1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

بھارتی کشمیر: حملے میں تین مزدور ہلاک

بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں ایک کمیپ پر حملے میں تین مزدور ہلاک ہو گئے ہیں۔ پولیس مفرور حملہ آوروں کی تلاش میں مختلف جگہوں پر چھاپے مار رہی ہے۔

بھارتی فوج کے ایک ترجمان منیش مہتا نے بتایا،’’دہشت گردوں نے صبح ایک بج کر تیس منٹ پر یہ حملہ کیا۔‘‘ ان کے بقول یہ واقعہ اخنور کے علاقے میں پیش آیا۔ بتایا گیا ہے کہ نامعلوم حملہ آوروں کی تعداد دو یا اس سے زیادہ تھی۔ منیش مہتا کے بقول جنرل ریزور انجینیئرنگ  فورس ’جی آر ای ایف‘  کے اس کیمپ میں موجود زیادہ تر مزدور تعمیراتی شعبے سے تعلق رکھتے تھے اور وہ علاقے کی سڑکیں تعمیر کر رہے تھے۔

اخنور کا علاقہ پاکستانی سرحد سے متصل ہے۔ حکام کے بیان کے مطابق،’’اس دہشت گردانہ حملے میں’جی آر ای ایف‘ کے لیے کام کرنے والے تین مزدور ہلاک ہوئے جبکہ آٹھ زخمی ہیں۔‘‘ اس بیان میں مزید بتایا گیا کہ حملہ آور فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے،’’علاقے کی ناکہ بندی کر دی گئی ہے اور تلاش جاری ہے۔‘‘ اس موقع پر حکام نے بتایا کہ انہیں بھی حملہ آوروں کی اصل تعداد کا علم نہیں ہے۔

جموں کے علاقے میں حفاظتی انتظامات انتہائی سخت بنا دیے گئے ہیں۔ اس کی وجہ پاکستان اور بھارت کے مابین شدید کشیدگی ہے۔ اس تناؤ میں اضافہ اس وقت ہوا، جب گزشتہ برس ستمبر میں ایک بھارتی فوجی چوکی پر حملے میں انیس فوجی ہلاک ہو گئے تھے۔ نئی دہلی حکومت اس واقعے کی ذمہ داری پاکستان پر عائد کرتی ہے۔

بھارت کے زیر انتظام کشمیر 1980ء کی دہائی سے بد امنی کا شکار ہے۔ اس دوران رونما ہونے والے پرتشدد واقعات کے دوران اب تک چوالیس ہزار افراد ہلاک ہو چکے ہیں، جن میں عام شہری، فوجی ہلکار اور علیحدگی پسند شامل ہیں۔ بھارتی کشمیر میں تقریباً پانچ لاکھ فوجی تعینات ہیں۔