1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

بھارتی کشمیر میں اطلاعات کا ’بلیک آؤٹ‘

بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں آٹھ روز سے جاری بے امنی کے دوران کرفیو تو پہلے ہی نافذ تھا تاہم اب بعض ذرائع کے مطابق قانون نافذ کرنے والے اداروں نے مقامی ذرائع ابلاغ کے خلاف بھی کارروائی شروع کر دی ہے۔

بعض اطلاعات کے مطابق بھارتی پولیس نے کشمیر میں معروف مقامی اخبارات کی کاپیوں کو ضبط کرتے ہوئے چھاپے خانوں میں کام کرنے والے متعدد ا فراد کو گرفتار کر لیا ہے۔ ناقدین کے مطابق نئی دہلی حکومت کشمیر سے متعلق خبروں پر پابندی عائد کرنا چاہتی ہے۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی نے لکھا ہے کہ گزشتہ شب معروف مقامی اخباروں کی پرنٹنگ پلیٹس قبضے میں کر لی گئی ہیں۔ مزید یہ کہ بھارتی کشمیر میں انٹرنیٹ اور موبائل سروس پہلے ہی بند ہے اور اب حکومت نے کیبل ٹیلی وژن پر بھی نشریات روک دی ہے۔ انگریزی زبان کے ایک اخبار نے اپنی ویب سائٹ پر لکھا ہے،’’ہفتے کی رات پولیس نے ہمارے پرنٹنگ پریس پر چھاپا مارا اور کشمیریوں کے لیے مختص کاپیاں اپنے قبضے میں کر لیں اور آٹھ ملازمین کو حراست میں بھی لیا‘‘۔ اس کے علاوہ کچھ اخبارات کے کاپیاں جو سری نگر کی کچھ دکانوں تک پہنچ گئی تھیں، انہیں بھی ضبط کر لیا گیا۔

اے ایف پی کے مطابق بھارتی حکومت کشمیر میں تشدد سے متعلق خبریں کو عام کرنے سے روکنا چاہتی ہے۔ ایک اور اخباری گروپ نے بتایا، ’’پولیس والوں نے ’گریٹر کشمیر‘ نامی اخبار کی پلیٹیں اور اردو اخبار ’کشمیر عظٰمی‘ کی پچاس ہزار سے زائد کاپیوں کو ضبط کر لیا اور ساتھ ہی چھاپے خانے کو بھی بند کر دیا۔‘‘

یہ متنازعہ علاقہ آٹھ جولائی سے علیحدگی پسند کمانڈر برہانی وانی کی ہلاکت کے بعد سے تشدد کی لپیٹ میں ہے اور اس دوران کم از کم 39 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ احتجاج کے دوران مظاہرین نے کئی تھانوں اور فوجی گاڑیوں کو نذر آتش کر دیا اور مختلف فوجی علاقوں پر پتھراؤ بھی کیا۔ ان واقعات میں زخمیوں کی تعداد تین ہزار بتائی جا رہی ہے اور پولیس کی جانب سے چھّرے فائر کیے جانے کی وجہ سے متعدد افراد بینائی سے محروم ہو گئے ہیں جب کہ بہت سوں کی آنکھیں زخمی ہیں۔

2010ء میں بھارتی کے زیر انتظام کشمیر میں جھڑپوں کے دوران 120 افراد ہلاک ہوئے تھے اس کے بعد سے یہ اب تک کے خون ریز ترین فسادات ہیں۔ اس علاقے میں پہلے ہی پانچ لاکھ فوجی تعینات ہیں اور نئی دہلی نے حالات پر قابو پانے کے لیے مزید دستے روانہ کر دیے ہیں۔