والا فائرنگ کا یہ سب سے بڑا واقعہ ہے۔ پولیس نے ان نوجوانوں کو بھی جیش محمد کے ارکان قرار دیا تھا، تاہم انسانی حقوق کے گروپوں نے پولیس کے اس دعوے پر سوال اٹھائے تھے اور انہوں نے ان نوجوانوں کو طالب علم قرار دیا تھا۔

Indien Kaschmir Massenproteste in Srinagar Polizei

بھارتی کشمیر میں عسکریت پسند گزشتہ دو دہائیوں سے حکومت کے خلاف لڑ رہے ہیں

یہ عسکریت پسند گروہ بیس برس سے زائد عرصے سے بھارتی زیر انتظام کشمیر میں حکومت کے خلاف لڑ رہے ہیں۔ وہ پولیس اہلکاروں اور فوج کو نشانہ بناتے رہتے ہیں۔ سرکاری اعداد وشمار کے مطابق اس عرصے میں تشدد کے واقعات میں سینتالیس ہزار افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

کشمیر کی ریاستی اسمبلی میں 2001ء کے حملے کی ذمہ داری جیش محمد نے ہی قبول کی تھی جبکہ اس حملے کے نتیجے میں تقریباﹰ چالیس افراد ہلاک ہوئے تھے۔

پولیس کے ایک ترجمان کا کہنا ہے کہ جمعرات کو ہی سری نگر کے شمال مشرق میں پینتالیس کلومیٹر کے فاصلے پر جنگل میں ایک پینتیس سالہ شخص کی لاش ملی ہے، جسے گلا کاٹ کر ہلاک کیا گیا ہے جبکہ اس کے خاندان کے تین افراد ضلع کپواڑہ میں گرینیڈ حملے میں زخمی ہوئے ہیں۔

رپورٹ: ندیم گِل/خبررساں ادارے

ادارت: شادی خان سیف

DW.COM