1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

بھارتی کشمیر میں بھی ہلاکت خیز سیلاب

بھارت کے زیر انتظام جموں کشمیر میں گزشتہ کئی ہفتوں سے خونریز بدامنی اور ہلاکتوں کی زد میں آئی ہوئی وادیء کشمیر میں مون سون کی شدید بارشوں کے بعد آنے والے اچانک سیلابوں میں قریب 115 افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔

default

سری نگر میں پولیس ذرائع کے مطابق ان سیلابوں نے کشمیر میں سطحء سمندر سے کافی زیادہ بلندی پر واقع لداخ کے علاقے میں چند بڑے قصبوں کو خاص طور پر متاثر کیا۔ لداخ میں مقامی ذرائع کی رپورٹوں کا حوالہ دیتے ہوئے سری نگر میں پولیس حکام نے بتایا کہ اب تک سیلاب زدہ علاقوں سے کم ازکم 88 لاشیں برآمد کی جا چکی ہیں جبکہ درجنوں شہری ابھی تک لاپتہ ہیں۔

Tempelanlage in Mulbeckh, Ladakh Region, Indien

کشمیر میں سطحء سمندر سے کافی زیادہ بلندی پر واقع لداخ کے علاقے کو سیلاب نے خاصا متاثر کیا

اچانک آ جانے والے سیلابی ریلوں کی وجہ سے مختلف واقعات میں زخمی ہونے والوں کی تعداد بھی 300 سے زائد بتائی گئی ہے۔ لداخ مسلم اکثریتی آبادی والے کشمیر کے جنوب مشرق میں واقع ہے، جہاں زیادہ تر مقامی باشندے بدھ مت کے پیروکار ہیں اور یہ علاقہ بہت بلندی پر ٹریکنگ کے شوقین مہم جو سیاحوں کا پسندیدہ مقام ہے۔

بہت شدید اور مسلسل بارشوں کے بعد جمعے کی رات آنے والے اچانک سیلابوں کو ریاستی وزیر سیاحت جوڑا نے ایسی تباہی کا نام دیا، جو پہلے کبھی دیکھنے میں نہیں آئی تھی۔ مختلف خبر رساں اداروں کے مطابق لداخ میں Leh کے قصبے اور اس کے گرد و نواح کے علاقوں میں سیلابی ریلے نے کئی دیہات کے مکینوں کے اس وقت اپنی زد میں لے لیا، جب وہ اپنے گھروں میں سوئے ہوئے تھے۔ اسی لئے صرف اس قصبے اور اس کے مضافات میں سب سے زیادہ ہلاکتیں ہوئیں، جن کی تعداد 60 کے قریب بنتی ہے۔

وزیر سیاحت جوڑا نے فرانسیسی خبر ایجنسی اے ایف پی کو ایک ٹیلی فون انٹرویو میں بتایا کہ مرنے والوں کی تعداد میں اضافے کا خدشہ ہے کیونکہ امدادی کارکن ابھی تک سارے ہی متاثرہ علاقوں تک نہیں پہنچ پائے۔ جوڑا کے بقول سیلاب زدہ علاقوں میں فوری امدادی کاموں کے لئے فوج بھی طلب کر لی گئی ہے۔

Volkstänzerinnen in Ladakh

لداخ سیرو سیاحت کے لیے بہت مشہور ہے یہاں سیاحت کا سیزن اگست سے شروع ہوتا ہے

لداخ کے خطے میں آنے والے اس سیلاب کا پانی اتنا تیز رفتار تھا کہ اس نے سینٹرل ریزرو پولیس فورس کے ایک کیمپ کے ایک حصے کو بھی بری طرح متاثر کیا۔ اس پولیس فورس کے ترجمان پربھاکر ترپاٹھی نے بتایا کہ سیلابی ریلے کی زد میں اس فورس کی درجنوں گاڑیاں بھی آ گئیں، جنہیں سیلابی پانی بہا کر بہت دور تک لے گیا۔

لداخ میں سیاحتی سیزن اگست میں شروع ہوتا ہے، جب بہت زیادہ تعداد میں ملکی اور غیر ملکی سیاح وہاں جاتے ہیں اور یہ سلسلہ سردیوں کے اوائل تک جاری رہتا ہے۔

بھارتی فضائیہ کی ایک خاتون ترجمان پریا جوشی کے مطابق سیلابی پانی لداخ ائیر پورٹ پر بھی پہنچ گیا، جس کے باعث رن وے پر مٹی کی تہہ جم جانے کے بعد یہ ہوائی اڈہ عارضی طور پر بند کرنا پڑ گیا۔ ترجمان نے یقین ظاہر کیا کہ یہ ایئر پورٹ جلدہی دوبارہ کھول دیا جائے گا۔

رپورٹ: عصمت جبیں

ادارت: مقبول ملک

DW.COM

ویب لنکس